اس کی آنکهوں اور چہرے سے اس کی حالتِ زار عیاں ہو رہی تهی

Reyaz Ahmad
==================

سيد اياذ احمد

آج کے بعد تمہیں میرا مسیج یا کال نہیں آئے گی

سارا دن گزرنے کے بعد اس نے موبائل ہاتھ میں لیا اور یہ مسیج پڑهتے ہی ایک لمحے کے لئے ساکت ہوگیا،
وہ تین راتوں کے مسلسل اضطراب سے جاگتے رہنے کی وجہ سے سخت بیمار تها، خاص توجہ اور پیار کی ضرورت محسوس کر رہا تها کہ عین اُسی وقت اس مسیج نے اس کی مزید حالت بگاڑ دی،
رات کے سکوت میں بوجهل آنکهوں سے دبے دبے پاوں کے ساتھ وہ سب سے اُوپر والی منزل پر جا کر اکیلا بیٹھ گیا،


اس کی آنکهوں اور چہرے سے اس کی حالتِ زار عیاں ہو رہی تهی
اور طشتِ فلک کا آدها نمودار چاند بهی اس کی اس حالت پر زور دار قہقہے لگا رہا تها کہ اس نے جلتے ہوئے سگریٹ سے دوسری سگریٹ سلگائی اور خود سے ہم کلام ہوتے ہوئے یہ شعر

رد ِ دعا کا نصف اثاثہ تمہارے نام
تم نے بھی میرے ساتھ ہتھیلی اٹھائی تھی

بار بار پڑهتا گیا اور بے بسی سے ہاتھ ملتے ہوئے آنسو بہانے لگا