اردو خبریں خاص موضوع

ہتھیلیاں جدا کر دی گیی ہیں ”وائرس کے دنوں میں ایک نظم”– تبسم فاطمہ

 

Tabassum Fatima
=========
ہتھیلیاں جدا کر دی گیی ہیں
( وائرس کے دنوں میں ایک نظم )
— تبسم فاطمہ

ہتھیلیاں جدا کر دی گیی ہیں
وائرس کے اندھیروں میں
سورج شہر خموشاں میں چھپنے کی تیاری کر رہا ہے/
بادلوں کے جھنڈ اور ستاروں نے
فلک پر راستہ چھوڑ دیا ہے
ہم نہیں جانتے کہ ہمارے پاؤں بھی
دلدلوں میں غائب ہو گئے ہیں
ہوا میں معلق چہرہ ہے
جو غبارے کی طرح تنہایی میں رقص کر رہا ہے

وبا اور وائرس کے دنوں میں
کمرے میں ڈولتا چہرہ چھت سے ٹکرا کر
لہولہان ہو سکتا ہے .
ماسک اور وینٹیلیٹر کے بغیر ہم اس چہرے کو
وہیں دفن کر دیں گے
جہاں ہماری ہتھیلیاں ہیں اور ہمارے پاؤں

مخالف ہوا کھڑکیوں سے آ کر
ہمارے سنگھار دان ، کچن اور برآمدے پر قبضہ کر سکتی ہے
ہم چیخ کے لئے ابھی بھی
کٹی ہوئی زبانوں کا استعمال کر سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *