ایک نہایت بصیرت افروز سبق آموز واقعہ

Tahaffuz E Islam Media
============
حضرت مولانا قاری محمد طیب علیہ الرحمہ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند نے اپنے والد محترم حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں قرآن مجید سے متعلق ایک نہایت بصیرت افروز سبق آموز واقعہ بیان فرمایا ہے۔ ہم اس واقعہ کو قاری طیب صاحب رحمہ اللہ کے الفاظ میں تلخیص کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ کیا عجب کہ نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں اور اپنی اولاد کے لئے بھی اسی راہ اور طرز کو اختیار کرکے اپنے لئے اپنی اولاد کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائیں۔ مولانا رقمطراز ہیں:

”میرے والد ماجد نے وفات سے تقریباً پندرہ بیس دن قبل مجھے دارالعلوم دیوبند کے دارالمشورہ میں خلوت میں طلب فرمایا۔ میں حسب الحکم حاضر ہوا۔ مجھے دیکھتے ہی غیر معمولی طور پر آبدیدہ ہوگئے حتی کے وفورِ گریہ کی وجہ سے چند منٹ تک بات بھی نہ کرسکے۔ مجھے یہ پریشانی ہوئی کہ کہیں مجھ سے تو کوئی ناگواری پیش نہیں آئی۔ میں نے اس کا ذکر کیا تو فرمایا نہیں بلکہ مجھے یہ کہنا ہے کہ میرا وقت قریب آگیا ہے اور بہت تھوڑا وقفہ باقی رہ گیا ہے۔ مجھے اس وقت یہ واقعہ سنانا ہے کہ جب میں قرآن کا حافظ ہو چکا تو والد ماجد حضرت محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ بانی دارالعلوم دیوبند بےحد مسرور تھے۔ ختم قرآن کی خوشی میں شہر کے عمائد اور اعزہ واحباب کے ایک بڑے مجمع کی لمبی چوڑی دعوت کی۔ تقریب سے فارغ ہوکر مجھے خلوت میں اسی طرح طلب کرکے فرمایا: میاں احمد! خدا کا شکر ہے کہ تم حافظ ہوگئے۔ وقت آئے گا تم عالم بھی ہوگے، تمھاری عزت بھی ہوگی، ملک میں تمہاری شہرت بھی ہوگی اور تمہیں دولت بھی میسر آئے گی لیکن یہ سب چیزیں تمہارے لئے ہوں گی۔ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے” مجھے فراموش نہ کرنا۔“ فرمایا کہ وہ وقت ہے اور آج کا دن ہے، میرا یہ دوامی عمل ہے کہ میں ہمیشہ دوپارے یومیہ حضرت قبلہ والد صاحب کو ایصال ثواب کی نیت سے پڑھتا ہوں جو الحمد للہ آج تک ناغہ نہیں ہوئے“ مولانا لکھتے ہیں: یہ واقعہ سنا کر مجھ سے فرمایا کہ طیب! الحمدللہ تم حافظ وعالم ہو چکے ہو، وقت آئے گا تمہاری عزت بھی ہوگی، شہرت بھی ہوگی اور حق تعالی تمہیں دولت بھی بہت کچھ عطا فرمائے گا لیکن یہ سب کچھ تمہارے لئے ہوگا۔ یہ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے ”مجھے فراموش مت کرنا“ چنانچہ حضرت قبلہ والد صاحب کی وفات کے بعد آنے والے مہینے کی پہلی ہی تاریخ سے میں نے حضرت کی نصیحت بلکہ وصیت کے مطابق مغرب کے بعد اوابین میں ایک پارہ یومیہ پڑھنے اور حضرت مرحوم کو ایصال ثواب کرنے کا معمول بنا لیا ہے جو الحمدللہ آج تک جاری ہے۔
٭ چراغ راہ از مولانا محمد رضوان القاسمی ٭

محترم قارئین!! حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ نے اپنے والد محترم اور اپنے دادا جان کے جس طرز عمل اور قرآن مجید سے والہانہ محبت وشغف اور تعلق وشوق کو بیان کیا ہے اس میں ہمارے اور آپ سب کے لئے عبرت اور نصیحت کے بہت سے پہلو پوشیدہ ہیں۔ آئیے! ہم سب بھی طے کریں اور تہیہ کریں کہ ہم بھی اپنی اولاد کو اسی جذبہ سے حافظ قرآن بنائیں گے اور خلوت میں بلا کر ان سے کہیں گے کہ بیٹا یہ قرآن میں نے تمہیں اپنے لئے حفظ کرایا ہے مجھے فراموش مت کرنا اور ہم میں سے جو حافظ قرآن ہیں وہ خاص طور اور جو حافظ قرآن نہیں ہیں وہ عام طور پر روزانہ اپنے والدین کے نام قرآن مجید کا کچھ نہ کچھ حصہ ایصال ثواب کے لئے ضرور تلاوت کریں اور اللہ تعالی سے دعا کریں کہ ہم تمام لوگوں کو اسی جذبہ کے ساتھ اپنی اولاد کو حفظ قرآن مجید کرانے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ان کے حفظ قرآن مجید کی دولت کو ہم لوگوں کی مغفرت اور نجات وبخشش کا ذریعہ بنائے،
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

( ٭٭٭ منقول ٭٭٭)