اردو خبریں خاص موضوع

علامہ اقبال کی آواز کی ریکارڈنگ کیوں دستیاب نہیں ہے؟

Sanaullah Khan Ahsan
=============
·
علامہ اقبال کی آواز کی ریکارڈنگ کیوں دستیاب نہیں ہے؟
اقبالؒ کے عشاق اپنے محبوب شاعر کی آواز سننے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہے ہیں اس ضمن میں مختلف نوسر باز ان کے جذبات سے کھیلنے کے لیے علامہ کے نام سے مختلف آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرتے رہتے ہیں۔
جو ریکارڈنگ علامہ اقبالؒ کے نام سے وائرل ہوئی اس کاعلامہ اقبالؒ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ آواز تامل ناڈو وانمباڑی ہندوستان کے ایک شاعر عتیق احمد جاذب کی ہے جو اپنا حمدیہ کلام:

ہم نے تجھے جانا ہے فقط تیری عطا سے
سورج کے اجالے سے، فضاؤں سے خلا سے
سنا رہے ہیں۔

یو ٹیوب پر آج بھی یہ آڈیوز موجود ہیں اور لوگ بیوقوف بن رہے ہیں۔
علامہ اقبالؒ کی آواز ابھی تک کہیں سے بھی نہیں مل سکی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب ہندوستان میں آواز ریکارڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا اس زمانے میں علامہ اقبالؒ کی آواز بیٹھی ہوئی تھی اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جنوری 1934 ء میں عید کے روز سویّوں میں دہی ملا کر کھانے سے علامہ اقبالؒ کی آواز بیٹھ گئی علاج کے باوجود بعد بھی آواز کبھی نارمل نہ ہو سکی۔ اقبالؔ 13 / جون 1936 ء کو پروفیسر الیاس برنی کو لکھتے ہیں۔۔۔ ”دو سال سے اوپر ہو گئے۔ جنوری کے مہینے میں عید کی نماز پڑھ کر واپس آیا سویاں دہی کے ساتھ کھاتے ہی زکام ہوا۔ بہی دانہ پینے پر زکام بند ہوا تو گلا بیٹھ گیا۔ یہ کیفیت دو سال سے جاری ہے بلند آواز سے بول نہیں سکتا۔ اسی وجہ سے بالآخر بیرسٹری کا کام بھی چھوڑنا پڑا۔ انگریزی اور یونانی اطباء دونوں سے علاج کیا مگر کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔

3۔ اپریل کی رات تین بجے کے قریب (میں اس شب بھوپال میں تھا۔ ) میں نے سر سید علیہ الرحمۃ کو خواب میں دیکھا۔ پوچھتے ہیں تم کب سے بیمار ہو۔ میں نے عرض کیا دو سال سے اوپر مدت گزر گئی۔ فرمایا حضور رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں عرض کرو میری آنکھ اسی وقت کھل گئی اور اس عرضداشت کے چند شعر جواب طویل ہو گئی ہے میری زبان پر جاری ہو گئی۔ انشاءاللہ ایک مثنوی فارسی۔ ”پس چہ باید کرد اے اقوام شرق“ نام کے ساتھ یہ عرضداشت شائع ہو گی۔ 6 اپریل کی صبح سے میری آواز میں کچھ تبدیلی شروع ہوئی۔ اب پہلے کی نسبت آواز صاف تر ہے اور اس میں وہ رنگ عود کر رہا ہے جو انسانی آواز کا خاصہ ہے۔ گو اس ترقی کی رفتار بہت سست ہے۔ جسم میں بھی عام کمزوری ہے۔ زیادہ کیا عرض کروں۔
اگرچہ اقبال کو متعدد امراض سے واسطہ رہا لیکن انہوں نے جتنا علاج اپنی آواز کی بحالی کے لیے کرایا کسی اور مرض کے لیے نہیں کرایا کیوں کہ آواز کے بیٹھ جانے کے بعد اقبال کی اجتماعی زندگی بہت متاثر ہو چکی تھی۔ ان کی پریکٹیس جو ان کا ذریعہ معاش تھا ختم ہو چکی تھی۔ خطبات، تقاریر، اور مختلف کانفرسوں میں شرکت بھی اسی وجہ سے ختم ہوچکی تھی۔ تلاوت قرآن کا لطف ان سے چھن گیا تھا۔ اقبال کو آواز کے بیٹھ جانے کا صدمہ اس لیے بھی زیادہ تھا کہ وہ خوش الحانی سے تلاوت نہیں کر پا رہے تھے کیونکہ بچپن سے ہی قرآن مجید کی تلاوت اور مطالعہ ان کا محبوب ترین مشغلہ اور دل و دماغ کا سرمایہ تھا۔ قرآن مجید سے ان کی شیفتگی اور والہانہ شغف کا عالم یہ تھا کہ کوئی بھی مصروفیت ہو، جیسا بھی انہماک، گھر بار کے معاملات، دنیا کے دھندے ہوں، ان کا دل ہمیشہ قرآن مجید میں رہتا۔ دوران مطالعہ اکثر رقت طاری ہو جاتی چنانچہ بعض اوقات کہتے تھے اگر آواز عود کر آئے تو اسے خاص خدا کی رحمت تصور کروں گا۔ برقی علاج سے عارضی طور پر ورم میں کمی تو ہوئی اور آواز کچھ بہتر معلوم ہوئی لیکن جیسے ہی کچھ دن گزرے اور کچھ سردی زکام اور کھانسی شروع ہوئی آواز پھر خراب ہوگئی اور یہ سلسلہ آخر دم تک برقرار رہا۔

