اردو خبریں خاص موضوع

محبت کی ’سزا قتل‘

جہاں محبت کی ’سزا قتل‘ ہے

مصنف صبا حسین

بھائی نے ہاتھ پکڑے اور ماموں نے گولی ماری۔ غیرت کی یہ گولی بندوق سے نکلی اور ایک معصوم جسم کو چیرتے ہوئے اندر کہیں گم ہو گئی۔ البتہ ’عزت بحال‘ ہو گئی۔

سندھ کے دیہی علاقے کی ایک عورت کی دوستی ایک بلوچ مزدور کے ساتھ ہو جاتی ہے اور بات آگے بڑھ کر محبت تک پہنچتی ہے۔ دونوں اس محبت کی تکمیل اور شادی کرنے کے لیے بلوچستان کی پہاڑیوں کا رخ کرتے ہیں۔ اب عورت تو گھر کی عزت بھی ہوتی ہے، چنانچہ بلوچستان تک اس جوڑے کو ٹریس کیا جاتا ہے۔ جان جوکھوں میں ڈال کر عورت کو بازیاب کرایا جاتا ہے اور واپس اپنے گھر لے جایا جاتا ہے۔

دن کے وقت اس معصوم عورت کو ‘کاری‘ کر کے ‘غیرت‘ بحال کرنے کی رسم پوری کر دی جاتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، محبت اور موت میں سے موت کا انتخاب کر لیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد انصاف کا آسرہ رہ جاتا ہے مگر ملزم اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں اور با عزت بری ہو کر اُسی ٹھاٹھ سے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

ایک باپ نے حاملہ بیٹی کو سر میں پتھر مار کر ہلاک کر دیا اور جواز یہ دیا کہ وہ دیوار سے باہر مردوں کو اشارے کر رہی تھی۔کارو کاری جیسی فرسودہ رسم کوئی نئی رسم نہیں ہے۔ یہ زمانوں سے چلی آنے والی رسم ہے، جسے معیوب تو خیر کیا سمجھا جاتا، واجب سمجھاجاتا ہے۔

اس قدیم رسمی قتل کا جواز خاندانی عزت میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ مطلب پورے خاندان کی عزت ایک عورت کے جسم سے جوڑ دی جاتی ہے اور پھر عقائد کا سہارا لے کر اسے معاشرتی حقیقت کی شکل بھی دے دی جاتی ہے۔

سکھر سے روہڑی آتے ہوئے جنوب کی طرف سندھو دریا کے کنارے چھوٹی ٹیکری پر واقع ”ستین جو آستھان‘‘ کے نام سے صدیوں پرانا ایک قبرستان واقع ہے۔ اس قبرستان کے تاریخی ڈانڈے مغلیہ دور سے جا ملتے ہیں۔ عام لوگوں کی نصیب میں اس سے منسوب من گھڑت قصے کہانیاں ہی رہ گئی ہیں، جس نے نسل در نسل منتقل ہو کر عقیدے کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔

ستین جو آستھان کے نام کا پس منظر ‘ستی’ سے ہے۔ یہ سندھی زبان کا لفظ ہے جو کنواری عورت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ستین جو آستھان سے بھی کچھ فرضی قصے منسوب ہیں، جس کی وجہ سے یہ جگہ سیر و سیاحت کے ساتھ ساتھ عقیدے کے اعتبار سے بھی پرکشش مانی جانی ہے

ستین جو آستھان سے منسوب ایک کہانی میں اسے سات غیر شادی شدہ سہلیوں کی رہائش گاہ بتائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ راجہ داہر نے ان کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور انہیں پیش کرنے کا حکم دیا۔جب یہ خبر ان پردہ دار عورتوں تک پہنچی تو انہوں نے بے بسی میں خدا سے حفاظت کی دعا مانگی۔ معجزاتی طور پر زمین پھٹی اور وہ سات عورتیں وہیں دفن ہو گئیں۔

ایسی ہی ایک اور روایت ہے جو راجپوت عورتوں سے منسوب کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں جب مسلمانوں نے بکر پر حملہ کیا تو راجپوت عورتوں نے اسی جگہ پر اپنے آپ کو آگ لگا دی۔ انہی قصے کہانیاں کی وجہ سے یہ جگہ ستین جو آستھان کے نام سے مشہور ہو گئی۔ تاہم تاریخی حوالے سے ان کہانیوں کا کوئی مستند ثبوت یا شواہد نہیں ملتے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ من گھڑت قصے کہانیوں میں جس طرح عورت کی خود سوزی کو رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، اس کا نفسیاتی تعلق بھی عزت اور غیرت سے ہی جا کر ملتا ہے۔ البتہ ان کہانیوں میں رومانویت کے ذائقے بھر کر عورت کے اپنے ہاتھوں اپنا قتل کروایا جاتا ہے۔

اس جدید دور میں بھی ہم ان معجزاتی قبروں میں دفن ہیں، جہاں اب بھی عزت اور غیرت کو عورت کی زندگی سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ ہم اب بھی عورت کو محض گوشت کا ٹکڑا سمجھتے ہیں، جس کو چھپائے رکھنے میں ہی عزت ہے اور اس کی شناخت محض ماں، بیٹی یا بیوی تک محدود رکھنے کے قابل ہیں۔

Facebook Comments