نظم : تمہاری سانس کی خوشبو سے یہ غنچے مہکتے ہیں

Hajra Noorahmad – Writer/Poet, Teacher & Advocate from Nagpur
=============
نظم : .

(اقرار)
قسم سے ھم تمہاری یاد کا تکیہ
سرھا نے رکھ کے سوتے ہیں
ہماری آنکھ کے موتی
تمھارے نام کی مالا پروتے ہیں
قسم سے چاند اور تارے
ہمارے ساتھ نم دیدہ سے سوتے ہیں
تمہاری سانس کی خوشبو
سے یہ غنچے مہکتے ہیں
قسم سے بارشوں میں اب
تو ھم اندر ہی رہتے ہیں
سنہری وادیاں یا قاف کی
پریوں کے قصے ہوں
الف لیلیٰ کی باتیں ہوں
یا افسانوں کے حصے ہوں
قسم سے اب نہیں بھاتے
تمہارا ذکر نہ ہو
اس جگہ پر ھم نہیں جاتے
تمھارے دیس سے خوش رنگ
پرندے جو بھی آتے ہیں
منڈیروں پر نہیں ،
ھم ان کو پلکوں پر بٹھاتے ہیں
قسم سے اب تو مٹھی میں
کوئی جگنو نہیں رکھتے
قسم سے اب کتابوں میں
کوئی تتلی نہیں رکھتے
قسم سے ھم جو ہر اک
بات پر انکار کرتے ہیں
انا اور ضد کی اس دیوار
کو مسمار کرتے ہیں
ہمیں تم سے محبت ہے
.
.
.
.
.
.
.لو ھم اقرار کرتے ہیں .

=========

Hajra Noorahmad

میری کتاب “الفاظ کی سرگوشیاں” سے
वस्ल की याद को आहों में लिए बैठा हूँ
तेरी तस्वीर को बाहों में लिए बैठा हूँ
ज़रियाब