اردو خبریں خاص موضوع

روحِ لطیف – Ethereal soul

Shaista Mufti

·
روحِ لطیف – Ethereal soul

روح آزاد ہے زندان کی تنہائی میں
چھو کے آتی ہے کبھی عرش
کبھی تاروں کو
جست بھرتی ہے بہت دور
کہکشاؤں میں
سانس لیتی ہے کبھی
گھاس کی ہریالی میں
روح آزاد ہے ۔۔
ہر پھول پہ شبنم کی طرح
شبنمی چہرہ ، فقط ایک کرن کا منظر
اک جھلک خواب کی صورت جو نظر آئے ہے
سات رنگوں کے حسیں رنگ لئے
آنکھوں میں
روح سرشار پری جیسے اڑی جائے ہے

روح آزاد ہے اس رات کی تاریکی میں
گر یقیں تم کو نہیں
دور کہیں چلتے ہیں۔۔
ایسی محفل میں جہاں خواب نگر سجتے ہیں
جنبشِ چشم پہ مے ناب پئے جاتے ہیں
روح آزاد ہے مدہوش فضاؤں میں کہیں
رات کا پچھلا پہر ہے کہ صدا آئی ہے
کوئی سائل ہے کہیں ؟؟
ایک نظر دیکھ تو لوں !
گھپ اندھیرے میں دریچے سے
ذرا جھانک تو لوں
اسی سناٹے میں پنہاں ہیں سبھی گیت مرے

روح خاموش ہے ۔۔
اور گیت مدھر سنتی ہے
اپنے آزاد تخیل پہ بہت نازاں ہے
لوٹ آتی ہے مگر قید کی تنہائی میں
ساتھ رنگین بہاروں کے کئی عکس لئے
اپنی حیران نگاہوں میں مدھر رقص لئے
روح آزاد ہے ۔!! تم قید کسے کرتے ہو ؟؟

شائستہ مفتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *