اردو خبریں خاص موضوع

کراچی میں احمد کا حبشی حلوہ ہمیشہ سے ایک اسپیشلٹی ہے : تحریر✍🏻 #ثنااللہ_خان_احسن

Sanaullah Khan Ahsan

Karachi, pakistan
===============
·
حبشی حلوہ کو حبشی کیوں کہتے ہیں؟
حبشی حلوہ کا ایک خاص پوشیدہ جزو جو اس کو حبشی بناتا ہے!
کراچی میں احمد کا حبشی حلوہ ہمیشہ سے ایک اسپیشلٹی ہے۔ اکثر لوگ احمد مٹھائ کی دکانوں پر بطور خاص یہ حلوہ کھانے جایا کرتے تھے۔ اصلی طریقے سے تیار کیا گیا حبشی حلوہ سیاہی مائل ڈارک براون چاکلیٹ جیسے رنگ کا ہوتا ہے۔

حبشی حلوہ کی تاریخ مغلوں کے دور سے ملتی ہے۔
حبشی حلوہ بہادر شاہ ظفر کے دستر خوان کی زینت بھی ہوا کرتا تھا۔ تاریخ بہادر شاہ ظفر کے دستر خوان کے لوازمات میں حبشی حلوے کا ذکر لازمی کرتی ہے۔ اور یہ حلوہ رکن عالم کے وفد کے دورہ حبش کے بعد برصغیر میں متعارف ہوا جہاں سے دو خاص باورچی تحفتا” دیئے گئے تھے۔


حبشی حلوہ کی ہلکی سیاہی مائل گندمی رنگت کی وجہہ حبش کی ایک خاص بوٹی کی شمولیت تھی جو خاص اعضا کی تقویت کے لیے مستعمل تھی۔ برصغیر میں کاتھ دستیاب نہیں تھی تو اطبا نے بادام کا چھلکا زعفران کے پانی میں بھگوکر اور کھرل کرکے ملانے کی تجویز دی۔ اس کے علاوہ اس میں سچے موتی، سونے کے ورق اور خشخش خصوصی طور پر ملائی جاتی کہ اعضائے مخصوصہ کو تقویت دینے کے خاصیت پوری ہوجائے۔ اسکے علاوہ یہ حلوہ غلاموں کی قوت اور جسم کی سختی کو بڑھاتا تھا۔
شاہی کے بعد خوائص تو ناپید ہوگئے لیکن ذائقہ اور شکل باقی رکھنے کے لیے بادام کے چھلکے کو جلاکر ملایا جانے لگا۔

حبشی حلوہ حبش کی سوغات تھی اور اسی مناسبت سے حلوہء حبشی قرار دی گئی۔ بہادر شاہ ظفر کے دستر خوان کے ذکر میں اسے “حلوہء حبشی” ہی کہا گیا ہے
.جلیبی، امرتی، برفی، پھینی، قلاقند، موتی پاک، بالو شاہی، در بہشت، اندرسے کی گولیاں، حلوہ سوہن، حلوہ حبشی، حلوہ گوندے کا، حلوہ پیڑی کا، لڈو موتی چور کے، مونگے کے، بادام کے، پستے کے، ملاتی کے، لوزیں مونگ کی، دودھ کی، پستے کی بادم کی، جامن کی، رنگترے کی، فالسے کی، پیٹھے کی مٹھائی اور پستہ مغزی۔

یہ شاہ کے لیےمیٹھا بنتا تھا

انڈیا میں یوں تو حبشی حلوہ ہر شہر میں دستیاب ہے لیکن رامپور کا حبشی حلوہ اپنی مثال آپ ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کے سالوں میں، رام پور میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے روہیلا پٹھانوں کی ایک خاصی آبادی تھی، اور شاید یہ حلوہ ان کے کچن میں پایا جاتا تھا۔ مزید یہ کہ روہیلا پٹھانوں کے پاس سمنک کا حلوہ بھی موجود تھا جسے حبشی حلوہ یا حلوہ سوہن کا پیش رو سمجھا جاتا ہے۔

سمنک دراصل گندم کو پانی میں بھگو کر جب اس کی بالشت بھر کی کونپلیں نمودار ہوجائیں تو گندم کو ان کونپلوں سمیت خشک کرکے اس کا آٹا بنا کر جو شے حاصل ہوتی ہے وہ سمنک کہلاتی ہے۔ یہ سمنک سوھن حلوے کے خاص ذائقے کا راز ہے۔ یہاں سوہن حلوے سے مراد ملتانی سوہن حلوہ نہیں بلکہ وہ سخت گول ٹکیوں کی بناوٹ والا سخت سوہن حلوہ ہے جس کو اس کی سختی کی بنا پر بچے اور نوجوان ہی کھا سکتے ہیں۔ بوڑھے اور کمزور دانتوں والے یہ حلوہ نہیں کھا سکتے۔ یہ حلوہ خالص سمنک، دودھ، چینی اور دیسی گھی سے تیار کیا جاتا ہے اور بلاشبہ اس کے ذائقے کا جواب نہیں۔ یہ مٹھائیوں میں میرا پسندیدہ ترین ہے۔

