میرے خوابوں کے چراغ اور بھی غم رکھتے ہیں….سیما نقوی

Seema Naqvi – Lives in Toronto, Ontario
From Karachi, Pakistan

============
بس ایویں ہی، تازہ اور گرم گرم

‎حبس بیجا ہے، خون ناحق ہے
‎شاعری شاعرہ کو لاحِق ہے

‎سرخئ لب، قتالِ حرف مدام
‎حیف اس پر بھی آپ کا حق ہے ؟

شاعری وزن میں نہیں کرتی
یہ بھی اس خوش جمال کا حق ہے

تھوڑے فربہ کہیں پہ ہیں اشعار
اور کہیں لگ رہا ہے تپ دق ہے

شاعری میں اسی کی دم ہے جو
عقل کل ہے، زبان ناطق ہے

اک حسینہ کی ”کامیابی” سے
رنگ سب شاعروں کا کیوں فق ہے

کوئ تو بولتا مرے حق میں
جانے یہ حسن کی بھی کیا شق ہے

جنگ ایسی بحور میں صاحب
مصرع مصرع مثالِ خندق ہے

جو نہیں جانتا انہیں جانے
جو نہیں مانتا ہے احمق ہے

جیسے بس اک یہی ہیں سون پری
باقی تو ہر کوئی ہونق ہے

رنج بڑھتا ہے سو یہ مسئلہ کم رکھتے ہیں
نہ ہمیں یاد وہ رکھتا ہے نہ ہم رکھتے ہیں

صرف جلتا ہوا اک ہجر نہیں ان کا ملال
میرے خوابوں کے چراغ اور بھی غم رکھتے ہیں

ہم میں کچھ ایسی قناعت کی ہے خو بو سیما
کچھ بھی افراط سے ملتا ہے تو کم رکھتے ہیں

سیما نقوی