مولانا محمود مدنی نے اچانک استعفی دیا : استعفی_کیوں؟#

Mehdi Hasan Aini
==============


مولانا محمود مدنی صاحب نے جس طرح جمعیت علماء ھند سے اچانک استعفی دیا ہے اس سے ملت اسلامیہ ھند میں ایک اضطرابی کیفیت کا پیدا ہونا یقینی ہے،
مولانا محمود مدنی جدید ہندوستان کے مین اسٹریم میں اکلوتے ایسے مسلم رہنما ہیں جنہیں ملک کا ہر طبقہ پسند کرتا ہے
گزشتہ دس سالوں میں انہوں نے ملک کے مسلمانوں کو سماجی سطح پر مین اسٹریم میں لانے کے لئے ذاتی یا تنظیمی طور الگ الگ میدانوں میں جس قدر کوششیں کی ہیں وہ لائق ستائش ہی نہیں بلکہ قابل تقلید ہیں.
ملی اتحاد کے لئے ان کے کئی اقدامات تاریخ کے صفحات پر سنہرے لفظوں سے درج ہوچکے ہیں،
ان کی کئی باتوں سے اختلاف کے باوجود ملک کا اعلی دماغ انہیں ملت اسلامیہ کا دردمند ترجمان سمجھتا ہے
ایسے میں اپنے ذاتی اعذار کو بنیاد بناکر مولانا نے اگر جمعیت سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی بڑی حکمت یا پالیسی ہوگی،

ملت ھندیہ تقسیم جمعیت کے پہلے دن سے اتحاد چاہتی ہے اگر یہ قدم اتحاد کے لئے ہے تو سر آنکھوں!
لیکن اگر اس کے پیچھے دوسری وجوہات ہیں تو ملت کو مولانا محمود مدنی صاحب سے اتنا پوچھنے کا ضرور حق ہے کہ وہ اب ملت کے لئے جمعیت کے پلیٹ فارم کو چھوڑ کر کیا بہتر کریں گے یا ان کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

اس نازک موقع پر ہم تو رب کریم سے یہی دعا کرتے ہیں مولانا محمود مدنی صاحب کی جمعیت سے علیحدگی وقتی ہو اور تنظیم کے اتحاد کے لئے ان کا یہ قدم سنگ میل کی حیثیت اختیار کرے نیز ان کا یہ استعفی جمعیت علماء ھند اور ملت اسلامیہ ھند کی شیرازہ بندی کی نقیب بنے ناکہ انتشار کا سبب.
آمین یارب العالمین

از:مہدی حسن عینی قاسمی