اردو خبریں خاص موضوع

موت کے سوداگر یہ ڈاکٹر۔۔۔۔۔عزیز برنی

Aziz Burney
=============
موت کے سوداگر یہ ڈاکٹر۔۔۔۔۔
کورونا سے ہوئی موت کے بعد 14 لاکھ روپے کے بل کی ادائیگی کے بنا لعش دینے سے انکار۔
عزیز برنی
جی ہاں آج یکم جولائی ہے ڈاکٹرس ڈے اور آج کے دن مجھے انکو مبارک باد دینی چاہیے میرا خود کا تعلق ڈاکٹر فیملی سے ہے والدِ محترم ڈاکٹر تھے اور مینے بھی ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی لیکن۔۔
میرا سر شرم سے جھک گیا اور بے پناہ تکلیف پہنچی جب نوئیڈا کے ایک بڑے ہسپتال فورٹرس کی کالی کرتوت میرے سامنے آئی دو روز قبل یعنی 28 جون کا واقعہ ہے جب فورٹرس ہسپتال کے انتظامیہ نے 7 جون سے اپنے ہسپتال میں داخل اور زیرِ علاج ڈاکٹر سید احمد علی کی موت ہو جانے پر 14 لاکھ روپے کے بل کی ادائیگی کے بنا تدفین کے لئے لعش دینے سے انکار کر دیا ۔واضع ہو کہ ڈاکٹر سید احمد علی کا شمار نوئیڈا کی مخصوص شخصیتوں میں ہوتا تھا وہ تقریباً 20 برس سے بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ تھے اور نوئیڈا کی کلچرل سرگرمیوں میں حصّہ لیتے رہے تھے بحیثیت ڈاکٹر نوئیڈا کے سب سے بڑے ہسپتال کیلاش میں بھی اپنی خدمات انجام دیں اور اس وقت گریٹر نوئیڈا کے یتھارتھ ہسپتال سے وابستہ تھے ۔


7 جون کو اُنہیں سانس لینے میں تکلیف ہوئی اور علاج کے لیے نوئیڈا کے فورٹرس ہسپتال میں داخل کیے گئے جہاں ٹیسٹ کے دوران اُنہیں کورونا پوزیٹو پایا گیا اور علاج شروع کر دیا گیا لیکن اُنکی حالت بگڑتی گئی اور ہسپتال کا بل بڑھتا گیا 28 جون کو اُنکی موت واقعہ ہو گئی جب ہسپتال سے تدفین کے لئے لعش کی درخواست کی گئی تو ہسپتال انتظمیہ نے بے حسی اختیار کرتے ہوئے 14 لاکھ روپیے کا بل مریض کے بیٹے شاداب کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا کہ مکمل بل کی ادائیگی کے بعد ہی لعش دی جا سکتی ہے اہل خانہ کے ذریعے 4 لاکھ روپیے کی رقم پہلے ہی ہسپتال میں جمع کر دی تھی اب یک مشت 10 لاکھ روپیہ فوراً جمع کرنا ممکن نہ تھا لیکن فورٹرس ہسپتال انتظامیہ نے اس طرف کوی توجّہ نہ دی اور نہ ہی اس بات کا خیال کیا کہ زیرِ علاج مریض خود ایک ڈاکٹر تھا۔
پریشان حال بیٹے شاداب نے کچھ سماجی تنظیموں سے رابطہ کیا اس کڑی میں سماجوادی پارٹی سے وابستہ اور سرگرم سماجی کارکن بلال برنی کے سامنے واقعے کی تفصیل پیش کی گئی جنہوں نے چیتنآ منچ وہ دیگر سیاسی سماجی تنظیموں سے رابطہ کر فورٹیس ہسپتال انتظامیہ پر دباؤ ڈالا حالات بگڑتے دیکھ ہسپتال انتظامیہ نے اہل خانہ سے بعد میں بل کی ادائیگی کا بانڈ بھروا کر لعش دینا منظور کر لیا۔
اس پورے واقعے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تو ہے ہی جسکی تفصیل بالائی سطروں میں بیان کی گئی ہے لیکن ایک انتہائی اہم سوال یہ بھی ہے کہ کورونا ایک ایسی مهاماری ہے جسکی گرفت میں پوری دنیا ہے اور ہمارا ملک ہندوستان بھی اگر کورونا کے مریضوں سے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں یہ سلوک رہیگا تو ہزاروں مریض علاج کس طرح کرا پائینگے اس تکلیف دہ سلوک اور علاج کا نہ قابلِ برداشت خرچ اُنہیں علاج سے دور رہنے پر مجبور کریگا نتیجتاً معاشرے میں اس محاماری کے اور بھی زیادہ پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگا۔
لہٰذا ہماری سرکاروں میڈیا اور حقوقِ انسانی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کو اس طرف توجہ دینی ہوگی اور کورونا کے مکمل علاج تک بل کی ایک حد مقرر کرنی ہوگی جو لاکھوں میں نہ ہو ساتھ ہی بے حد غریب مریضوں کو علاج کے خرچ کی سہولیات مہیّا کرائی جائے یہ صرف کورونا کے مریضوں کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ اس مہلک مرض پر قابو پانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ correction hona h

Facebook Comments