بھنگ کے پودے تحریر ۔۔۔۔۔ زارا مظہر

 Zaara Mazhar_Chashma, Pakistan

=========
ہم اپنے سازوسامان سمیت 2 جون یعنی ستائیسویں روزے کی صبح اسلام آباد کی سرزمین پر براجمان ہوئے ۔ اس روز شاید اس رمضان کا ایک گرم ترین دن تھا ۔۔۔۔ پیاس ایسی تھی کہ سمندر بھی سامنے ہوتا تو پی جاتے ۔۔۔ افسوس کہ کچھ میّسر ہی نہیں تھا ۔۔۔ سات آ ٹھ روز شدید مصروفیت میں گزرے ۔۔۔ مصروفیت تو خیر ابھی بھی کم نہیں ہوئی مگر تیسرے چوتھے روز ہم ذرا ارد گرد کا جائزہ لینے اور تازہ ہوا خوری کے لیئے چھت پہ جا چڑھے ۔۔۔ خوبصورت لش پش نئی کوٹھیاں چوتھی کی دلہن کی مانند شرمائی شرمائی سی نظر آ تی تھیں ۔۔۔ کہیں کہیں مکین بھی نظر آ ئے ۔ ہم ہمیشہ سے مکان پر مکین کو ترجیح دیتے ہیں ۔۔۔ خیر یہ الگ روداد ہے کبھی تذکرہ رہے گا ۔۔ ابھی تو ارد گرد کا رقبہ دیکھ رہے تھے ہم ۔۔ شام کے ملگجے میں دائیں بائیں اور پچھلے پلاٹس میں لامبے ، نازک سی شاخوں والے پودے پوری سر مستی اور ہوا کی ملی بھگت سے بڑی خوبصورتی سے جھوم رہے تھے ۔ ہماری ساری توجہ ان جھومتے لہلہاتے پودوں نے کھینچ لی ۔۔ ہم تعمیرات چھوڑ کر قدرت کی اس خودرو فیاضی میں محو ہوگئے ۔۔۔ خودرو ہونے کے باوجود پودے ایک سیدھ میں بڑی ترتیب سے اگے تھے ۔۔ ہوا میں اور ماحول میں رنگ ہی رنگ گھلے ہوئے تھے ۔۔۔ فضائیں گیت گاتی تھیں اور مارگلہ کی سرمئی پہاڑیاں اترائی اترائی سی ہماری بے باک نظروں کی گرفت میں چپ چاپ جھینپی سی نظر آ تی تھیں ۔۔۔ ہمارے دماغ کے پسِ منظر میں سریلے ساز بجنے لگے ۔۔۔۔ ہمیں اپنے سفیدے کے درختوں کا جھنڈ یاد آ گیا جو ہم پیچھے چھوڑ آ ئے ہیں ۔۔۔ باغبانی میں بے پناہ دلچسپی کے سبب ہم نے اپنی زندگی میں ہزارہا پودے لگائے اور اگائے ہیں مگر یہ پودے یا ان پودوں سے بنا جنگل کبھی نہیں دیکھا ۔۔۔ چھت سے ایسا خوبصورت اور سرمست نظارہ ہمیں مدہوش کرنے لگا ۔۔۔ سفیدے کے درختوں کی سرمستیاں اور رنگ بازیاں مجسم ہوگئیں ۔ حسبِ عادت کچھ تصاویر بنائیں ۔ کسی روز ہوا کا شرارتی موڈ دیکھ کر ویڈیو بنائیں گے ۔۔۔ پودوں میں ہماری دلچسپی دیکھ کر صاحب نے مطلع کیا یہ بھنگ کے پودے ہیں ۔۔۔ خدایا ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔ اتنے خوبصورت پودے اور لوگ اتنی نفرت کرتے ہیں ۔۔ ہر بدحواس کو بھنگی اور نشئی کہہ دیتے ہیں ۔۔۔ بڑے کور ذوق لوگ ہیں ۔۔۔ ہمیں بچپن میں ایک دفعہ بھنگ کی پی ہوئی ٹھنڈائی یاد آ گئی ۔۔ قطعاً نشہ نہیں ہوا تھا ۔۔ بس آ پ کے مزاج کو ٹھنڈا ٹھار کر دیتی ہے ۔۔۔ اتنا کہ لوگ آ پ کو ٹن سمجھنے لگتے ہیں ۔۔۔ مجھے رسیپی یاد ہے ان خوبصورت پودوں کو گھوٹا مار کر پینے کا خیال بڑا راحت افزاء ہے ۔۔۔ کل بناؤں گی اگر آ پ چاہیں تو یہاں شیئر بھی کر دوں گی ۔۔۔ 🌿🌿🌿

عنوان ۔۔۔ بھنگ کے پودے
تحریر ۔۔۔۔۔ زارا مظہر
13 جون 2019ء