کیا ایران حقیقت میں آبنائے ہرمز بند کرسکتا ہے؟

Sikander Khanjada Khan
=============
دبئی ۔ مسعود الزاھد
خلیج عرب کو بحر اومان سے ملانے والی آبی گذرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو گذشتہ چند عشروں سے ایران کی طرف سے بند کیے جانے کی مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اگر ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکیاں نہ ہوتیں تو شاید دنیا کے اس بین الاقوامی آبی راہ داری کے نام سے بھی واقف نہ ہوتی۔ چنانچہ آبنائے ہرمز کی شہرت کے پیچھے ایران کا مسلسل واویلا بھی کار فرما ہے۔ اس رپورٹ میں اس امر کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا ایران عملا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا بھی ہے یا نہیں؟ اگر ایران ایسا کرتا ہے تو اسے اس کی کیا قیمت چکانا پڑ سکتی ہے؟

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی جانب سے سنہ 1980ء سے 1988ء تک جاری رہنے والی عراق۔ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کی دھمکی دی گئی۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی مگر ایران اس آبی گذرگاہ کو بند نہ کر سکا۔ سنہ 1983ء کو اس وقت کے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرشد اعلیٰ روح‌ اللہ خمینی کے نمائندے کے حیثیت سے علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے دھمکی دی کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز 130 اور 175 ملی میٹر دھانے والی ایرانی توپوں کے سائے میں آنے والی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم کلاشنکوف کی مدد سے بھی بحری جہازوں کا راستہ روکیں گے مگر اس تنبیہ اور دھمکی کے باوجود ایران آبنائے ہرمز میں ایک گولی بھی نہ چلا سکا۔

سنہ 2011ء کو جب امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کاعندیہ دیا تو اس وقت کے شدت پسند ایرانی صدر محمود احمدی نژاد میدان میں کود پڑے اور عالمی منڈی تک دنیا کے ایک تہائی تیل کی رسائی کا ذریعہ بننے والی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی، مگر یہ دھمکی بھی محض لفظی ثابت ہوئی۔ عملا ایران آبنائے ہرمز کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھا سکا۔

ایران کی جانب سے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کیے جانے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات صفر تک لانے کا تہیا کر رکھا ہے۔ ایران اگر عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے امریکا کی طرف سے پیش کردہ 12 شرائط تسلیم کرنے کے بعد مذاکرات کی میز پر آنا ہو گا۔ فی الحال امریکا اور ایران کےدرمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔ ایران کے شدت پسند فوجی جرنیل اور ‘اعتدال پسند’ صدر سمیت سب آبنائے ہرمز کی بندش اور دنیا کو ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل تیل کی یومیہ سپلائی سے محروم کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

جولائی 2018ء کو سوئٹرزلینڈ کے دورے کے دوران ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ امریکی ایرانی تیل کی برآمدات مکمل طور پر بند کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا ایران کو عالمی منڈی میں اپنے تیل کی سپلائی سے نہیں روک سکتا۔ ایسا کرنا امریکیوں کے بس کی بات نہیں۔ میں کہتا ہوں‌ کہ اگر اتنی ہمت اور جرات ہے تو ایران کا تیل بند کر کے دکھائو اور اس کے بعد اس کے نتائج بھی دیکھو۔

ایرانی صدر کا یہ بیان امریکا اور خطے میں تیل برآمد کرنے والے دوسرے ملکوں کے لیے کھلی دھمکی تھی۔ اس دھمکی کے ساتھ ساتھ ایرانی بحریہ نے خطے میں فرضی دشمن سے نمٹنے کی تیاری کے لیے مشقیں بھی شروع کردیں۔

کیا ایران حقیقت میں آبنائے ہرمز بند کرسکتا ہے؟
ایرانی امور کے علاقائی اور عالمی ماہرین نے امریکی عہدیداروں کے بیانات کی روشنی میں ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں‌ کا تجزیہ کیا ہے اور اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ آیا ایران عملا ابنائے ہرمز کو بند کر بھی سکتا ہے یا یہ صرف تہران کی طرف سے گیدڑ بھبکیاں ہیں؟۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران محدود وقت کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کرسکتا ہے مگر یہ اتنا آسان نہیں۔ اسے آبنائے ہرمز کی بندش کے بدلے میں بہت کچھ کھونا پڑ سکتا ہے اور یہ اچھا خاصا مہنگا کام ہے۔

“بی بی سی” فارسی نے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سابق چیئرمین کارٹن ڈمپسی کا ایک بیان نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2011ءکو ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی کے بعد ایران نے محدود وقت کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی دی اور ہم نے اس بات کی یقین دہانی کی ایران آبنائے ہرمز کو بند نہیں کر سکتا۔ اگر ایران آبی گذرگاہ کو بند کرتا ہے تو اسے کھولنا زیادہ مشکل نہیں بلکہ ایک چھوٹے سے آپریشن میں اسے کھولا جا سکتا ہے۔