ہمارے اسلام آباد کے ایک دوست بتاتے ہیں کہ کراچی کا ایک دوست جب چھٹیاں گزار کر واپس اسلام آباد آفس آیا تو دوستوں کے لئے بطور خاص سوہن حلوہ کی سوغات لایا۔ اب ہوا یہ کہ کچھ لوگوں سے تو اس کی سخت ٹکیا سے ٹکڑا توڑنا آسان تھا تو وہ تو مزے سے کھانے لگے۔ جن لوگوں کے دانت کمزور تھے ان میں سے ایک نے حلوہ کی ٹکیا کاغذ میں لپیٹ کر ٹیبل کی ایک ٹانگ اٹھا کر اس کے نیچے رکھ کر زور دار چوٹ لگائ تو حلوے کے ٹکڑے اور کرچیاں بن گئیں جن کو کھانا آسان تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی یہی ترکیب آزمائ اور پورے ڈپارٹمنٹ میں ایک ٹھکا ٹھک مچ گئ جو گاہے بگاہے کافی دیر تک گونجتی رہی۔ بہرحال یہ تو بات ہوگئ اصلی سوہن حلوے کی۔ اب آتے ہیں حبشی حلوہ کی طرف۔


یہ حلوا حبشی حلوا اس لئے کہلاتا ہے کیونکہ اس کی رنگت حبشیو ں کی طرح سیاہ ہوتی ہے ۔ بہ مطابق اس کی اصل ترکیب خفیہ راز یہ کہ یہ رنگت بادام کے جلےہوئے چھلکوں کی راکھ سے دی جاتی ہے جو دراصل اس حلوے کا سیکرٹ انگریڈئنٹ ہے۔ اس کے تیار کرنے کے لئے پانچ کلو دودھ اور ایک سوپچیس گرام نشاستہ اور دوسو گرام سمنک کو کسی صاف کڑاہی میں ہلا کر کڑاہی کو تیز آگ پر رکھ دیا جاتا ہے ۔جب خوب جوش آجائے تو تب اس میں ڈھائی کلو چینی ملاکر آگ ہلکی کر دی جاتی ہے اوراس کے پکتے ہوئے قوام میں کاٹھے بادام کے جلے ہوئے چھلکوں کی راکھ چھان کر ڈال دی جاتی ہے ۔ راکھ کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے بلکہ یہ حلوہ پکانے والے کے تجربے اور مہارت کی صوابدید پر ہے کہ کتنی مقدار میں یہ راکھ شامل کرنی ہے۔ جب حلوہ قدرے سیاہی مائل براؤن رنگ ہو جاتا ہے تو راکھ ملانی بند کر دی جا تی ہے راکھ ملانے میں اس بات کی بہت زیادہ احتیاط رکھی جاتی ہے ، کہ راکھ زیادہ نہ پڑجائے کیونکہ راکھ کے زیادہ پڑ جانے سے حلوا بد مزہ ہو جاتاہے اور ذائقہ کڑوا ہو جاتا ہے ۔

آجکل قوام کو پکاتے پکاتے جب اس کی رنگت بادامی ہو جائے اور چٹکی میں لینے سے اسکی گولی بندھنے لگے تو سمجھ جانا چاہیے۔ موجودہ دور میں اس میں بادام کے چھلکے کی راکھ شامل نہیں کی جاتی۔ جبکہ اصلی حبشی حلوے میں بادام کے چھلکے کی راکھ کا ایک مخصوص ذائقہ بھی شامل ہوتا تھا۔ آجکل یہ حلوہ بادامی رنگ اختیار کرلے تو سمجھئے کہ حبشی حلوا تیار ہے ۔ اب اسے آگ سے اتار کے تھال میں پھیلالیں ۔حسب ضرورت چاندی کے ورق لگا کر رکھ لیں ۔پستے اور بادام کی ہوائیاں چھڑک دیں۔
مولانا کوثر نیازی نے بھٹو صاحب کے بارے میں لکھا ہے کہ بھٹو صاحب کو فرائی قیمہ بہت مرغوب تھا۔ اس کے علاوہ بھٹو صاحب جب بھی گھر پر ہوتے تو کھانے کے بعد ایک خاص قسم کے گوند کے حلوے کے چند ٹکڑے بھی کھاتے تھے جو ان کا خاندانی حلوہ تھا۔ یہ حلوہ بالکل سیاہ کوئلے کی رنگت کا ہوتا تھا جو شاید کسی درخت کے گوند کو جلا کر اس کی راکھ سے تیار کیا جاتا تھا۔

تحریر✍🏻
Sanaullah Khan Ahsan
#sanaullahkhanahsan
#ثنااللہ_خان_احسن

——-

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published.