اردو خبریں خاص موضوع

سنت مؤکدہ کا ترک : ایک شرعی جائزہ مفتی, امانت علی قاسمیؔ استاذ و مفتی دار العلوم وقف دیوبند

fazlur-rahman allahbaad

سنت مؤکدہ کا ترک ۔
ایک شرعی جائزہ

مفتی امانت علی قاسمیؔ
استاذ و مفتی دار العلوم وقف دیوبند

شریعت میں دو قسم کے احکام ہیں کچھ کا تعلق کرنے سے ہے اور کچھ کا تعلق نہ کرنے سے ہے پہلی قسم کے احکام کے مختلف درجات ہیں ، فرض ، واجب ، سنت مؤکدہ ، سنت غیر مؤکدہ اور مستحب ،اسی طرح دوسری قسم کے احکام کے مختلف درجات ہیں ، حرام ، مکروہ تحریمی ، مکروہ تنزیہی ، اور خلاف اولی وغیرہ ۔ یہ درجہ بندی نصوص کے ثبوت اور دلائل کے اعتبار سے کی گئی ہے،چنانچہ وہ دلائل جو ثبوت و دلالت دونوں اعتبار سے قطعی ہوں جیسے قرآن کی وہ آیات جو محکم اور واضح الدلالت ہیں ،اسی طرح وہ احادیث جو تواتر کے ساتھ منقول ہیں اوران کے مفاہیم بھی قطعی ہیں ان سے ثابت ہونے والا حکم جانب امر میں فرض ہوتا ہے اور جانب نہی میں حرام ۔اور وہ دلائل جو ثبوت کے اعتبار سے تو قطعی ہوں لیکن مفہوم کے عتبار سے ظنی ہو جیسے وہ آیت جو موؤل ہیں ،اسی طرح وہ دلائل جو ثبوت کے اعتبار سے ظنی ہوں البتہ مفہوم کے اعتبار سے قطعی و یقینی ہوں جیسے اخبار آحاد کے ثبوت میں ایک گونہ شبہ ہوتا ہے البتہ دلالت کے اعتبار سے قطعی ہوتے ہیں ان دونوں سے جانب امر میں ثابت ہونے والا حکم واجب اور جانب نہی میں ثابت ہونے والا حکم مکروہ تحریمی کہلاتا ہے اور وہ دلائل جو ثبوت اور دلالت دونوں کے اعتبار سے ظنی ہوں جیسے اخبار آحاد جو اپنے مفہوم پر دلالت کرنے میں بھی ظنی ہیں اس سے جانب امر میں سنت اور مستحب اور جانب نہی میں کراہت تنزیہی کا حکم ثابت ہوتا ہے ۔علامہ شامی لکھتے ہیں : ان الادلۃ السمعیۃ اربعۃ : الاول قطعی الثبوت و الدلالۃ کنصوص القرآن المفسرۃ أو المحکمۃ و السنۃ المتواترۃ التی مفہومہا قطعی الثانی : قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ کلآیات الموؤلۃ الثالث : عکسہ کاخبار لآحاد التی مفہومہا قطعی الرابع ظنیہما کأخبار الآحاد التی مفہومہا ظنی فبألاول یثتب الافتراض و التحریم و بالثانی و الثالث الایجاب و کراہۃ التحریم و بالرابع تثبت السنیۃ و الاستحباب (رد المحتار : ۹/۴۰۹)
خلاصہ یہ کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ چاروں قسم کے دلائل سے ایک ہی طرح کے ا حکام ثابت نہیں ہوں گے ، بلکہ جس طرح دلائل میں تفاوت ہے اسی طرح احکام میں بھی تفاوت ہوتاہے ۔
وہ کام جس کو نبی کریم ﷺ نے اور صحابہ کرام نے کیا ہو اور اس کی تاکید کی ہو یا ترغیب دی ہو اس کو سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے سنت مؤکدہ وہ ہے جس کو حضور ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے ہمیشہ کیا ہو یا کرنے کی تاکید کی ہو اور بلا عذر کبھی ترک نہ کیا ہو یہ حکم میں عملا واجب کی طرح ہے اس کا بلا عذر کے ترک پر اصرار کرنا یہ گناہ کا باعث اور شفاعت سے محرومی کا سبب ہے ۔