ہم اور ہماری سلائی مشین ۔۔۔

Zaara Mazhar _ Chashma, Pakistan

ہم اور ہماری سلائی مشین ۔۔۔

نئے گھر کی سیٹنگ کے دوران ہم نے بضد تھے کہ ہماری سلائی مشین حسبِ معمول ہمارے بیڈ روم کے کسی کونے میں سیٹ کر دی جائے ۔۔۔۔ صاحب اور بچوں کا خیال تھا کہ کمرے میں ایسا کونا ملنا محال ہے مشین لاؤنج میں یا سٹور میں رکھی جائے یا پھر ممٹی بہترین جگہ ہے ۔۔۔ پرانے فیشن کی مشین ہے ممٹی میں دیگر کاٹھ کباڑ کے ساتھ کھپا دیجئے۔۔۔۔ پرانی ہے تو کیا ہوا کپڑے تو نئے فیشن کے سی دیتی ہے ۔۔ زگ زیگ ڈالتی ہے ، پیکو کرتی ہے اوورلاک بھی کر دیتی ہے ۔ بڑی بٹیا بولیں ۔۔۔ ہم نے ممنون نظروں سے بیٹی کو دیکھا ۔۔۔ کپڑے درزی سے سل کر آ ئیں یا درزن سے ہم نے مین میخ کے بعد اپنی فنکاری ضرور کرنی ہوتی ہے ۔۔
اسی لے دے میں ہماری ذہنی رو حسبِ عادت بہک گئی خیال آیا سوشل میڈیا جائین کرنے سے پہلے ہماری زندگی کس قدر متفرق تھی ۔۔ جیتی جاگتی رنگین زندگی ۔۔۔ انسان سے انسان جڑے تھے ۔ ایک دوسرے کے گھروں میں باقاعدہ اور بالمشافہ آ مد و رفت جاری رہتی ۔۔۔ خاندان ، برادر میں فون اور خط و کتابت باقاعدگی لئیے ہوئے تھی ۔۔۔
ازدواجی زندگی کے بھی بہت سے رنگ اور متضاد کیفیات ہوتی ہیں ۔۔۔ ہم تاروں بھری چھت کے نیچے سوتے سوتے بیڈ روم میں منتقل ہوگئے ۔۔ کبھی ہمیں گھٹن کی وجہ سے رات رات بھر نیند نہ آ تی ہم کروٹیں بدل بدل کے تھک جاتے تواسٹور میں دھرے صندوق میں سے جہیز یا برّی کا ایک جوڑا نکال لاتے ۔۔۔ کتر بیونت کے بعد جوڑے کی سلائی شروع کرتے ۔۔۔ ادھر جوڑے کی سلائی میں آ خری ٹانکا لگتا ادھر فجر کی بانگ مل جاتی ۔۔ نماز ، تلاوت کے بعد کچن کا رخ کرتے ۔ سوتے بچے کے منہ میں فیڈر لگاتے اور صاحب کی آ فس کی تیاری میں لگ جاتے ۔۔۔ بچے کی چوں چوں کے درمیان ناشتہ کر لیتے اتنے میں ہیلپر کی آ مد ہوجاتی ۔۔۔۔ ہم اپنی ہیلپر کی ہیلپر بن جاتے ۔۔ اس کے جاتے ہی نہا دھو کر بچی کو پرام میں ڈالا اور کسی ایک منتخب پڑوسن کے گھر کا رخ کرتے ۔۔۔ چھ آ ٹھ اور بھی جمع ہو جاتیں پھر مل کر کسی نئی آ نے والی فیملی سے ملنے جاتے ۔ کسی کو نئے سامان کی مبارکباد دینے ۔۔۔ کسی کے آ ئے مہمانوں سے ملنے ۔۔۔ اور وہ مہمان ایک گھر کے مہمان نہ ہوتے ہم سب کے ہوتے ہم باری باری انہیں چائے یا کھانے پہ مدعو کرتے اور تحائف سے نوازتے ۔۔۔ آ نے والے بھی یہی سوچ کر آ تے کہ صرف ایک گھر میں مہمان نہیں جا رہے بیٹی یا بہو کی ملنے جلنے والیوں کے لیئے بھی تحائف لیکر جانا ہیں ۔۔۔ کسی کے گھر پھل یا مٹھائی شہروں سے آ تی تو سب گھروں میں بھیجی جاتی ۔۔۔۔ جنگل میں منگل بنا رکھا تھا ۔۔۔ ہماری لین میں آ گے پیچھے کل اٹھارہ گھر تھے ۔ ایک خوبصورت محفل جم جاتی ۔۔۔۔ ہنسی مذاق کے دوران سب اپنے اپنے سیکھے ہوئے ہنر سے ایک دوسری کو فیضیاب کرتیں ۔ کبھی تو ایک دوسری کو سلائی کٹائی اور کڑھائی بتائی جاتی ۔ کبھی کوکنگ کی رسیپیز زیرِ بحث ہوتیں ۔۔۔۔ قورمے میں رہ جانے والی ہیک ڈسکس کی جاتی ، بریانی کے جُڑے چاول یا بیٹھ جانے والے کیک کی وجوہات پر اتنے سوال جواب کیئے جاتے کہ نقص پکڑ لیا جاتا اور حل نکل آ تا ۔۔۔ بچیوں کی فراکس کی ڈیزائینگ کی جاتی ۔ زندگی میں بڑی کفایت شعاری تھی ۔۔ ہم نے زندگانی کے بہت سے گُر اپنی ان دوستانہ بیٹھکوں میں سیکھے بھی اور سکھائے بھی ۔۔۔ اپنے پہلے پہلے گھر میں اپنے ہاتھوں سے خوبصورت پلیٹس ڈال کر پردے سلائی کیئے اور میکے اور سسرال والوں سے خوب داد سمیٹی ۔۔۔ رضائی میں نگندے (ڈورے) ڈالنے نہیں آ تے تھے ایک سیئنیر باجی نے سکھا دئیے ۔۔۔ تب وہاں لوکل مارکیٹ بنی ہی نہیں تھی کپڑے جوتے ہم اپنے اپنے آ بائی شہروں سے خرید کر لاتیں ۔ ایسا بھی ہوتا کہ ایک سہیلی گھر والوں سے ملنے جارہی ہے اور ہم سب اپنی اپنی ضروریات کی لسٹ اسے تھما دیتے ۔۔۔ کچھ خواتین نے گھروں میں ہی چھوٹی موٹی اشیائے ضروریہ رکھی ہوئی تھیں انہی سے کام چلا لیا جاتا ۔۔۔ اس وقت نیو چشمہ کالونی بسائی جارہی تھی ۔ (پرانی تو بہت پہلے سے موجود تھی جس میں بنے بنگلے اب بھوت بنگلے نظر آ تے تھے ) ہر طرف تپتی دھوپ میں گرم ریت اڑتی نظر آتی ۔۔۔ گھنے جنگلات کو کاٹ کر کنسٹرکشن کا کام تیزی سے جاری تھا ۔ ایک گھر میں بچہ روتا تو سولہ گھروں میں آ واز جاتی ۔۔ صبح خواتین ایک دوسرے سے پوچھتیں رات کو بچے کو کیا تکلیف تھی ۔۔۔
اسلام آباد ، لاہور کراچی کو چھوڑ کر اتنے ہارڈ ایریا میں کوئی جانا نہیں چاہتا تھا ۔ سفری سہولیات ناپید تھیں ۔۔۔ لاہور ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں جانے آ نے کے لیئے بعض اوقات بارہ چودہ گھنٹے خرچ ہو جاتے ۔۔۔ اور ذرائع آ مد و رفت میں بچے اور خواتین خرچ ہو جاتیں ۔۔۔ مگر ایمپلائیز کو پرکشش آ سائشات کے ساتھ ٹرانسفر کر دیا جاتا ۔۔۔ ہم نئے نئے شادی شدہ ہوئے تھے ۔۔۔ ایک کمرے کا ٹھکانہ چھوڑ کر اپنے بڑے سے گھر میں رہنے کا خواب واقعی بڑا سہانا تھا ۔۔۔ ہم چل پڑے ۔۔۔۔ اور بہت خوش بھی رہے ۔ کسی دن تفصیل سے لکھیں گے ۔۔۔ بلکہ وہاں کے شب و روز سلسلے وار لکھیں گے ۔۔۔

ز ۔ م
11 جون 2019ء