“نماز کا مقام، قرآن و حدیث کی روشنی میں”

محمد عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ،پنجاب .

9855259650 رابطہ
Abbasdhaliwal72@gmail.com

“نماز کا مقام، قرآن و حدیث کی روشنی میں”

کلمہ کے اقرار یعنی ایمان میں داخل ہونے کے بعد جو جز اسلام کا اہم ترین رُکن قرار پایا ہے بے شک وہ نماز ہے . قرآنِ کریم اور احادیثِ شریفہ میں مختلف مقامات پر نماز کی اہمیت وفضیلت کا کثرت سے ذکر آیا ہے جن میں نماز کو قائم کرنے پر بڑے بڑے وعدے اور نماز کو ضائع کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’قیامت کے دن بندے سے نماز کے بارے میں پہلاسوال ہوگااگر اس کی نماز درست ہے تو سارے عمل صحیح ہیں اوراگر نماز فاسدہے تو سارے عمل فاسد ہیں۔‘‘ ایک اور جگہ حضرت محمد ﷺ نے اسلام اور دیگر مذاہب کے مابین نماز کو حد فاصل قرار دے کر نماز کی اہمیت کو واضح فرما دیا کیونکہ دنیا و عقبیٰ کی کامیابی اور کامرانی کا سرچشمہ نماز ہی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’مومن لوگ فلاح پاچکے ہیں وہ(مومن)جن کی نمازیں خشوع و خضوع کےساتھ ادا کی گئیں۔‘‘
خشوع و خضوع اور اُسوۂ رسولﷺ کے مطابق قائم کی گئی نماز سے دل میں نور وغنا پیدا ہوتا ہے اور ربّ کائنات کے جاہ و جلال اور اس کی عظمت و کبریائی کی دل میں تخم ریزی ہوتی ہے جو انسان کو صداقت و شرافت، صبر و قناعت، تسلیم و رضا، حلم و بردباری، تواضع و انکساری، عدل وانصاف جیسے مکارمِ اخلاق سے آراستہ کرتی ہے اور پھر جس طرح اس کا دل عبودیت و فدائیت کا مظہر ہوتا ہے، بعینہٖ اس کے جملہ اعضا بھی مکروہات و منہیات سے کنارہ کش ہو کر مصروفِ عبادت ہوجاتے ہیں جس سے اس کے دل میں سوز و گداز پیدا ہوتا ہے۔ چہرہ منور اور اس کی روح اَفلاکی بلندیوں پر فائز ہوتی ہے، پھر ہی ایسے انسانوں کے حرکات و سکنات، جلوس وقعود، اور سمع و بصر مشیت ِالٰہی کے مطابق ہوتے ہیں۔

دراصل دین اسلام کی بنیاد جن پانچ ستونوں پر قائم ہے ان میں نماز کو ایک اہم ستون کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی جس نے نماز کو چھوڑ ا گویا اس نے دین کے ستون کو مسمار کرنے کی کوشش کی.
بے شک نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت وتاثیر رکھی ہے کہ وہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دیتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی ضروری ہے کہ اس پرپابندی سے عمل کیا جائے اور نماز کو اُن شرائط وآداب کے ساتھ قائم کیا جائے یعنی پڑھا جائے جو نماز کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں،جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں شخص راتوں کو نماز پڑھتا ہے مگر دن میں چوری کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کی نماز عنقریب اُس کو اِس برے کام سے روک دے گی۔
اسی طرح جب کسی مسلمان کو کوئی پریشانی یا مصیبت درپیش آئے تو اس کو چاہئے کہ وہ اُس پر صبر کرے اور نماز کا اہتمام کرکے اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر پریشانی کے وقت نماز کی طرف متوجہ ہوتے تھے جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتا، آپ فوراً نماز کا اہتمام فرماتے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائیگا۔ اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا، اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا۔ (ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابوداؤد، مسند احمد)

نماز کو اس طرح سے قائم کرنے والا جیسے کہ اس کا حق ہے بے شک ایسا نمازی دنیاو آخرت میں فلاح پائے گا. بے شک نماز جنت کی کنجی ہے۔ مومن کی معراج ہے اور محمد ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز اللہ تعالیٰ کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے ۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے ۔ مومن اور کافر کے بیچ فرق کرنے والی نماز ہے۔
نمازی کو رسول اکرم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔ نمازی ایمان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگا۔ نماز دلوں کا زنگ دور کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔ نماز محتاجی سے بچاتی ہے۔ نماز روحانیت کو پانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز سے سکون اور قرار نصیب ہوتا ہے۔ نماز قبر کی روشنی ہے۔ نماز پل صراط سے بآسانی گزرنے کا ذریعہ ہے۔ نمازی کو روز محشر سب سے بڑا انعام یہ ملے گا کہ اس کو جنت میں اﷲ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا۔
جو لوگ نماز کی پابندی نہیں کرتے یا اسے چھوڑ تے ہیں وہ بڑے بدنصیب ہیں ، جو کوئی ایک نماز جان بوجھ کر قضا کرے گا اسے دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ بے نمازی دنیاو آخرت میں ذلیل و خوار ہوگا ۔ بے نمازی جب مرے گا تو ذلیل و خوار ہوکر مرے گا اور اسے موت کے وقت ایسی پیاس لگے گی کہ اگر پوری دنیا کا پانی بھی پلا دیاجائے تو بھی اس کی پیاس نہیں بجھے گی بے نمازی پر نحوست طاری رہتی ہے۔ بے نمازی کی عمر اور روزی سے برکت اٹھالی جاتی ہے۔ بے نمازی کے چہرے سے نور ختم کردیاجاتا ہے۔ بے نمازی کی زندگی سے سکون و قرار چھین لیا جاتا ہے. بے نمازی تنگ دستی اور پریشانی کا شکار رہتا ہے۔ بے نمازی کی نزع میں سختی پیدا کردی جاتی ہے۔ بے نمازی کی قبر تنگ کردی جاتی ہے اور قبر اسے اس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی اور اس پر گنجا سانپ مسلط کردیا جائے گا۔ قبر میں سانپ اور بچھو چھوڑ دیئے جائیں گے۔ ایک جگہ وارد ہوا کہ بے نمازی کا حشر ہامان، فرعون اور ابی بن خلف جیسے بڑے کافروں کے ساتھ ہوگا۔
ہر عاقل و بالغ پر نماز فرض ہے یہ کسی بھی حالت میں معاف نہیں چاہے بندہ آنکھوں سے اندھا ہو یا کانوں سے بہرہ یا پھر منہ سے گونگا ، ہاتھ سے معذور ہو پھر بھی اس کو نماز معاف نہیں ہے۔ اگر نماز کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھیں اور اگر بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر اشاروں کے ساتھ نماز پڑھنی ضروری ہے، اسے کسی صورت میں بھی چھوڑنے کا حکم نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ا سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کی فرمانبرداری۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ (بخاری ، مسلم)
نماز میں بے حد برکتیں ہیں۔ بندہ جب اپنے پروردگار جل جلالہ کی بارگاہ میں سر جھکاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کو دربدر کی ٹھوکروں سے نجات عطا فرماتا ہے، اس کو ڈاکٹر اقبال اپنے شعر میں یوں بیان کرتے ہیں۔
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم پانچ فرض نمازوں کے علاوہ نمازِ تہجد، نمازِ اشراق، نمازِ چاشت، تحےۃ الوضوء اور تحےۃ المسجد کا بھی اہتمام فرماتے۔ اس کے علاوہ خصوصی موقعوں پر اپنے رب کے حضور توبہ واستغفار کے لئے نماز ہی کو ذریعہ بناتے۔ جب کبھی سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تشریف لے جاتے۔ زلزلہ، آندھی یا طوفان حتی کہ تیز ہوا بھی چلتی تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے جاکر نماز میں مشغول ہوجاتے۔ فاقہ کی نوبت آتی یا کوئی دوسری پریشانی یا تکلیف پہنچتی تو مسجد تشریف لے جاتے۔ سفر سے واپسی ہوتی تو پہلے مسجد تشریف لے جاکر نماز ادا کرتے۔اس لئے ہمیں بھی چاہئے کہ اگر کوئی پریشانی یا مصیبت آئے تو نمازوں کی ادائیگی اور صبر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں.
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو پابندی سے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھنے والا بنائے اور نماز کو اسی طرح قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح کے نماز کا حق ہے … آمین