“بہت خوبصورت اصلاحی تحریر”

Zaib Nisa
============
” آج کی عورت کو بےحجاب اور بےباک کرنے میں مرد بھی برابر کا زمےدار ہے”

دوستو یہ بھی سوچا کریں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ، جیسے مردوں میں اچھے اور برے دونوں لوگ پائے جاتے ہیں بلکل اسی طرح عورتوں میں بھی آپ کو ماڈرن اور فیشن زدہ خواتین کے ساتھہ ایسی بہنیں بھی دیکھنے کو ملیں گی جن کی زندگی ایثار و قربانی کی جیتی جاگتی مثال ہوگی

ھمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم عورت سے ہر روپ میں صرف قربانی ہی مانگتے ہیں اسے وہ مقام نہیں دیتے جو اسلام نے اسے دیا ہے ، اسلام نے عورت کو اس دور میں تحفظ اور حقوق دئیے جب پوری دنیا میں عورت کو پاؤں کی جوتی سے بھی بدتر سمجھا جاتا تھا ، اسلام میں عورتوں کے حقوق مردوں کے برابر ہیں جو اکثر ادا نہیں کئے جاتے ،

بے شک عورت کے بحیثیت ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے فرائض ہیں جنھیں پورا کرنا اس کا اولین فرض ہے مگر آپ کے بھی بحیثیت باپ ، بھائی ، شوہر کے بھی بہت سے فرائض ہیں جن سے آپ پہلو تہی نہیں کر سکتے. آپ کو تنقید کا حق صرف اس صورت میں حاصل ہے جب آپ بحیثیت مرد اپنے فرائض پوری طرح نبھا رہے ہوں

آپ جتنا بھی اس حقیقت سے اختلاف کریں مگر اس سچائی کو نہیں جھٹلا سکتے کہ آج کی عورت کو بے باک اور بے حجاب کرنے والے آپ مرد حضرات خود ہیں !!!

اور آج کے مرد کا قصور یہ ہے کہ وہ عورت کے معاملے میں بہت بڑا منافق واقع ہوا ہے ، مطلب یہ کہ As A bechelor تو وہ پوری عیاشی چاہتا ہے مگر ایک بھائی کے طور پر وہ چاہتا ہے کہ اسکی بہن پر کسی کی نظر نہ پڑے اور شوہر کے روپ میں وہ ایک Typical مرد بن جاتا ہے جسکی بیوی کو اور کوئی نہ دیکھے

گرل فرینڈ کو وہ ٹی شرٹ ، سکرٹ اور اور جینز میں لے کر Dates پر جا سکتا ہے مگر اپنی بیوی کو وہ شلوار قمیض میں ہی دیکھنا پسند کرے گا اور سب سے بڑھ کر بات جب اپنی بہن کی ہو تو پھر اس سے بڑا غیرتمند اور کوئی نہیں ہو گا ، اس کا کسی کے ساتھ چکر نکل آیا تو پھر تو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں یہ لوگ ، یہ سب کیا ہے ؟؟؟ منافقت ہی تو ہے نا ؟؟؟

اسلام نے جہاں عورتوں کو پردے کاحکم دیا ہے وہیں مردوں کو بھی اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے. آپ اگر پردے کے حامی ہیں تو سب سے پہلے خود سے شروعات کیجئے، اپنی نگاہوں کو جھکنے کی عادت ڈالئے. جب آپ کی نظروں میں شرم پیدا ہو جائے گی تو دل میں بھی احترام کا جذبہ جاگے گا.

اپنے گھروں کا ماحول ٹھیک کیجئے اسلامی ماحول متعارف کروائیے جس کا ہم میں سے اکثر کو بدقسمتی سے علم ہی نہیں.

اپنی ماؤں بہنوں کو پردے کی تاکید کیجئے ، دوسروں پر تنقید سے پرہیز کیجئے. آپ اپنے گھر کی عورتوں کے لئے عزت و احترام چاھتے ہیں تو پھر دوسروں کی ماؤں بہنوں کو بھی عزت و احترام دیجئے.

مجھے امید ہے کہ آپ اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ جب ہم اپنی اپنی اصلاح کرنے کا ارادہ کر لیں تو معاشرے کی اصلاح بآسانی ممکن ہو جاتی ہے. الله کریم ہم کو گناہوں کی دلدل میں ڈوبنے سے بچائے اور ہمیں دین کو سمجھنے کی اور اسکی تعلیمات پر عمل کی توفیق دے. آمين..
حکیم لقمان علی رانا