تحریر
ڈاکٹر رمضان طاہر

Courtesy: ہم سب

نوٹ: سویوں پر دہی ڈال کر کھانا اور بطور خاص عید والے دن اقبال کا پسندیدہ و مرغوب کھاجا تھا۔ خود اقبال نے بھی اپنی بچپن کی یاداشتوں میں ایک واقعہ تحریر کیا ہے کہ جب عید والے دن ان کی والدہ ان کو سویوں پر دہی ڈال کر اپنے ھاتھ سے کھلا رہی تھیں اور اس وقت اقبال کے والد قدرے ناراضگی کے عالم میں کمرے میں داخل ہوئے اور اقبال کی والدہ کو اقبال سے بے جا لاڈ پیار پر کچھ سرزنش کی تھی۔

علامہ کی چاند رات اور دہی والی سویاں
اس کا کچھ احوال ان کے بیٹے، جسٹس (ر) جاوید اقبال کی خودنوشت ‘اپنا گریباں چاک’ میں ملتا ہے۔ وہ کتاب کے صفحہ نمبر 20 پر لکھتے ہیں کہ
‘جب عید کا چاند دکھائی دیتا ہے، تو گھر میں بڑی چہل پہل ہوجاتی۔ میں عموماً والد کو عید کا چاند دکھایا کرتا تھا۔ گو مجھے نہانے سے سخت نفرت تھی، لیکن اس شب گرم پانی سے والدہ نہلاتیں اور میں بڑے شوق سے نہاتا۔ نئے کپڑے یا جوتوں کا جوڑا سرہانے رکھ کر سوتا۔ صبح اٹھ کر نئے کپڑے پہنے جاتے، عیدی ملتی، کمخواب کی ایک اچکن، جس کے نقرئی بٹن تھے، مجھے والدہ پہنایا کرتیں۔’

عید کی صبح علامہ اقبال کی سرگرمیوں کو انہوں نے یوں منظر کیا، ‘میں والد کے ساتھ موٹر میں بیٹھ کر نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ ان کی انگلی پکڑے شاہی مسجد میں داخل ہوتا اور ان کے ساتھ عید کی نماز ادا کرتا۔ نماز سے فارغ ہوکر میرے والد بہ مطابق معمول بارودخانہ میں میاں نظام الدین کی حویلی میں ان کے ساتھ کچھ وقت گزارتے۔ گھر واپس آکر والد کی عادت تھی کہ وہ عید کے روز سویوں پر دہی ڈال کر کھایا کرتے تھے۔ سارا دن انہیں ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا‘۔

ایک حاذق حکیم صاحب لکھتے ہیں کہ علامہ موصوف کے صاحبزادے جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب کی گرانقدر تالیفات زندہ روداور اپنا گریبان چاک میں علامہ مرحوم کی بیماری اور علاج معالجین کی ساری تفصیل موجود ہے جسے پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ علامہ کا مزاج بلغمی تھا۔ سردی کے موسم میں بے احتیاطی اور سویوں پر دہی ڈال کر کھانے سے آواز متاثر ہوگئی یعنی گلا بیٹھ گیا۔ دہلی کے مشہورو معروف طبیب افسر الاطبا حکیم عبدالوہاب انصاری مرحوم جو کہ مشہور مسلم لیڈر ڈاکٹر انصاری صاحب مرحوم کے بھائی اور حضرت رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ کے خلیفہ مجاز تھے نے علامہ مرحوم کا علاج کیا مگر بار بار کی بدپرہیزی نے علاج کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ افاقہ ہوتا مگر کبھی بریانی‘ کبھی دہی کھانے سے معدوم ہوجاتا اگر حکیم صاحب مرحوم علامہ مرحوم کو دہلی بلا کر اپنے پاس رکھ کر علاج کرتے تو میری رائے میں ضرور فائدہ ہوجاتا۔ اس مرض کے لئے ایک مجرب نسخہ موجود ہے۔ غذائ پرھیز اور نسخہ کے استعمال سے آواز کھل جاتی ہے۔

Sanaullah Khan Ahsan
#ثنااللہ_خان_احسن
#sanaullahkhanahsan
#علامہ_اقبال_کی_آواز

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published.