اردو خبریں خبر دنیاں

کروناوائرس کے تعلق سے سعودی عرب کی اہم خبریں ایک ساتھ پڑھیں

سعودی عرب میں کرونا مریضوں کے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات

ریاض : کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سعودی حکومت کی جانب سے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث اس جان لیوا وبا پر قابو پانے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

سعودی وزارت صحت کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے تحت بیرون ملک سے آنے والوں پر عارضی پابندی عائد کی جا چکی ہے تاکہ کورونا پر قابو پانے کے اسباب کو مستحکم کیا جاسکے۔

وزارت صحت کی جانب سے کورونا آگاہی مہم کے تحت عربی، انگلش، اردو سمیت مختلف زبانوں میں معلوماتی ہینڈ بلز بھی شائع کر کے تقسیم کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔

سعودی عرب میں وزارت صحت کے اہلکار بلا کسی تفریق ہر ایک کو طبی امداد ومشورہ فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت کی جانب سے وبائی مرض کورونا کے حوالے سے وزارت صحت کی زیر نگرانی مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

مملکت کے ہوائی اڈوں پر خصوصی یونٹس متعین کیے گئے ہیں جب کہ وزارت صحت کے تمام اسپتالوں میں عالمی ادارہ صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قرنطینہ قائم کیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے سعودی وزارت صحت کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ کورونا کے حوالے سے جامع انداز میں کام کیا جارہا ہے۔ تمام انٹرنیشنل ایئر پورٹس پر خصوصی ٹیمیں متعین کی گئی ہیں جو آنے والے مسافروں کا طبی معائنہ کرنے کے علاوہ ان کی ٹریول ہسٹری لینے کے بعد ہدایات جاری کرتی ہیں۔

وزارت صحت نے عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر قرنطینہ اور آئیسولیشن سینٹر قائم کیے ہیں جہاں ابتدائی طور پر مشتبہ مریضوں کو رکھا جاتا ہے جس کے بعد انہیں وزارت کی خصوصی ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال منتقل کردیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی وزارت صحت کی جانب سے نئے کورونا وائر س کے حوالے سے ہر لمحہ باخبر رہنے کے لیے ویب سائٹ پر تازہ ترین معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ نومبر2019 میں چین کے شہر ووہان سے پھوٹ پڑنے والے وبائی مرض کورونا نے اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، دنیا بھر میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا گیا ہے جب کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی کورونا کو وبا قرار دیا جا چکا ہے۔

کروناوائرس: سعودی عرب میں کرفیو، اہم وضاحت سامنے آگئی

 

ریاض: سعودی عرب میں کروناوائرس کے پیش نظر کرفیو نافذ ہے البتہ کن شعبوں کو اس ضمن میں استثنیٰ حاصل ہوگا اس سے متعلق اہم وضاحت سامنے آگئی۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کرفیو سے متعلق وضاحتی اعلامیے میں سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کرفیو سے مملکت میں بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے والے شعبوں کو استثنی حاصل ہے۔

سعودی عرب میں غذائی مواد فراہم کرنے والا شعبہ کرفیو سے مستثنی ہوگا جس میں سپر مارکیٹ، بقالے، سبزی کی دکانیں، مرغی، گوشت اور روٹیاں فروخت کرنے والے بھی شامل ہیں۔

دریں اثنا صحت کا شعبہ بھی کرفیو سے آزاد ہوگا جس میں فارمیسی، پولی کلینکس، ہسپتال، لیبارٹری، ایکسرے اور طبی شعبے کی فیکٹریاں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں وسائل اطلاعات کے تمام شعبوں کو بھی کرفیو سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کرفیو کے دوران غذائی اشیا یا طبی سامان لانے اور لے جانے پر بھی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ مملکت میں شہری آسانی سے ہوم ڈیلیوری کی بھی سہولت حاصل کرسکیں گے۔

کروناوائرس کے باعث نافذ کرفیو کے دوران ایمرجنسی حالت میں نقل وحرکت پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ جبکہ پٹرول پمپس، بجلی کمپنی کے اہلکار اور بجلی کے تعطل کو بحال کرنے والی ٹیمیں بھی پابندی سے استثنیٰ ہوں گی۔

