کڑی دھوپ : خفیہ اثاثوں کیلئے ایمنسٹی سکیم لانے کا اعلان ہوا ہے

میثاق جمہوریت تو سُن رکھاتھا اب میثاق معیشت ہونے جا رہا ہے۔ خفیہ اثاثوں کیلئے ایمنسٹی سکیم لانے کا اعلان ہوا ہے، بے نامی اکائونٹس، جائیدادیں، منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات سکیم میں ظاہر کر کے قانونی بنائے جاسکیں گے۔ نان فائلرز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی جائے گی، نان فائلرز کو جائیداد خریدنے کی اجازت دی جائے گی۔ صوبوں میں جائیداد کی خرید و فروخت کا ایک نظام لایا جائے گا۔ بجلی گیس کے بعد پانی کو بھی زبان لگ گئی۔ واسا نے پانی کی قیمتوں میں مرحلہ وار 97 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔ گھریلو صارفین کا ماہانہ پانی کا ٹیرف 300 سے بڑھ 591 روپے ہو جائیگا۔ اس اضافے کے بعد واسا کو حکومتی سبسڈی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ادویات کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بلڈ پریشر کی ایک دوا کی قیمت 180 روپے سے بڑھ کر 480 روپے ہو گئی ہے۔ ادویات کی 48 فیصد کمپنیوں کے مالکان اراکین اسمبلی بتائے جاتے ہیں جبکہ 23 فیصد کمپنیوں کے مالک نجی ہسپتالوں کے مالکان یا پھر سرکاری ہسپتالوں میں اہم عہدوں پر فائز بااثر افراد ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آخر کس لیے ہے؟ کیا ہم واقعی بھکاری معیشت بن چکے ہیں؟ پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں اور دس ارب درخت ۔ غربت مکائو کیلئے کونسا منتر پڑھا جائیگا؟ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 55 لاکھ گھروں میں چولہا جل رہا ہے۔ غربت مکائو کیلئے بھی کسی نئی وزارت کی ضرورت نہیں۔ کیا اس وزیر کا نام وزیر غربت ہو گا؟ وفاقی اور صوبائی سطح پر محکموں کی بھرمار ہے۔ ڈائون سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کو اسد عمر سے زیادہ کون جانتا ہے؟ پولیس اصلاحات سے پولیس والے کبھی نہیں بدلیں گے۔ تھانوں میں واحد تفتیشی افسر کی بجائے 3 رکنی تفتیشی ٹیم کا طریقہ شروع کیا جائے۔ تین کے تین بیک وقت بے ضمیر نہیں ہو جائیں گے۔ زندہ ضمیر والا ایک بھی تفتیشی افسر تفتیش کو ویٹو کر سکتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس عوام کی آواز ہیں کہ مہنگائی کا طوفان ہے مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ آئے روز کسی ملک کے سربراہ کو بلا کر اربوں روپے وصول کئے جاتے ہیں لیکن پٹرول پر ٹیکس ڈالر کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے، سونا 1000 روپے مہنگا، فی تولہ 72200 روپے کا ہو گیا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 143 کا بکنے لگا، یورو اور پائونڈ کی قیمتوں میں بھی اضافہ۔ جسٹس امیر محمد بھٹی کا کہنا ہے پہلے اتنی بے یقینی نہیں تھی، عوام کو کچھ ریلیف نہیں مل رہا، حکومت میں آنیاں جانیاں لگی ہیں۔ جنوبی پنجاب تو شاید صوبہ نہ بن سکے البتہ مالی سال 2019-20 ء میں بجٹ کے حوالے سے پنجاب پہلی بار3 حصوں میں تقسیم ہونے جا رہاہے۔ جنوبی پنجاب کی ترقی پر سب سے زیادہ 35 فیصد بجٹ خرچ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ وسطی پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 32 جبکہ شمالی پنجاب کا 33 فیصد ہو گا۔ پنجاب حکومت نے وزراء پارلیمانی سیکرٹریوں اور چیئرمین قائمہ کمیٹیوں کیلئے 77 نئی کاریں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں منظور ہونیوالا تنخواہوں اور مراعات میںاضافے کا بل عوام کو نہیں بھولا جبکہ غریب پر بالواسطہ ٹیکس لگا لگا کراس کی کمر توڑی جا رہی ہے۔ ہر ضرورت کی شے اس کی دسترس سے باہر کردی گئی ہے۔ لوگوں میں مایوسی کا عمل بڑھ رہا ہے۔ اسد عمر کی کارکردگی کھل کر سامنے آ گئی، لوگوں کا خیال تھا حکومت واقعی نیا پاکستان اور تبدیلی کے عمل کو یقینی بنائیگی لیکن اس کا مہنگائی جیسے معاملات پر کوئی کنٹرول نہیں۔ اسد عمر نے واضح کیا ہے کہ دو ہی آپشن ہیں دیوالیہ یا آئی ایم ایف پروگرام۔ دیوالیہ پن تو کسی کے وارے میں نہیں آتا۔ ہمیں ہی گدھے کو باپ بنانا پڑے گا۔

عمران خان کا کہنا ہے ایم کیوایم کے ساتھ نظریات ملتے ہیں۔ اگلاالیکشن مل کر لڑیں گے۔ ادھر نانا کے مزار پر بلاول کی للکار سب نے سُن لی کہ اٹھارویں ترمیم کو چھیڑا تو لات مار کر حکومت ختم کر دوں گا۔ انہوں نے سوال کیا آئین دینے والا غدار یا توڑنے والا۔ آئین دینے والا تو تختۂ دار پر جھول گیا اور توڑنے والا دوبئی میں مقدمات کو لات مار کر مزے سے محو استراحت ہے۔ زرداری نے سُسر کے مزار پر اعلان کیا میں جیل میں رہوں یا باہر حکمرانوں کو نکال کر ہی دم لیں گے۔ کارکن اسلام آباد جانے کی تیاری کریں۔ حکمرانوں کو نکالنے کا وقت آ گیا ہے۔ سڑکوں پر لیٹے رہیں گے۔ نکال کرواپس آئیں گے۔ ان جیسا دھرنا نہیں دیں گے۔ شام کو گھر چلے جائیں۔ طاہر القادری نے بھی دھرنے میںکفن منگوا لیے تھے لیکن حکمران ٹس سے مس نہیں ہوئے تھے۔ یہ تو عدالت عظمیٰ نے انہیں وزیر اعظم ہائوس سے نکلنے پر مجبور کیا تھا۔ عوام کے لیے مہنگائی سے بڑی خبر اور کوئی نہیں ہوتی۔ ایسی ہر خبر کا چرچا ملک کے طول و عرض میں زباں زدِعام ہوتاہے۔ قدرتی طوفان تو تھوڑی دیر بعد تھم جاتا ہے اللہ کو اپنے بندوں پر رحم آ جاتا ہے لیکن مہنگائی کا طوفان انسانوں کا لایا ہوا ہوتا ہے۔ اس لیے دعائوں سے بھی تھمنے میں نہیں آتا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان پر پہنچا کر دعویٰ اب بھی یہی ہے کہ نرخ دوسرے ملکوں سے اب بھی کم ہیں۔ اسد عمر نے عوام پر احسان فرماتے ہوئے کیا پٹرولیم مصنوعات پر حکومتی ٹیکس کم کیا؟ اس لیے قیمت زیادہ نہیں بڑھی؟ ادارہ شماریات نے تسلیم کیا ہے ایک ماہ میں 120 اشیاء مہنگی ہوئیں ۔ ایل پی جی کی قیمت میں 3.5 روپے کلو اضافہ ہوا ہے۔ ڈالر کی قدر بھی بڑھ گئی ہے۔ یورو، برطانوی پائونڈ کی قدر میں اضافے نے ہمارے روپے کی ناقدری بڑھا دی ہے۔ سونے کی قیمت میں 275 روپے فی تولہ اضافہ ہوا ہے۔ ریلوے کرائے بڑھانے کی سمری تیار ہے، دالیں 25 ، چاول 50 روپے کلو تک مہنگے ہوئے ہیں۔ ایک ماہ میں گوشت سبزیوں ، چینی ، مصالحہ جات ، آٹا ، چائے ، کافی سگریٹ میوہ جات گھی انڈے صابن ڈیری الیکٹرانک مصنوعات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہواہے۔ وکیلوں ، ڈاکٹروں ، ٹیچروں ، نائیوں ، دھوبیوں ، بیوٹی پارلروں اور درزیوں کے معاوضے بھی بڑھ گئے ہیں۔ مہنگائی 5 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ ڈالر تاریخی بلندی پر 143 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ کی نظر میں مہنگائی ضرور مگر 2008ء اور 2013ء سے کم ہے۔ان کی تھیوری یہ ہے کہ معیشت کی بہتری کی کوشش کریں تو مہنگائی بڑھتی ہے۔ معیشت کی بہتری میں 2 سال لگیں گے۔ گویا 2 سال تک مہنگائی کا طوفان جاری رہے گا۔ وزیر پٹرولیم کا کہنا ہے شکر کریں تیل کی قیمت 12 روپے نہیں بڑھائی ۔ بھارت اور بنگلہ دیش کی نسبت پاکستان میں پٹرولیم کی قیمت کم ہے۔ نواب زادہ نصراللہ خان مرحوم و مغفور تحریک بحالیٔ جمہوریت چلایا کرتے تھے۔ اب عمران خان تحریک بحالیٔ معیشت چلا رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں پچھلے دو ماہ تیل کی قیمتوںمیں دو فیصد سے بھی کم اضافہ ہوا جبکہ حکومت نے 6.45 فیصد یعنی تین گناسے بھی زیادہ اضافہ کردیا ہے۔ سب سے پہلے تو کرایوں میں اضافہ ناگزیر دکھائی دیا ہے۔ آنیوالے مہینوں میں بجلی اور گیس کی قیمتیں بتدریج بڑھائی جائیں گی۔ تیل ادھار لیا جا رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم بنانے کیلئے دوست ممالک سے قرضے لیے جا رہے ہیں۔ غربت مکائو سکیم شروع ہو رہی ہے۔ سرکاری اخراجات میں کمی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ پروگرام احساس کے تحت حکومت آئین کی دفعہ 38 ڈی میں ترمیم کرتے ہوئے خوراک اور رہائش کو بنیادی حق قرار دیا جا رہا ہے۔ غربت کے خاتمے کا پہلا پروگرام ویلیج ایڈ 1952ء میں شروع کیا گیا تھا۔ 1959ء میں رول ورکس پروگرام، 1967ء میں سوشل سیکورٹی سکیم، 1972ء میں پیپلز ورکس پروگرام، 1982ء میں بیت المال اور فوڈ سپورٹ پروگرام، 1985ء میں سپیشل ڈویلپمنٹ پروگرام ، 1989ء میں پیپلز پروگرام ، 1991ء میں تعمیر وطن پروگرام 1992ء میں فوڈ سبسڈی سکیم 1993ء سوشل ایکشن پروگرام، 1997ء پاورٹی ایلویشن فنڈ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جس کا نام تبدیل کرنے کی سوجھی ہے۔ نام بدلنے اور وردیاں بدلنے سے کبھی کچھ ہوا ہے۔ حکمران شلوار قمیض پر واسکٹ پہنے یاکوٹ وہ حکمران رہتا ہے۔ گلریز کوگلو بٹ کہنے سے شخصیت نہیں بدلتی ۔ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا اب نام بھی نہیں لیا جا رہا۔ کیاکسی کو ریاست مدینہ کے تصور کا ادراک بھی ہے؟ پہلے بیانیہ کچھ اور تھااور وہ مکمل طور پر بدل چکاہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے کہ ملزموں کو ہتھکڑیاں لگانا ، پاکستانی قانون اور شریعت کیخلاف ہے۔ جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم کی میڈیا میں عزت اچھالنا اسلام میں انسانیت کے منافی اقدام ہے۔ کیا اب نیب اور پولیس ملزموں کو ہتھکڑیاں لگانا چھوڑ دیں گے۔ کیا ملک میں اور بہت کچھ شریعت کیخلاف نہیں ہو رہا جس پر ابھی تک اسلامی نظریاتی کونسل کے ریمارکس سامنے نہیں آئے۔ زرداری بلاول کی للکار کے بعد پی پی پی ٹی آئی کے مابین سیاسی جنگ تیز ہونے اور تصادم کا خطرہ ہے۔ کیا حکومت واقعی آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔ معیشت کی سمت درست کرنے کیلئے ابھی اور کتنے سخت فیصلے کرنے باقی ہیں۔ سابقہ حکومتوں کو چور ڈاکو کہنے اور کرپشن کرپشن کے نعرے لگانے سے کام نہیں چلے گا۔ وزراء کی کارکردگی بارے سوال اٹھ رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کے غیر دانشمندانہ اقدامات سے پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔ معیشت تجربات سے گزر رہی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ میں پاکستان کی معاشی ترقی کو خطے میں سب سے کم اور مہنگائی میں مزیداضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ عوام میں سوال اٹھ رہے ہیں غربت کو ختم کیاجا رہا ہے یا پاکستان کے سمندر سے تیل کی تلاش کیلئے امریکی کمپنی ایگزون اور اٹلی کی کمپنی ای این آئی اپنی کوششوں کے کامیاب ہونے کے انتہائی قریب پہنچ گئی ہیں۔ جس نے عوام کو ایک نئی امید فراہم کر دی ہے کہ تیل اور گیس نکلے گی تو سب مسئلے حل ہو جائینگے۔ شکر ہے حکمران امید سے ہیں۔ آئی ایم ایف نے شرط لگا دی ہے۔ پہلے ایف اے ٹی ایف سے کلیئرنس لو، پھر قرضہ ملے گا۔ سٹاک مارکیٹ میں شدید مندا چل رہا ہے۔ پونے تین سو کے قریب کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گرنے سے سرمایہ کاری کی مالیت 1.08 کھرب روپے کم ہوئی ہے۔ بلاول زرداری کو للکار کا جواب مل گیا ہے۔ عمران خان نے خبر دے دی ہے ۔ حکومت نہیں جا رہی،زرداری جیل جانیوالے ہیں البتہ زرداری کیلئے جیل نئی چیز نہیں جیل ان کا دوسرا گھر ہی ہے۔

Disclaimer : مضمون کا تیسری جنگ اردو سے کوئی وسٹا نہیں ہے، جو بھی جھیلت اظہار کے گئے ہیں وو رائیٹر کے اپنے نجی ہیں

سورس : nawaiwaqt.com.pk