*ہم غمگین کیوں ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟*

*​🖋💠🌹سبق آموز کہانیاں🌹💠🖋*

*ہم غمگین کیوں ہوتے ہیں۔۔۔؟؟؟*
★حضرت ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شخص کو اداس اور غمگین دیکھا تو اس سے کہا مجھے بس میری تین باتوں کا جواب دیدو، اس آدمی نے کہا جی پوچھیں: ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا
1-کیا؛ اس دنیا میں کوئی ایسا کام ہو رہا ہے جو اللہ تعالٰی نہ چاہتے ہوں۔ اس آدمی نے کہا نہیں۔
2-ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا؛ کیا جو کچھ اللہ پاک نے تیرے لیئے رزق لکھ دیا ہے اس میں کوئی کمی آ جائے گی؟ اس آدمی نے کہا نہیں۔
3-ابراہیم بن رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا؛ کیا تیری زندگی میں سے کوئی ایک لمحہ بھی کسی طرح کم ہو جائے گا؟ اس آدمی نے کہا نہیں۔
ابراہیم بن ادہم رحمتہ اللہ علیہ نے اس آدمی سے پوچھا؛ تو پھر اپنے اس غمگین ہونے کی وجہ بتادو۔۔۔؟؟؟
*حاصل کلام:-جب بھی کسی انسان پر کوئی مصیبت و آفت یا برا دور آتا ہے تو ٩٩% لوگ پریشان و غمگین رہنے لگتے ہیں، جبکہ انکے اس پریشان و غمگین رہنے سے اس دور کے گزرنے کے بعد کے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ اس دور کو اگر صبر کے ساتھ ہنسی خوشی اَللّٰهْ کی عنایت سمجھ کر قبول کیا جائے تو اس دنیا میں نہ سہی مگر آخرت میں اجرعظیم کی امید اللّٰه تعالٰی سے رکھنی چاہیئے۔*
●•●•●•●•●•●•●•●•●•●•●•●•●•●•
*​اسمیں کسی بھی قسم کی ترمیم کرکے گنہگار نہ بنیں​