اور سنت غیر مؤکدہ وہ ہے جس پر آپ ﷺ نے پابندی نہ فرمائی ہو کبھی کیا اور کبھی ترک کردیا ہو، یا یہ کہ آپ نے اس کو بطور عادت کے کیا ہو اس کا کرنا ثواب کا باعث ہے ترک کرنا گناہ کا باعث نہیں ہے ۔البحرالرائق میں ہے : سنۃ مؤکدۃ قریبۃ من الواجب حتی اطلق بعضہم علیہ الوجوب و لہذا قال محمد لو اجتمع اہل بلد علی ترکہ قاتلناہم علیہ و عند ابی یوسف یحسبون و یضربون و ہو یدل علی تاکدہ لا وجوبہ ( البحرالرائق ۳/۶) علامہ شامی لکھتے ہیں : لہذا کانت السنۃ قریبۃ من الواجب فی لحوق الاثم کما فی البحر و یستوجب تارکہا التضلیل و اللوم کما فی التحریر ای علی سبیل الاصرار بلا عذر ( ( فتاوی شامی ۲/ ۱۲)علامہ شامی نے صاحب بحر کاقول نقل کیا ہے : والذی ظہر للعبد الضعیف ان السنۃ ما واظب علیہ النبی ﷺ لکن ان کانت لا مع الترک فہی دلیل السنۃ المؤکدۃ وان کانت مع الترک احیانا فہی دلیل غیر المؤکدۃ وان اقترنت بالانکار علی من یفعلہ فہی دلیل الوجوب فافہم فان بہ یحصل التوفیق ( فتاوی شامی ۱/ ۲۲۲)
سنت مؤکدہ کا بلا عذر ترک کرنا اور ترک پر اصرار کرنا یہ باعث گنا ہ ہونے کے ساتھ ساتھ شفاعت سے محرومی کا باعث ہے اس لیے کہ جس کا کو آپ ﷺ اہتمام نے کیا ہو، اوراس کے کرنے کی تاکید ہو پھر بلا عذر کے اس کو ترک کرنا بہت بڑی محرومی اور شقاوت کی بات ہے ، حضرات فقہاء نے تصریح کی ہے کہ سنت مؤکدہ کے ترک پر اصرار یہ گناہ کا باعث ہے؛ اس لیے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : من ترک سنتی لم تنلہ شفاعتی ( فتح القدیر ، کتاب الضحیۃ :۹/۵۰۹) جس نے میری سنت کو ترک کردیا وہ میری شفاعت نہیں پائے گا۔ ایک حدیث میں ہے آپ نے فرمایا : من رغب عن سنتی فلیس منی(صحیح ابن خزیمۃ حدیث نمبر : ۱۹۷) جو میری سنت سے اعراض کرے وہ میرے طریقہ پر نہیں ہے۔امام مکحول حدیث کے بڑے امام گزرے ہیں وہ لکھتے ہیں : السنۃ سنتان :سنۃ اخذہا ہدی و ترکہا ضلالۃ و سنۃ اخذدہا حسن و ترکہا لا بأس بہ (اصول السرخسی ۱/۱۱۴))سنت کی دو قسمیں ہیں ایک وہ سنت ہے جس پر عمل کرنا ہدایت اور ترک کرنا گمراہی ہے اور ایک وہ ہے جس پر عمل کرنا ہدایت ہے اور ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ الاحکام التکلیفی فی الشریعۃ الاسلامیۃ کے مصنف نے سنت مؤکدہ کے تارک کے لیے گنا ہ گار ہونے کو مختلف دلائل سے ثابت کیا ہے ۔چنانچہ وہ عبد اللہ بن مسعود کا قول نقل کرتے ہیں : عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ : جس کو اس سے خوشی ہو کہ کل قیامت میں وہ اللہ تعالی سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملاقات کرے ان کو چاہیے کہ وہ ان نمازوں پر پابندی کرے کیوں کہ اللہ تعالی نے تمہارے نبی کریم کے لیے کچھ سنن ہدی کو مشروع کیا ہے اور یہ نمازیں سنن ہدی میں سے ہیں -آگے ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اگر تم نے اپنے نبی کی ان سنتوں کو ترک کردیا تو تم راہ راست سے ہٹ گئے ۔ دیکھئے ابن مسعود نے سنت کے ترک کرنے کو ضلالت سے تعبیر کیا ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ نے سنت کے ترک پر وعید بیان کی ہے ایک حدیث میں ہے کہ نماز میں صفوں سیدھی رکھو ورنہ اللہ تعالی تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا ۔