خاص موضوع

!عوام جسے چاہتا ہے اپنا لیڈر بناتا ہے اور 39 ووٹ لینے کے بعد کوئی بڑی لڑائی نہیں لڑسکتا

Ayaz Sherwani
==============

یہ نئی آئی ڈی اس لئے بنائی ہے ہے ہے ہے کہ پچھلے 6 مہینوں سے میں سوشل میڈیا پر ہوں اور کچھ بہت اچھے لوگوں سے بھی میرا واسطہ ہوا ہے … پچھلی آئی ڈی پر بہت لوگ ایڈ ہیں ۔ اور جب بہت لوگ ہوتے ہیں تو اس میں ہم خیال لوگ بہت کم ہوتے ہیں ۔

آئی ڈی میں کم لوگوں کو رکھوں گا کیونکہ جب کم لوگ ہوتے ہیں ہیں ہیں تو پوسٹ بھی زیادہ سرکولیشن میں ہوتی ہے ۔اور لکھنے والے کو خود یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں تک پیغام پہنچانا چاہے وہ پیغام سے خونی لوگوں تک پہنچا ہے ہے وہ لوگ اس کی بات سمجھ پائیں گے وہ ان لوگوں کو سمجھ پا رہا ہے ۔کیونکہ میں سیاست میں رہام ہزاروں لوگوں سے میرا واسطہ رہا اور سیاست میں میں یہ میری تیسری نسل ہے ہے میرے نانا صاحب المغفور 1952 تک ک 26سالہ میں لے رہے میرے والد مرحوم و مغفور انیس الرحمان شیروانی صاحب 1969 میں ایم ایل اے اور اترپردیش میں جیل کے وزیر رہے۔۔اور الحمداللہ اترپردیش کے لوگوں میں رہے انہوں نے سیاست سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں لیا ۔۔

اپنی زمینیں بیچ کر سیاست کی۔ ہزاروں لوگوں کی بے مثال خدمت کی یہاں تک کہ کرایہ بھی اپنی جیب سے دیا۔ مگر افسوس تو ان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو عرصے سے ایمان داروں کے ساتھ ہو رہاجب مرون 1990 میں اپنا آخری الیکشن لڑے کب انہیں تیس سال کی خدمت سینکڑوں نوکریوں ہزاروں فائدوں اور اصولوں کی سیاست کرنے کے بعد اس علاقے میں صرف دس ہزار ووٹ ملے ۔۔آخر میں وہ بھی تھک کر سیاست سے الگ ہوگئےڈھائی تین سال کے قلیل عرصے میں ضلع علی شہر بہت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں نے خود خود کی جنون ن اور اور کس انکساری کے ساتھ سیاست کرنے کی کوشش کی اور الحمدللہ ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور یہ اللہ کریم کا بہت بڑا احسان رہا کہ کسی ایک کام میں اس دور میں بھی کسی افسر کی اتنی اوقات نہیں کی کہ میرے کام پر ایک پیسہ بھی مانگ لے الحمدللہ نے پیسہ بلوایا اور الحمدللہ میں نے ایک پیسہ لیا ۔یہ بات پورا ضلع اور شہر اورلکھنو تک لوگ بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔غلط نتیجہ بھی وہی ہوا کہ ہزاروں کے کام آنے کے بعد جب قوم میں خود مجھے مجھے الیکشن لڑنے کو کہا اور میں 2012 میں الیکشن لڑا تو جس شہر کو میں نے نے ہزاروں لوگوں کا فائدہ کیا تھا وہاں مجھے بھی صرف 39 بورڈ ملے۔لوگ کہتے ہیں کہ گھر کا بیٹی تو بات بہت سیدھی ہے میرے عزیز پلیز کہ یہ ڈیموکریسی ہے ہے جہاں عوام جسے چاہتا ہے اپنا لیڈر بناتا ہے ۔ اور 39 ووٹ لینے کے بعد کوئی بڑی لڑائی نہیں لڑسکتا ۔ انشاءاللہ بہت سے کام میں آپ کے بیچ میں لاؤں گا اور صرف اس لئے لاؤں گا کہ لوگوں کو یہ علم رہے کہ اگر آج بھی جنون کے ساتھ ساتھ کوئی کسی بھی بھی زندگی کے حصے میں طے کر لیں تو اپنے اصولوں کے ساتھ کام کر سکتا ہے ۔

بس میری درخواست دے رہے گی کہ میں جو لکھوں اس پر دھیان دیں اور اصلاح بھی کریں.

