,,,مان لو استاد مجھ کو مان لو,,, مجھ سے یہ کہتے رہے استاد جی

Seema Naqvi

استاد جی ہمارے ادبی معاشرے کا ایک ایسا کردار ہے جو بار بار ہم سی شاعرات سے ٹکراتا ہے اور جب جب اور جہاں جہاں اسے موقع ملتا ہے رنگ کو بے رنگ کر کے ایک اور شکار کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں کہی ہوئ یہ غزل بالکل بھی مذاق نہیں ہے، ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، ہم سی شاعرات کے شعری سفر کا ایک ان چاہا موڑ جس سے ہم روز گزرتے ہیں اور اپنے اپنے طریقوں سے اس سے ڈیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ابھی پچھلے دنوں کچھ ایسا ہی واقعہ میرے ساتھ دوبارہ ہوا جس کی بدولت استاد جی پارٹ ٹو تشکیل میں آئ ، ایسے تمام خودساختہ اساتذہ یا پھر بقول

Shaista Momin متساتذہ اور ایسی تمام زبردستی کی شاگرداؤں کی نذر

زخم کرنے کو ہرے استاد جی
لائے ہیں نشتر نئے استاد جی

تلملاتے چڑچڑے استاد جی
مسکراتے میسنے استاد جی

ایک میسج بھیج کر ان باکس میں
گیان سو سو دے گئے استاد جی

گاہِ گاہِ چھیڑ چھاڑ اور لال دل
ہیں بہت ہی “وہ” مرے استاد جی

لفظ جو باندھا تھا غالب نے کبھی
ہیں غلط کہتے اسے استاد جی

شعر کی تقطیع کرنے کیلئے
بحرِ عنقا دے گئے استاد جی

ہاتھ میں لے کر وہ پھرتے ہیں لُغت
ہیں بہت “لغوی” مرے استاد جی

کیوں ہماری شاعری کے صحن میں
جھاڑو لے کر گھُس گئے استاد جی

شاعری سب طاق پر رکھی گئی
جب مرا مکتب ہوئے استاد جی

مان لو استاد مجھ کو مان لو
مجھ سے یہ کہتے رہے استاد جی

ہم کہ شاگرد ازل ہیں ہم کو بھی
کاش کوئ تو کہے۔۔۔ استاد جی

تھی غزل کی اک زمینِ سنگلاخ
رینگتے جس پر رہے استاد جی

فیس بک پر جتنی بھی ہیں شاعرات
ہر کسی پر مر مٹے استاد جی

تیر تھا اک مارنا ان باکس میں
خود ہی لیکن آ مرے استاد جی

میں نے جب پوچھا کہ ہے کیا شاعری
منہ چھپا کر چل دئیےاستاد جی

مشرقی اک بحر میں کر کے کمال
ہیں سوئے مغرب چلے استاد جی

میر غالب فیض امجد اور شکیب
ان سبھی سے ہیں بڑے استاد جی

ذم کا پہلو آ گیا جو شعر میں
کیوں پھڑک اٹھے بھلے استاد جی

لانگتے کب ہیں کوئ سیما کبھی
آپ تحفے مانگتے استاد جی

سیما نقوی