تو کیا یہی اک گُمان ہے ہر سُخن کی بنیاد

اب اس میں کاوش کوئی نہ کچھ اہتمام میرا
ہوائیں محفوظ کر رہی ہیں کلام میرا

میں کچھ کریموں کے بابِ نعمت سے منسلک ہوں
سو خود بخود ہو رہا ہے سب انتظام میرا

تو کیا یہی اک گُمان ہے ہر سُخن کی بنیاد
کہ حدِ تارِ نفس سے آگے ہو نام میرا

میں سر کشی سے سپُردگی کی طرف چلا ہوں
خدا جو چاہے تو یہ بھی بن جائے کام میرا

چلا تو ہوں ایک منزلِ خوش خبر کی جانب
عجب نہیں یہ سفر بھی ہو ناتمام میرا

دلوں کو تاراج کرنے آیا تھا تمکنت سے
پلٹ گیا مجھ کو دیکھ کر خوش خرام میرا

جو لالہ و گُل کو خار و خس سے جُدا نہ کر پائے
ہر ایسے موسم کو دُور ہی سے سلام میرا

یہ قتل نامے پہ دستخط تو مرے نہیں ہیں
مگر یہ خلقِ خدا جو لیتی ہے نام میرا

یہ میرے دُشمن یونہی تو پسپا نہیں ہوئے ہیں
کوئی تو ہے لے رہا ہے جو انتقام میرا

(ِ افتخار عارف )