اور اگر کوئی پوسٹ شیر کرنا چاہیں تو مہربانی کر کے پوچھ لیں کہ میں یہاں اپنی بات رکھ کر کسی نتیجے پر کسی راہ پر پہنچنا چاہتا ہوں کوئی لائک اور کمنٹ کا کھیگ کھیلنا نہیں جاہتا ۔۔اور محدود لوگوں سے بات کرنے کی ایک اور وجہ ہے اللہ کریم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تو سب کو دیتا ہے مگر بات رکھنے کی صلاحیت ہے بہت کم لوگوں کو عطا ہوتی ہے اور اسی لئے بروز حشر ہم سب سے پہلا سوالوں میں سے ایک صلاحیت کے استعمال کا بھی سوال ہے اور اگر سب کے پاس سال ہی ہوتی تو پوری دنیا میں آج ڈیموکریسی کا یہ حشر نہ ہوتا تا کہ لیڈرشپ بی مانو اور بد کرداروں کے ہاتھ میں ہے ۔۔

…बड़ी बड़ी लड़ाइयां लड़ने वाला…सिर्फ़ 3900 वोट पाकर घर बैठ गया …!!!

السلام علیکم
यह नई आईडी इसलिए बनाई है कि पिछले 6 माह से सोशल मीडिया पर हूं तो बहुत से अच्छे लोगों से मेरा वास्ता हुआ है … उस आईडी पर बहुत लोग ऐड हैं और जब बहुत लोग हो जाते हैं तो उस तरह बात नहीं की जा सकती, जिस तरह मैं बात करना चाहता हूं …

इस आई डी में कम लोगों को रखूंगा क्योंकि जब कम लोग होते हैं तो पोस्ट सरकुलेशन में ज्यादा होती है … और लिखने वाले को खुद भी यह पता होता है कि जिन लोगों तक पैगाम पहुंचाना चाहता है सिर्फ उन्हीं लोगों तक पहुंच रहा है … अलहमदुलिल्ला, सियासत मैंने अपने उसूलों के साथ की … जिस तरह मेरे वालिद मरहूम अनीसुर रहमान शरवानी साहब ने सियासत की … वह 1969 – 74 में एमएलए रहे और मिनिस्टर भी रहे और उत्तर प्रदेश के उन लोगों में रहे जिन्हें सियासत से कोई ज़ाती फ़ायदा नहीं लिया … हजारों लोगों की बेमिसाल खिदमत की अपनी जेब से किराया तक दिया … मगर अफसोस कि उनके साथ भी वही हुआ जो अरसे से ईमानदार लोगों के साथ हो रहा है जब मरहूम आखिर में अपना अलेक्शन 1989 में उन्होंने लड़ा तो उन्हें सिर्फ 10000 वोट मिले … जिस शख्स ने अपनी जिंदगी के 35 साल अपने उसूलों की सियास्त करने में, हजारों लोगों को फ़ायदा देने में दिए आखिर में उन्हें भी थक कर सयास्त से अलग होना पड़ा … ढाई – 3 साल के कलील अरसे में .. जिला अलीगढ़ शहर और पूरा जिला इस बात को जानता है कि अपनी हद से ज्यादा मैंने कोशिश की कि मैं लोगों के काम आ सकूं … और अलहमदुलिल्ला हजारों को फायदा पहुंचाया और यह अल्लाह करीम का बहुत बड़ा मेरे ऊपर एहसान है कि जितने काम हुए उसमें एक पैसा लेना तो बहुत दूर की बात थी अलहमदुलिल्ला एक पैसा किसी को रिश्वत का नहीं देना पड़ा … मगर नतीजा भी हुआ के हजारों के काम आने के बाद जब मुझे खुद क़ौम ने इलेक्शन लड़ने के लिए कहा और मैं उन 2012 में इलेक्शन लड़ने पहुंचा तो एक बड़े कारखाने वाले के पैसे ने तीन रातों में वह खेल किया कि हजारों के काम आने वाला … बड़ी बड़ी लड़ाइयां लड़ने वाला … सिर्फ 3900 वोट पाकर घर बैठ गया … अब लोग कहते हैं घर क्यों बैठे तो बहुत सीधी बात है भाई, यह डेमोक्रेसी है यहां पब्लिक जिस का साथ देती है वही ही लीडर होता है … 3900 वोट लेने के बाद आदमी,बड़ी लड़ाई नहीं लड़ सकता .. इंशाल्लाह बहुत से काम मैं आपके बीच में लाऊंगा और सिर्फ इसलिए बताऊंगा कि लोग जो कहते हैं कि आज काम नहीं हो सकता, अगर इंसान के पास दीन का उसूल है, तो वह सब कुछ कर सकता है …

बस मेरी दरख्वास्त यह रहेगी कि मैं जो लिखूं उस पर ध्यान दें क्योंकि उस शख्स का लिखा हुआ है जो मौजूदा हालात को बहुत अच्छी तरह से जानता है …
और मेहरबानी करके कोई भी पोस्ट शेयर करने से पहले पूछ जरूर ले … चुके मैं यहां कुछ लोगों से दिल की बात करना चाहता हूं मैं कोई लाइक और कमेंट का खेल खेलना नहीं चाहता । इतने जिंदगी में एक चीज खूब सीखी है के सलाहियत सिर्फ चंद लोगों को दी जाती है, बाकी अवाम अगर समझदार होता तो दुनिया भर का मौजूदा निजाम जो आज बेईमानों और रिश्वतखाने वालों के हाथ में है … यूं ना होता …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *