اردو خبریں خاص موضوع

ان کی بیٹی شاید زندہ نہ رہے

“کھانسی” سے جُڑی ایک کہانی

شدید کھانسی کی وجہ سے ڈاکٹروں نے والدین سے کہہ دیا کہ ان کی بیٹی شاید زندہ نہ رہے۔ اُس کے پھیپھڑے مسلسل اور شدت سے کھانسنے کی وجہ سے متاثر ہورہے تھے۔

اینِڈ بلیٹن اپنے والدین کی پہلی اولاد تھی اور وہ اپنی نورِ نظر کو یوں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انھوں نے بیٹی کا مزید علاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور آخر کار وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوگئی۔

اینِڈ بلیٹن 11 اگست 1897 کو جنوبی لندن کے ایک قصبے میں پیدا ہوئیں۔ بیماری کے بعد ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق ان کا زیادہ تر وقت پُرفضا مقامات اور فطرت کے درمیان گزرا۔

اینِڈ بلیٹن کے والد خود بھی فطرت کے دلدادہ تھے۔ وہ پرندوں اور جانوروں سے محبت کرتے تھے اور باغبانی ان کا مشغلہ تھا۔ یہی نہیں بلکہ وہ ادب اور آرٹ کا عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ یوں اینِڈ کو بھی فنونِ لطیفہ سے دل چسپی پیدا ہوگئی۔

بعد میں اینِڈ بلیٹن نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کیا اور شہرت حاصل کی۔

انگریزی ادب میں انھیں بچوں کی لکھاری کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 1930 کی دہائی سے ان کی کتابیں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی رہیں۔ آج بھی ان کی کہانیاں پہلے کی طرح بچوں اور بڑوں میں بھی مقبول ہیں۔

اس مصنفہ کی کہانیوں کا 90 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا جن میں اردو زبان بھی شامل ہے۔ اینِڈ بلیٹن کی پہلی کتاب ’چائلڈ وسپرز‘ کے نام سے 1922 میں شایع ہوئی جو نظموں کا مجموعہ تھی۔

اس کے بعد تاریخ، محیرالعقول واقعات پر مبنی پُراسرار کہانیاں منظرِ عام پر آئیں۔ انھوں نے مذہب اور عام واقعات کو بھی موضوع بنایا۔

1968 میں ان کی زندگی کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، مگر اب تک وہ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں کی مصنفہ کا اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

وہ زمانہ طالب علمی سے کہانیاں اور نظمیں لکھنے میں دل چسپی لینے لگی تھیں اور وقت کے ساتھ ان کی تحریروں میں بہتری آتی گئی۔

ابتدائی دور میں ناشروں نے ان کی تخلیقات کو مسترد کیا، لیکن انھوں نے ہمت نہ ہاری۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر لکھا اور ان کی تخلیقات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

 

source : ary news

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *