کرتار پور، خالصتان تحریک اور …!

آر ایس ایس کی بھرپور کوشش ہے کہ سکھ قوم کو کسی بھی طور ہندو دھرم کا ایک مگر ٹوٹا ہوا فرقہ ثابت کیا جائے، اس مقصد کیلئے آئے روز آر ایس ایس کے رہنمائوں کی جانب سے متنازعہ بیانات دیئے جاتے ہیں اور سکھوں کی مذہبی تاریخ کو بھی مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل جوگندر جسونت سنگھ (جے جے سنگھ) جو 31 جنوری 2005ء سے 30 ستمبر 2007ء تک بھارت کے آرمی چیف رہے، بھارتی فوج کے پہلے سکھ سربراہ تھے ۔ بعد ازاں موصوف 26 جنوری 2008ء سے 28 مئی 2013ء تک یعنی پانچ سال اروناچل پردیش (مقبوضہ) کے گورنر رہے۔ انھوں نے محض تقریباً تین ماہ پہلے شرومنی اکالی دل (ٹکسالی گروپ) میں شمولیت اختیار کی اور بھارتی پنجاب کے کھڈور صاحب حلقہ سے لوک سبھا الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ بھارتی سیاست کے ماہرین کے مطابق آگے چل کر جنرل جے جے سنگھ ، جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ممکنہ طور پر بھارتی پنجاب اور خالصتان تحریک کے ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جس کے ہندوستان کی داخلی سیاست پر نمایاں اثرات مرتب ہونگے ۔ بہرکیف یہ تو فی الحال مفروضہ ہے جس کی بابت آنے والا وقت ہی کوئی فیصلہ کریگا۔

1984ء میں سکھوں کی نسل کشی کے بعد سبھی بھارتی خفیہ اداروں کی ہدایت پر کانگرس اور خصوصاً BJP نے شعوری کوشش کی کہ سکھوں کو کسی بھی طورواپس قومی دھارے میں لایا جائے، اس مقصد کے لئے مختلف سطح پر بیک وقت کئی شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی گئیں۔ مثلاً ایک جانب 1986 میں RSS نے ’’ راشٹریہ سکھ سنگت‘‘ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کو انتہائی منظم اور مربوط طریقے سے پورے بھارت کے سکھوں میں پروان چڑھایا گیا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپریشن بلیو سٹار کے بعد سے بھارتی حکومت (بھلے ہی وہ کانگرس ہو یا BJP ) نے دانستہ طور پر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ سکھ درحقیقت ہندوئوں کا ہی ایک فرقہ ہے۔ اپنے اس خیال کو عملی شکل دینے کی غرض سے 2002ء میں انڈین آرمی کے سابق سکھ ایئرمارشل ’’ارجن سنگھ‘‘ کو ’’مارشل آف دی ایئر فورس‘‘ کا اعزاز دیتے ہوئے انھیں بھارتی ایئر فورس کا واحد ’’فائیو سٹار ایئرچیف ‘‘ بنانے کا انتہائی ’’غیر معمولی‘‘ قدم اٹھایا گیا ۔ یاد رہے کہ موصوف 1965ء کی جنگ کے دوران بھارت کے ایئر چیف تھے۔ یوں انہیں جنگ کے 37 برسوں بعد نجانے کس ’’خدمت ‘‘کے عوض یہ اعزاز بخشا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کی شہہ پر انڈین ایئر فورس کی پوری تاریخ پر بھاری یہ غیر معمولی قدم اٹھایا گیا جس کا مقصد صرف اور صرف یہی تھا کہ کسی بھی طور سکھ قوم میں موجود ہندو مخالف جذبات کو قدرے ٹھنڈا کیا جائے۔ واضح رہے کہ 16 ستمبر 2017 کو موصوف 98 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ بات ہو رہی تھی راشٹریہ سکھ سنگت ، RSS اور BJPکی ملی بھگت کی۔ 1986 میں راشٹریہ سکھ سنگت کے قیام کے بعد سے اب تک راجستھان، دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور خصوصاً پنجاب میں اس کی 500 سے زائد شاخیں قائم ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب بھارتی سکھوں میں بھی خاصی حد تک RSSاور بھارتی ایجنسیوں کی اس سازش کا ادراک ہو چکا ہے۔تبھی تو 2004ء میں ’’اکال تخت‘‘ کے اس وقت کے جتھے دار ’’جوگندر سنگھ ودیانتی‘‘ نے راشٹریہ سکھ سنگت کو ’’سکھ دشمن‘‘‘ تنظیم قرار دے دیا تھا۔ 2009ء میں ایک سکھ تنظیم ’’ببر خالصہ‘‘ نے اس وقت کے راشٹریہ سکھ سنگت کے سربراہ رُلدا سنگھ کو پٹیالہ میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اکتوبر 2017 میں اکال تخت کے جتھے دار گیانی گربچن سنگھ نے کہا تھا کہ ’’ RSS راشٹریہ سکھ سنگت کو استعمال کرتے ہوئے سکھ دھرم کو ہندو ازم میں ضم کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں، بھارت کے لئے نمایاں کارنامے انجام دینے والے سکھ بھی جب پنجاب سے باہر جاتے ہیں تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، سکھ دھرم ہندو مت سے بالکل علیحدہ مذہب ہے اور سکھ ایک علیحدہ قوم ہیں ، اگر RSS اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی تو اس کے نتائج خوش آئند نہیں نکلیں گے‘‘۔

غیر جانبدار مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سکھ قوم اور پاکستان کے مابین باہمی تعلق خاصی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے، جسے اس خطے کے کلچر کیلئے اچھا شگون قرار دیا جانا چاہیے، اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب کے لوگوں نے تقسیم ہندوستان کے انسانی المیے کو جتنا قریب سے دیکھا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، کیونکہ اکثر مبصرین متفق ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت تقریباً 10 لاکھ افراد موت کی بھینٹ چڑھ گئے اور ان میں سے 90 فیصد کا تعلق دونوں اطراف کے پنجاب ہی سے تھا۔ شاید یہی وجہ ہو کہ مشرقی پنجاب اور پاکستان حقیقی معنوں میں امن کے ’’متلاشی‘‘ ہیں۔ کرتار پور راہداری بھی اسی ضمن میں ایک بڑا قدم ہے۔ یوں بھی اگر یہ عمل آگے بڑھے تو اس کے دیر پا اثرات پورے جنوبی ایشیاء خصوصاً پاک و ہند کے مابین ثقافتی ہم آہنگی کا سبب بن سکتے ہیں اور آگے چل کر مقبوضہ جموں کشمیر کے منصفانہ حل میں بھی معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ثقافتی روابط بعض اوقات مذہبی روابط سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے میں آگے چل کر پورے جنوبی ایشیاء میں معاشی ترقی ،خوشحالی و رواداری کے دروازے کھلنے میں معاونت مل سکتی ہے، یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان کی حکومت، عوام اور پاکستان کی سول سوسائٹی پہلے ہی سے اس ضمن میں مقدور بھر مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری بھی اس حوالے سے اگر اپنا انسانی فریضہ نبھائے تو جنوبی ایشیا بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔

Disclaimer : مضمون کا تیسری جنگ اردو سے کوئی وسٹا نہیں ہے، جو بھی جھیلت اظہار کے گئے ہیں وو رائیٹر کے اپنے نجی ہیں

سورس : nawaiwaqt.com.pk