اسی طرح ایک اعرابی بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا اور سنت کے ترک پر اصرار کرتا تھا آپ نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھأنا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھا سکتاتو آپ نے اس کے لیے بددعا کی کہ تم نہیں کھاسکو گے اس کے بعد اس شخص کا دایاں ہاتھ کبھی اس کے منھ تک نہیں پہونچ سکا ۔ اس کو نقل کرنے کے بعد وہ لکھتے ہیں اگر سنت پر عمل کرنے کی اتنی اہمیت نہ ہو تی تو آپ ﷺ جو کہ بڑے شفیق و مہربان تھے کبھی اس کے لیے بد دعا نہ کرتے (الاحکام التکلیفی ص: ۱۷۴)علامہ شاطبی الموافقات میں لکھتے ہیں : مندوبات ( سنن) کا بالجملہ ترک کرنا دین کے ضائع ہونے میں مؤثر ہے جب کہ یہ ترک دائمی ہو ہاں اگر کسی وقت ترک کردیا جائے تو اس کے ترک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اذا کان الفعل مندوبا بالجزء کان واجبا بالکل کالاذان فی المساجد الجوامع وصلاۃ الجماعۃ و صلاۃ العیدین صدقۃ التطوع و النکاح والوتر و سائر النوافل الرواتب۔فالترک لہا جملۃ مؤثر فی أوضاع الدین اذا کان دائما أما اذا کان فی بعض الأوقات فلا تأثیر لہ فلا محظور فی الترک ( کتاب ا لموافقات ۲/ ۲۶۸وزارۃ الاوقاف قطر )
مذکورہ تفصیل سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ سنت مؤکدہ کا ترک کسی عذر کی ووجہ سے یا کبھی کبھا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے ترک کا معمول بنانا درست نہیں ہے ایسا کرنے والا والا گنہ گا ر ہوگا ۔
اصول فقہ کی کتابوں میں احکام کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں فرض اور نفل، یہاں پر نفل ،فرض کے مقابلہ میں ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے زائد یعنی یہ فرض سے زائد ہے لیکن فقہاء پھر اس نفل کی تقسیم کرتے ہیں واجب ، سنت مؤکدہ ،سنت غیر موکدہ اور مستحب کے ذریعہ سے۔ پھر ہر ایک کا الگ الگ حکم بیان کیا جاتا ہے جیسا کہ ماقبل میں معلوم ہوگیا کہ واجب کا ترک کرنا بھی گنا ہ ہے اسی طرح سنت مؤکدہ کا ترک کرنے کو معمول بنانا گنا ہ ہے تاہم دونوں میں فرق ہے سنت کے ترک کا گنا ہ واجب سے کم تر درجہ کا ہے اور یہ ایک عقلی اور بدیہی بات ہے اللہ کا حکم نہ ماننا ، یہ بھی برا ہے اور رسول اللہ کا حکم نہ ماننا یہ بھی برا ہے اسی طرح باپ اور بڑے بھائی کا حکم نہ مامنا یہ بھی برا ہے ہاں لیکن نسبت کے اعتبار سے درجہ میں فرق ہے ۔
حال میں ایک تحریر شائع ہوئی جس کا عنوان تھا’’ نوافل پڑھنا بہتر ہے لیکن نہ پڑھنے کا گنا ہ نہیں‘‘ ۔ اس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ فرض کے علاوہ تمام نمازیں نفل ہیں چاہے وہ سنت مؤکدہ ہوں یا غیر مؤکدہ ہوں اس پر عمل کرنا باعث ثواب ہے لیکن عمل نہ کرنا گنا ہ نہیں ہے ۔ تراویح پڑھ لیں تو بہت اچھاہے نہ پڑھیں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔یہ تحریر ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب کی ہے ، موصوف جماعت اسلامی کے مؤقر لوگوں میں ہیں اورجماعت اسلامی کے شریعہ اکیڈمی کے ذمہ دار ہیں ، کثرت سے لکھتے ہیں اور سہل نگار واقع ہیں ان کی تحریریں پڑھی جاتی ہیں ، ادھر چند دنوں سے مولانا محترم کی بعض فقہی تحریریں ایسی آرہی ہیں جن سے راقم کو اختلاف ہے ، مولانا موصوف جس رائے کو بہتر سمجھتے ہیں اسے آزادی سے لکھتے ہیں اس لیے میں بھی اپنا فریضہ سمجھتا ہوں کہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے رکھوں ، آراء کا اختلاف پہلے بھی رہا ہے ، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ قارئین کے سامنے تصویر کا دوسرا رخ بھی واضح ہوجائے ۔
مولانا موصوف نے جو لکھا بعد میں ان کے بعض دوستوں نے ان سے رابطہ کیا اور معلوم کیا ہے کہ کیا فجر کی سنت کے ترک پر بھی کوئی گنا ہ نہیں ہوگا تو آپ کا جواب تھا کہ فرض کے علاوہ سب نفل ہے ،کسی نے یہ معلوم کیا کہ یہ تقسیم کہاں سے کی ہے تو جواب تھا کہ اصول فقہ کی کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں ، خوشی ہوئی کہ موصوف اصول فقہ کی کتاب کے مطالعہ کا مشورہ دے رہے ہیں ، یہ نہیں کہا کہ حدیث میں دیکھ لیں ، واقعہ یہ ہے جیسا کہ میں نے اوپر بھی لکھا کہ احکام کی دو قسم فرض اور نفل ہے لیکن ہمارے معاشرے میں جو نفل استعمال ہوتا ہے وہ اصطلاحی نفل استعمال نہیں ہوتا ہے بلکہ ہمارے درمیان جو نفل رائج ہے وہ سنت غیر مؤکدہ ہے ، اس طرح مولانا نے فقہاء کے نفل کی تشریح نہیں کی ہے کہ فقہاء کے یہاں نفل کے ضمن میں واجب ، سنت مؤکدہ بھی داخل ہے اور اس کا حکم الگ ہے بلکہ انہوں نے معاشرے میں رائج نفل اور اصول فقہ کے نفل کو خلط ملط کرکے لوگوں کو مغالطہ میں ڈالاہے ۔
مولانا نے سنت مؤکدہ کے جواب میں بھی یہی کہا کہ اس کے ترک پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے حالاں کہ اوپر علامہ شاطبی ، علامہ شامی ، ابن الہمام ، امام مکحول وغیرہ کے علاوہ عبد اللہ بن مسعود کے اقوال پر اگر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سنت مؤکدہ کے ترک کا معمول بنانا درست نہیں ہے اس سے آدمی گنہ گار ہوتا ہے ۔حدیث سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے جماعت میں شریک ہونا زیادہ تر فقہاء کے یہاں سنت ہے لیکن اس میں شریک ہونے والے کے لیے آپ نے اظہار ناراضگی کے طور پر فرمایا : میرا جی چاہتا ہے کہ ان کے گھروں کو آگ لگادوں ۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ فجر کی سنت یا ظہر کی سنت کو سنت مؤکدہ سمجھتے ہیں اور سنت مؤکدہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں ایسے ماحول میں یہ تشریح کرکے کہ فرض کے علاوہ تمام نمازیں بشمول وتر کے نفل ہیں اسے پڑھ لیا جائے تو بہت اچھاہے قرب خداوندی کا ذریعہ ، فرض کی تکمیل ہوتی ہے لیکن اگر نہ پڑھے تو کوئی گناہ نہیں ہوگا اس کے ذریعہ مولانا نے لوگوں کو تراویح یا دوسری سنت مؤکدہ کے اہتمام پر ابھارا ہے یا ترک پرابھارا ہے؟ جو لوگ مولانا کی تحریر پڑھیں گے وہ یہی سمجھیں گے کہ اب تک ہم اس کو ضروری سمجھتے تھے اب معلوم ہوگیا کہ ضروری نہیں ہے پڑھ لیں تو اچھا ہے نہ پڑھیں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ظاہر ہے ایسی صورت میں عمل کی رغبت کم ہوگی اور دوسری طرف معاشرے میں انتشار بھی پیدا ہوگا۔ حالاں کہ قرآن و حدیث کا اسلوب یہ بتاتا ہے کہ بعض مرتبہ اصل حکم سے ہٹ کر تہدید کے لیے اور ڈرانے کے لیے سخت حکم بیان کیا جاتا ہے اگر چہ وہ مقصود نہ ہو ، آپ ﷺ نے فرمایا :من ترک الصلاۃ متعمدا فقد کفرجس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیا وہ کافر ہوگیا ، مسلمان جھوٹ نہیں بولتا ہے، جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ، ان تمام احادیث میں حدیث کا ظاہر مراد نہیں ہے بلکہ محدثین کہتے ہیں کہ یہ تشدید اور تہدید کے طور پر ہے ۔
رمضان المبارک میں وتر جماعت سے پڑھنا افضل ہے یا تنہا رات کے آخری پہر میں پڑھنا افضل ہے ؟ حضرات صحابہ کا عمل یہی تھا کہ رمضان میں وتر کی نماز جماعت سے پڑھتے تھے ، حضرت علی وتر کی جماعت کی امامت کرتے تھے اس لیے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا افضل ہے ، لیکن مولانارضی الاسلام صاحب نے اپنی ایک دوسری تحریر میں لکھتے ہیں کہ اگر کسی کو رات کے اخیر میں بیدار ہونے کا یقین ہو تو رات میں تنہا وتر پڑھنا افضل ہے ، اس لیے کہ حدیث میں حضور نے فرمایا ہے کہ اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ اس حدیث کی بنا پر رات کے اخیر میں تنہا پڑھنا افضل ہے ۔ان کی اس تحریرسے بھی بہت سے لوگوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ حضرات صحابہ کرام کے سامنے بھی یہ حدیث تھی ، اور حضرات صحابہ کرام سے زیادہ نہ کوئی دین سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی دین پر عمل کرسکتا ہے ، اور نہ ہی حضرات صحابہ کرام سے زیادہ کوئی دین دار ہوسکتاہے اور نہ ہی نبی ﷺ کے مزاج سے واقف اور نہ ہی کوئی صحابہ کرام سے زیادہ نبی کا عاشق ہوسکتا ہے اگر صحابہ میں کسی کا انفرادی عمل ہوتا تو یہ گنجائش ضرور ہوتی لیکن صحابہ کا اجماع ہو اس کو چھوڑ کرحدیث کی ایسی تشریح کرنا جس سے یہ ثابت ہو کہ صحابہ کرام کا عمل حدیث کے خلاف تھا اعلی درجہ کی جرأت اور بددیانتی ہے ؟ جن صحابہ کرام نے وہ حدیث بیان کی ان کی حدیث تو لیتے ہیں لیکن صحابہ کرام کے اجماعی عمل کا انکار کردیتے ہیں ، کیا حضرات صحابہ کرام نبی ﷺکے اس عمل سے واقف نہیں تھے ، پھر تو تراویح کو یہ کہہ کر چھوڑ دینا چاہیے کہ حضورﷺ سے پورے رمضان جماعت کے ساتھ تراویح کا اہتمام ثابت نہیں ہے اورصحابہ کا عمل ہمارے لیے حجت نہیں ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام، ہمارے اور نبیﷺ کے درمیان واسطہ ہیں ، دین کے سلسلے میں ان کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے اور حضرات خلفاء راشدین کے عمل کو آپ ﷺ نے سنت سے تعبیر کیا ہے ؛اس لیے صحابہ کرام کا عمل نبی کے عمل کی تشریح و توضیح کہلائے گا نبیﷺ کے عمل کے خلاف نہیں کہلائے گا

Facebook Comments