سعودی عرب: جعلی سینیٹائزر، ناقص ادویات اور دودھ فروخت کرنے والے ملزمان گرفتار

 

ریاض : سعودی عرب میں پولیس نے گوداموں پر چھاپے مار کر جعلی دوائیں، بچوں کا دودھ اور سینیٹائزر برآمد کرلیے، چھاپہ مار ٹیموں نے کاروبار میں ملوث ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی وزارت صحت، وزارت تجارت اور ایف ڈی اے کی نگراں ٹیموں نے جنوبی ریاض کے چار گوداموں اور کئی فارمیسیوں پر چھاپے مارے، اس دوارن جعلی دوائیں، بچوں کا دودھ اور سینیٹائزر بڑی تعداد میں ضبط کیا گیا۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق فارمیسیوں کے مختلف گوداموں سے زائد المیعاد ادویات، بچوں کا ناقابل استعمال دودھ اور جعلی سینیٹائزر برآمد ہوئے ہیں۔

چھاپے کے دوران موجود ایک مقامی صحافی نے واقعے کی ویڈیو شیئر کی ہے جس میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ غیر قانونی تارکین بڑی تعداد میں جعلی سینیٹائزر، غیر اجازت یافتہ ادویات اور بچوں کے زائد المیعاد دودھ ذخیرہ کئے ہوئے ہیں۔

، وڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کچھ لوگ سینیٹائزر کے بڑے ڈرم لارہے ہیں اور انہیں مختلف سائز کی بوتلوں میں بھر رہے ہیں۔

چھاپہ مار ٹیم نے متعلقہ فارمیسی بند کرکے غیر قانونی ادویات ضبط کرلیں،چھاپہ مہم کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ ایک سعودی شہری کئی عرب اور ایشیائی ممالک کے شہریوں کو گوداموں اور فارمیسیوں کے غیر قانونی کاروبار کی سرپرستی کررہا تھا۔

کورونا وائرس ، سعودی بادشاہ شاہ سلمان نے کرفیو کا اعلان کردیا

 

ریاض : سعودی فرمانرواں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے 21دن کے لئے رات کا کرفیو نافذ کردیا، کرفیو شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے، شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کی صحت اور سلامتی کی خاطر 21 دن کے لئے رات میں کرفیو نافذ کرنے کا حکم جاری کردیا۔

رات کے کرفیو کے لئے شاہی فرمان جاری کردیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ’کرفیو روزانہ شام سات سے صبح چھ بجے تک 21 دن جاری رہے گا‘ جبکہ شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو کرفیو اوقات کے دوران اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکار، فوجی، میڈیا سیکٹر کے ملازمین ، صحت اور خدمات کے اہم شعبوں کے ملازمین کرفیو سے مستثنی ہوں گے۔

سعودی بادشاہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کرفیو کے نفاذ کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے گی جبکہ تمام سول اور فوجی حکام کو اس سلسلے میں وزارت داخلہ سے مکمل تعاون کا حکم دیا۔

خیال رہے وزارت صحت نے بتایا تھا کہ اتوار کو کورونا کے 119 نئے مریض سامنے آئے ہیں ، جس کے بعد سعودی عرب میں کل تعداد بڑھ کر 511 ہوگئی ہے۔

 

کروناوائرس: سعودی عرب میں شہری کیوں گرفتار ہوا؟

 

ریاض: سعودی عرب میں کروناوائرس سے لڑنے والے طبی عملے کا مذاق اڑانا شہری کو مہنگا پڑگیا، پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقامی شخص کو گرفتار کرلیا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں سعودی شہری کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں اس نے طبی عملے کا مذاق اڑاتے ہوئے ان کی توہین بھی کی تھی۔

ردعمل میں مقامیوں اور غیرملکیوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اوباش شہری کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے شہری کو دھر لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ مذکورہ شخص نے تضحیک آمیز ویڈیو میں حفاظتی ماسک اتار کر پھینک دیا تھا اور کہا تھا کہ کرونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے جو حفاظتی تدابیر کی جارہی ہیں وہ بکواس ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

البتہ مذکورہ شخص نے اپنی دوسری ویڈیو میں اس حرکت پر معافی بھی مانگی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *