مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ

ایک بار مولانا رومی رح اپنے مریدوں کے ہمراہ ایک تنگ گلی سے گزر رہے تھے۔ اتفاق سے وہاں ایک کتا اس طرح سو رہا تھا کہ راستہ بند ہو گیا تھا۔ مولانا چلتے چلتے رک گئے اچانک ایک شخص جو مولانا روم کو جانتا تھا گلی کی دوسری جانب سے آ رہا تھا۔ اس نے مولانا کو کھڑا دیکھ کر کتے کو پتھر مارا۔ وہ چیختا ہوا بھاگ گیا۔۔۔۔ راستہ تو صاف ہو گیا لیکن مولانا کے چہرے پر خفگی کے آثار صاف نظر آ رہے تھے جب وہ شخص قریب آیا تو آپ نے اس سے فرمایا۔ ”اے بندہ خدا تو نے ایک جانور کی دل آزاری کر کے کیا پایا؟ میں کچھ دیر اور اس کے جاگنے کا انتظار کر لیتا۔“
مولانا روم کےمسلک میں دل آزاری گناہ عظیم تھی۔ اگر کوئی چیونٹی بھی آپ کے پیروں کے نیچے آ کر کچلی جاتی تو مولانا کو بہت دکھ ہوتا اکثر اوقات لوگوں کا دل رکھنے کیلئے بڑے سے بڑا نقصان برداشت کر لیتے۔ ایک مرتبہ مولانا روم بازار سے گزر رہےتھے۔ لوگوں نے آپ کو آتا دیکھا تو اپنی اپنی دکانوں پر احتراماً کھڑے ہو گئے جب کچھ لڑکوں کی آپ پر نظر پڑی تو وہ بھاگتے ہوئے آئے اور آپ کے ہاتھوں کو بوسہ دینے لگے مولانا بچوں کو خوش کرنے کیلئے جواباً ان کے ہاتھ چوم لیتے۔ ایک لڑکا کسی کام میں مشغول تھا اس نے چلا کر کہا۔ ”مولانا ابھی جائیے گا نہیں میں ذرا کام سے فارغ ہو جائوں۔“ مولانا نے اس کی آواز سنی اور مسکرانے لگے پھر آپ بہت دیر تک اس لڑکے کے انتظار میں کھڑے رہے جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر آیا تو اس نے مولانا کے ہاتھوں کو بوسہ دیا تب آپ تشریف لے گئے۔ اسی طرح ایک دن بھرے بازار میں دو آدمی لڑ رہے تھے اور ایک دوسرے کو فحش گالیاں دے رہے تھے ان میں سے ایک کہہ رہا تھا۔ ”او شیطان! اگر تو ایک کہے گا تو دس سنے گا۔۔۔۔“ مولانا روم اس طرف سے گزر رہے تھے آپ اس شخص کےقریب گئے اور فرمایا۔ ”بھائی تمہیں جو کچھ کہنا ہے مجھے کہہ ڈالو اگر تم ہزار کہو گے تو جواب میں ایک بھی نہ سنو گے۔“ مولانا کے حسن کلام نے دونوں کو شرمندہ کر دیا یہاں تک کہ وہ باہمی رنجش کو ختم کر کے آپس میں دوست ہو گئے۔
یہ تھے حضرت مولانا جلال الدین رومی رح جو نصف صدی تک بےشمار بندگان خدا کا روحانی علاج کرتے رہے مگر یہ قدرت کا ایک عجیب نظام ہے کہ وقت معلوم پر بیماروں کی طرح مسیحا کو بھی دنیا سے رخصت ہونا پڑتا ہے۔۔۔۔ اور اب وہ سنگین وقت نزدیک آ پہنچا تھا۔ یہ 670ھ کا واقعہ ہے۔ ایک دن قونیہ میں زبردست زلزلہ آیا۔ لوگ خوف و دہشت سے چیخنے لگے پھر مسلسل چار دن تک زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے جاتے رہے۔ شہر میں ایک قیامت سی برپا تھی قونیہ کے کسی باشندے کو بھی اپنی زندگی کا بھروسہ نہیں تھا کہ کب زمین میں شگاف پڑے اور وہ اپنے ساز و سامان کے ساتھ ملک عدم روانہ ہو جائے۔ اس مسلسل اذّیت ناک صورت حال سے گھبرا کر اہل شہر مولانا روم کی خانقاہ میں حاضر ہوئے اور آپ سے دعا کی درخواست کرنے لگے۔
مولانا روم نے حسب عادت دلنواز تبسم کے ساتھ فرمایا۔ ”زمین بھوکی ہے لقمہ تر چاہتی ہے۔ انشاء اللہ اسے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہو گی۔“ پھر لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ”کوئی شخص ہراساں نہ ہو جس پر گزرنا ہے گزر جائے گی۔“ انسانی ہجوم مطمئن ہو کر اپنے گھروں کو چلا گیا۔ مولانا کے اس ارشاد کے بعد ہی زلزلہ تھم گیا تھا۔ شہر قونیہ کی گم شدہ رونق لوٹ آئی تھی۔۔۔۔ مگر دوسرے دن ایک خبر نے لوگوں سے یہ ساری خوشیاں چھین لیں۔ مولانا روم اچانک شدید بیماری کا شکار ہو گئے تھے پورا شہر عیادت کیلئے امڈ آیا۔ بہترین طبیبوں نے علاج کیا لیکن مرض لحظہ بہ لحظہ بڑھتا گیا۔ مریدوں اور خادموں نے رو رو کر کہا۔ ”آپ کی دعائوں سے بےشمار مریضوں نےصحت پائی ہے آج آپ ہماری خاطر اپنی صحت کیلئے دعا فرما دیجئے۔“ مولانا نے عقیدت مندوں کی گفتگو سن کر دوسری طرف منہ پھیر لیا حاضرین سمجھ گئے کہ وقت آخر قریب آ پہنچا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا دوسرے دن غروب آفتاب سے ذرا پہلے مولانا روم اپنے خدا کی وحدانیت اور خاتم النبین کی رسالت پر گواہی دیتے ہوئےرخصت ہو گئے۔
قونیہ میں گھر گھر صف ماتم بچھ گئی۔ ہزاروں انسانوں نے شدت غم میں اپنے گریبان پھاڑ ڈالے جنازہ اٹھا تو انسانوں کا ایک سیل رواں تھا جو اپنے روحانی پیشوا کو آہوں اور اشکوں کا آخری نذر پیش کرتا ہوا قبرستان کی طرف جا رہا تھا بادشاہ وقت بھی جنازے میں شریک تھا۔ میت کے آگے سینکڑوں عیسائی اور یہودی بھی انجیل اور توریت مقدس کی آیات پڑھتے ہوئے چل رہے تھے۔ ان غیرمسلموں کی آنکھیں اشکبار تھیں اور ہونٹوں پر جانگداز نوحے تھے۔ مولانا روم کی عظمت کی یہ ایسی روشن دلیل تھی جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔ انہیں زیر زمین سوئے ہوئےصدیاں گزر گئیں۔ مگر آج بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زندہ ہیں۔