اردو خبریں خاص موضوع

کے الیکٹرک- کراچی والوں پر ایک مستقل دن بدن بڑھتا عذاب!

Sanaullah Khan Ahsan

karachi, pakistan
===========
·
کے الیکٹرک- کراچی والوں پر ایک مستقل دن بدن بڑھتا عذاب!
گو کہ کے الیکٹرک کی کارکردگی کبھی بھی قابل ستائش نہیں رہی۔ دو نسلیں روتے گزر گئیں لیکن یہ آجکل تیسری نسل کے الیکٹرک کی وجہ سے جس عذابناک صورت حال سے دوچار ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یعنی دنیا ترقی کررہی ہے عوام کے مسائل وقت کے ساتھ ساتھ حل کرکے ان کو آسانیاں اور سہولیات فراہم کی جارہی ہیں لیکن کے الیکٹرک نے موجودہ چند سالوں میں جس بدترین کارکردگی سے کراچی کے عوام کی زندگی عذاب بنادی ہے۔ ہمارے گراؤنڈ فلور پر ایک فیملی کی تین ماہ کی بچی ہے۔ بجلی جانے پر جب وہ گرمی سے چیخ چیخ کرروتی ہے تو بخدا دل کٹتا ہے۔ ہم اپنی نئ نسل کو کوئ سہولت کوئ آسانی تو نہیں دے سکتے لیکن ان کے دنیا میں آتے ہی ان کو نئ نئ اذیتوں اور دکھوں سے دوچار کررہے ہیں۔
اور اس پر کوئ سوچنے کو، کسی طور پر اس کا حل نکالنے کو سر جوڑ کر بیٹھنے کو تیار نہیں۔ کراچی پاکستان کا ایک معاشی تجارتی اور صنعتی حب ہے جو اس ملک کی معیشیت میں ریڑھ کی ھڈی کا کردار ادا کرتا آرہا ہے لیکن اب دیکھئے تو ہر جگہ مارکیٹوں میں دکاندار اندھیری دکانوں میں گتے کے پٹھوں سے پنکھا جھلتے حسرت و یاس کی تصویر نظر آتے ہیں۔ بجلی کے کام والے ھاتھ پر ھاتھ دھرے بجلی آنے کا انتظار کرتے ہیں۔ صنعتوں کے مزدور آدھے سے زیادہ وقت بجلی کا انتظار کرتے ہیں۔ پٹرل کے ہوشربا دام نے جنریزٹرز کو بھی ناقابل استعمال بنادیا ہے۔ گھریلو علاقوں میں دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ ضعیف اور مریض حضرات کے علاوہ چھوٹے بچے جس اذیت ناک صورت حال سے دوچار ہیں اس کا کوئ پرسان حال نہیں ہے۔ ہر طرف ایک عجیب نحوست و بے برکتی اور یاسیت کا ڈیرہ ہے۔
دوسری طرف بجلی کے بلوں کا یہ حال ہے کہ جو سلیب لگائے ہوئے ہیں, اور بلز میں جو چارجز بڑھا چڑھا کر لگائے جا رہے ہیں, ان کا عذاب الگ۔ مئی کا بل ہمارا سات ہزار کا تھا, جون کا بارہ ہزار جولائی کا سولہ ہزار کا ہوگیا ہے۔ یونٹس وہی ہیں, چارجز بڑھتے جا رہے ہیں۔ جبکہ چوبیس میں سے بارہ چودہ گھنٹے لائٹ ہوتی نہیں ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہوچکی ہے۔
‏کے الیکٹرک نے شہر میں دن کے ساتھ ساتھ رات کوبھی اچانک لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لوڈ شیڈنگ میں اضافہ بن قاسم پاور پلانٹ 3 بندش کے بعد سے ہوگیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ بن قاسم کا ایک 450 میگا واٹ کا پلانٹ کچھ پُرزوں کی خرابی کی وجہ سے بند ہوگیا ہے۔ کے الیکٹرک حکام کے مطابق یہ پُرزے بیرون ملک سے منگوائے جائیں گے اور اس پلانٹ کی مرمت میں تین ماہ کا عرصہ لگے گا۔
اب اندازہ کرلیجئے ہمارے حالات کا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ تین کروڑ کے صنعتی شہر کے لئے کوئ اسٹینڈ بائ انتظام نہیں۔ خدانخواستہ ایک دو پلانٹ مزید کسی خرابی کی وجہ سے بند ہوگئے کہ بہرحال مشین ہے، کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے تو پھر اندازہ کرلیجئے کہ کراچی کا کیا حشر ہوگا؟
اس وقت کراچی دلیپ کمار کی طرح
“ ارے کوئ ہے؟ ارے کوئ ہے کی دہائ دے رہا ہے؟
کیا کوئ ہے؟
Sanaullah Khan Ahsan

Facebook Comments Box

Leave a Reply

Your email address will not be published.