*واٹسپ پرطلاق واقع ہونے کا حکم کیا ہے؟*

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسٸلہ میں کہ بیوی نے اپنے شوہر کو واٹسپ میں لکھا کہ مجھے طلاق دیدو تو شوہر نے طلاق طلاق طلاق لکھا تو کیا طلاق واقع ہوگٸ اور ہوٸی تو کونسا قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماٸیں؟
*🌹ساٸل : فرید اظہر سکھے ٹانڈ 🌹*
‭‮‭‮◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب :*
*صورت مسئولہ میں اگر بیوی نے اپنے شوہر کو واٹسپ میں لکھ کر بھیجا کہ مجھے طلاق دیدو تو شوہر اس کے جواب میں طلاق ، طلاق ، طلاق تین مرتبہ لکھ کر بھیجا تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی کیونکہ میسیج کی حیثیت ” خط و کتابت ” کی ہے یعنی میسیج کی تحریر خط و کتابت کے حکم میں ہے شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کے فقہی سیمینار 4 جولائی 2010 میں اس پر فیصلہ پوچکا ہے اور خط و کتابت سے یعنی بذریعہ تحریر طلاق ہوجاتی ہے لہذا میسیج کے ذریعہ طلاق دینے اور شوہر کا اقرار طلاق کر لینے کے بعد طلاق واقع ہوجائے گی ہاں بذریعہ میسیج طلاق دینے میں شوہر کا اقرار ضروری ہے جیسا کہ امام اہل سنت سیدی اعلیحضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ ” اگر سلیمان ( تحریری طلاق دینے والا ) کو اس تحریر کا اقرار ہے یا گواہان عادل ثابت ہے تو بیشک صغری پر تین طلاق پڑ گئیں ” اھ**📕 ( فتاوی رضویہ ج 5 ص 653 رضا اکیڈمی ممبئی )*
*🏷 اور فتاوی شامی میں ہے کہ ” يا فلانة اذا اتاك كتابى هذا فانت طالق طلقت بوصول الكتاب ” اھ*
*📚 ( فتاوی شامی ج 4 ص 456 )*
*📿لہذا مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ جب خط و کتابت اور تحریر سے طلاق ہوجاتی ہے اور میسیج تحریر و خط کے حکم میں ہے تو میسیج کے ذریعہ دی گئی طلاق بھی واقع ہوجائے گی یعنی اگر شوہر میسیج کے ذریعہ طلاق کا مضمون لکھ کو بھیجنے اور طلاق کا اقرار کرے تو میسیج کے ذریعہ طلاق ہو جائے گی ۔*
*📤تفصیل کے لئے ” موبائل فون کے ضروری مسائل ” کا مطالعہ کریں ۔**🌹واللہ اعلم بالصواب🌹*
‭‮‭‮◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*✍شرف قلم حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*
*۳۰ اکتوبر بروز منگل ۲۰۱۸*