ہائی ڈپازٹ کے جواز کی صورت

⚡ ہائی ڈپازٹ کے جواز کی صورت ⚡
⚡کرایہ کی دکان یا مکان کو کرایہ پر دینا ⚡
💥السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
زید نے خالد سے ہائی ڈپازٹ پر ایک مکان یا دکان لیا پھر اسی مکان یا دکان کو بکر کو کرایہ پر دیدیا.
یہ بات واضح رہے کہ ہائی ڈپازٹ کی دو صورتیں ہیں:
١- بغیر کرایہ
٢-کرایہ بہت کم
دونوں کی روشنی میں درج ذیل سوال کا جواب عنایت فرمائیں : کہ اس طرح مکان یا دکان لینا کیسا ہے؟
اگر ناجائز ہے تو کوئی جائز کی راہ نکلتی ہے یا نہیں؟
اگر اس طرح کسی نے دکان یا مکان لیا پھر اسی کو کرایہ پر دیدیا تو کیا اس کا یہ عمل جائز ہے؟
اگر ناجائز ہے تو اس کے جائز ہونے کی کیا صورت ہوگی؟
بینوا مع الدليل وتوجروا عند اللہ. 💥
المستفتی:ابو حماد قادری
✨✨✨✨✨✨✨
الجواب- ہائی ڈپازٹ کی صورت یہ ہے کہ مالک کو ایک بڑی رقم دی جاتی ہے اور اس کے عوض اسکی دکان یا مکان سے ایک متعینہ مدت تک بغیر کسی عوض کے فائدہ اٹھایا جاتا ہے پھر جب وہ دکان چھوڑتا ہے تو مالک اس کے روپیہ واپس کر دیتا ہے اور یہ صورت قرض پر نفع حاصل کرنے کی ہے جو کہ ناجائز وحرام ہے حدیث شریف میں ہے”کل قرض جر منفعۃ فھو ربا”(کنز العمال,ج۶,ص۲۳۷) جس قرض کی وجہ سے نفع ہو وہ حرام ہے)
البتہ فقہاءکرام نے جواز کی یہ صورت نکالی ہے کہ ہائی ڈپازٹ کے ساتھ کچھ روپیہ مثلا سوروپیہ ماہانہ بھی کرایہ کے مقرر کرلے تو اب یہ اجارہ کی صورت ہوگی جوکہ جائز ہے در مختار میں ہے”تصح اجارۃ حانوت ای دکان ودار بلا بیان ما یعمل فیھا لصرفہ للمتعارف وبلا بیان من یسکنھا فلہ ان یسکنھا غیرہ باجارۃ وغیرہا”(ج۹,ص۴۶)
لہذا زید نے اگر ہائی ڈپازٹ پر کچھ روپیہ کرایہ کے مقرر کرکے مکان یا دکان لی تو جائز ہے ورنہ نہیں
زید کا بکر کو وہی مکان یا دکان کرایہ پر دینا جائز ہے جبکہ بکر ایسا کام نہ کرے جس سے دکان یا مکان کو نقصان ہو نیز زید بکر سے اتنا ہی کرایہ وصول کرے جتنا وہ خود مالک مکان کو دیتا ہے اگر زاید وصول کیا تو اس زاید رقم کو صدقہ کرنا واجب ہے البتہ کرنسی جدا جدا ہو تو زاید لے سکتا ہے یا پھر مکان میں کچھ مرمت,رنگ وغیرہ کرادے تو اب زید بکر سے زاید رقم لے سکتا ہے در مختار میں ہے”غیر انہ لا یسکن حدادا او قصرا او طحانا من غیر رضا المالک او اشترطہ ذالک فی عقد الاجارۃ لانہ یوھن البناء فیتوقف علی الرضا”(ج۹,ص۴۶-۴۷) ردالحتار میں ہے”للمستاجر ان یوجر الموجر ای ما استاجرہ بمثل الاجرۃ الاولی او بانقص فلو باکثر تصدق بالفضل (ج۹,ص۱۵۲)
ہندیہ میں ہے “واذا استاجر دارا وقبضھا ثم آجرھا فانہ یجوز ان آجرھا بمثل ما استاجرھا او اقل وان آجرھا باکثر مما استاجرھا فھی جائزۃ ایضا الا انہ ان کانت الاجرۃ الثانیۃ من جنس الاجرۃ الاولی فان الزیادۃ لا تطیب لہ ویتصدق بھا وان کانت من خلاف جنسھا طانت لہ الزیادۃ ولو زاد فی الدار زیادۃ کما لو وتد فیھا وتدا او حفر فیھا بئرا او طینا او اصلح ابوابھا او شیئا من حوائطھا طابت لہ الزیادۃ واما الکنس فانہ لا یکون زیادۃ ولہ ان یواجرھا من شاء الا الحداد والقصار والطحان وما اشبہ ذالک مما یضر بالبناءویوھنہ ھکذا فی السراج الوھاج”(عالمگیری,کتاب الاجارۃ,الباب السابع فی اجارۃ المستاجر)
ایسا ہی بہار شریعت حصہ ۱۴ میں ہے
واللہ تعالی اعلم
✍ شان محمد المصباحی