راون کی لنکا

Shaista Mufti Farrukh_Pakistan

==========

راون کی لنکا

مجھے محسوس ہوتا تھا کہ اب جنت یہیں پر ہے
کہ ان زرتار تاروں میں تری قربت یہیں پر ہے
بالآخر مل گیا مجھ کو کہ جو ملنا مقدر تھا
تری زلفوں کے سایے زندگی کا اک تصور تھا

تمھارے ساتھ ہے اک خواب ِ عشرت کا مدھر مسکن
وہی درپن کہ جس کو ڈھونڈتی تھی آنکھ مستانہ
وہی ساغر کہ جس میں ڈوب جائے سارا میخانہ

مگر اک بے کلی تھی جو مسلسل سوانگ بھرتی تھی
کبھی گل میں کبھی خوشبو میں اپنا رنگ بھرتی تھی
کمی کس شے کی تھی مجھ پر کبھی واضح نہ ہو پایا؟
ہر اک محفل میں مجھ کو بے کلی نے یونہی تڑپایا

میں اٹھ کر رات کو چل دی بہت انجان رستوں پر
ستاروں سے صلاح مانگی، درختوں میں پناہ مانگی
کہیں میدان تھے،صحرا تھے اور جنگل کہیں پر تھے
مگر دل کی لگی تھی دور ہی مجھ کو لئے جاتی

پھر اک دامن جو تھا اک کوہ میں مجھ کو نظر آیا
بلایا پاس اور خاموش آنکھوں ہی سے سمجھایا
“جسے تو ڈھونڈتی ہے محفلِ ست رنگ درپن میں
وہ دنیا کا حسیں منظر ہے پنہاں تیرے تن من میں”

میں واپس آ گئی ہوں اور ڈھانی ہے مجھے لنکا !!
نہ جانے کتنے معصوموں کا خوں اب تجھ پہ واجب ہے
ترے دامن پہ دھبے ہیں، ترے ناخن ہیں آلودہ
مجھے وحشت سی ہوتی ہے تری لنکا پہ اے راون!
نہ جانے کب تلک تو راہ سے بھٹکائے گا سچ کو
ہے قائم جھوٹ پر لنکا ، چلے گا جھوٹ یہ کب تک

مری کوشش ہے لوگوں کو اصل چہرہ نظر آئے
کہ جس کو دیکھ کر ڈر جائیں وہ مہرہ نظر آئے

شائستہ مفتی