سلمان باسط کی “ ناسٹلجیا “ کا ہو تو فرحت اور تازگی کا احساس روح کو سرشار کر دیتا ہے

Hasan Imam – University of Karachi

=============
اس سلگتے ہوئے موسم کا بہترین مصرف مطالعہ ہے کہ باہر نکلنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی ۔ اور مطالعہ اگر سلمان باسط کی “ ناسٹلجیا “ کا ہو تو فرحت اور تازگی کا احساس روح کو سرشار کر دیتا ہے ۔

اگر سوانح عمری میں داستان سرائی یا مبالغہ آرائی کا ہلکا سا پر تو بھی آجائے تو یہ سوانح نگار کے لیئے باعث ندامت ہوگا ۔ “ ناسٹلجیا “ پڑھنے کے دوران کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس میں ایسے عناصر موجود ہیں ۔اس کتاب کے حوالے سے یہ سلمان باسط کی پہلی کامیابی ہے ۔ انہوں نے بڑی دیانت داری کے ساتھ اپنی زندگی کے تمام پہلؤوں کو بیان کر دیا ہے ۔ چھوٹی چھوٹی شرارتیں ، بڑے بھائی کے ساتھ تعلق ، والد اور والدہ کے لیئے احترام ، اسکول ماسٹر کا جارحانہ رویہ اور اس پر بحیثیت ایک کم عمر طالب علم ان کا رد عمل ، پرانا اسکول چھوڑنے کی خوشی ، مختلف علاقوں کی نقل مکانی اور خاص خاص باتوں کا ذکر ، بچپن کی دوست کنیز سے بچھڑنے کا واقعہ ۔ یہ سب پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے سلمان کی آنکھ ایسا کیمرہ ہے جو ہر چیز کی جزئیات کو اپنی گرفت میں لے کر امر کر دیتا ہے اور ذہن اتنا کشادہ اور سریع الحس کہ ہر منظر کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت کو بھی درد مندی سے اور کبھی کبھی مزاح یا طنز کے ذریعے واشگاف الفاظ میں ہمارے سامنے پیش کر دیتا ہے ۔ سلمان باسط ہر میدان کے مرد میداں ہیں ، یہ اختصاص انہیں اس لیئے حاصل ہے کہ وہ کافی عرصہ سے لکھ رہے ہیں ، شاعری ، خاکہ نگاری ، افسانہ نگاری اور اب سوانح نگاری ۔ قلم کی ایسی محبت آمیز رفاقت کم کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ۔ سلمان باسط نے بڑے رسیلے انداز میں اپنی خود نوشت کے ہر باب کو کھولا ہے اور بچپن ، لڑکپن اور جوانی کو ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے ۔ مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے نجی اور خاندانی حالات کے ایک ایک پرت کو بڑے سلیقے اور بڑی احتیاط سے کھولا ہے اور سچ کی ایسی چاشنی بھر دی ہے کہ جو پڑھتا ہے اسی کی داستان معلوم ہوتی ہے ۔

ویسے تو پوری کتاب ہی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے لیکن ابتدائ حصے نے مجھے بہت زیادہ لطف دیا ۔ اس حصے میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو مجھے اپنی لگتی ہیں ۔ ہم بھی دو بھائی ہیں ، میرے بڑے بھائی بھی مجھ سے پانچ سال بڑے ہیں ، وہ بھی فطرتاً سنجیدہ ہیں ، میری بھی کوئی بہن نہیں ۔ سلمان باسط کی تحریر میں اتنی جاذبیت ہے کہ پڑھتے چلے جائیے ، اکتاہٹ محسوس نہیں ہوگی اور پھر جا بجا انہوں نے اتنے خوبصورت جملے اور عبارتیں لکھی ہیں کہ پڑھنے والے کے ذہن کی فضا ہی تبدیل ہو جاتی ہے ۔ سلمان باسط کی خود نوشت کو پڑھ کر مجھ جیسے نہ جانے کتنے لوگ اپنے ماضی کی دُھند میں کھو جائیں گے ۔ ان کی نظروں کے سامنے اپنی تہذیب و معاشرت ، بود و باش ، یادوں کا حصہ بن جانے والے چھوٹے چھوٹے واقعات ، بھولپن اور نا سمجھی کی ان گنت کتھائیں کہانیوں کا روپ دھار رہی ہوں گی ۔ سلمان کے بچپن میں سب کا بچپن پنہاں ہے ۔ ناسٹلجیا صرف ایک خود نوشت ہی نہیں ، ایک ادبی فن پارہ بھی ہے ۔ زبان اتنی دلفریب کہ نثر پر شاعری کا گمان ہوتا ہے ۔ سلمان باسط کی یہ خود نوشت اس تہذیب کی تاریخ ہے جس کا اب شاید نشان بھی مشکل سے ملے ۔