اردو خبریں خاص موضوع

کڑوے کریلے : تیزی سے تبدیل ہوتے معاشرے کا آئینہ

Tabassum Fatima

==========
کڑوے کریلے : تیزی سے تبدیل ہوتے معاشرے کا آئینہ
—————
ثروت آپا کا ناول کڑوے کریلے ایسے موقع پر شایع ہوا ہے جب حکومت ہندوستان نے کاشتکار ، کسان اور آدی واسیوں کی حق تلفی کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے زبردستی ایسے بل کو منظوری دی ہے ، جو نہ صرف کسان مخالف ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا حمایتی بھی ہے . پہلے یہ اقتباس دیکھئے .. پھر ناول پر گفتگو کرتی ہوں .
…جتنا کریلا چاہئے ، ہم اتنا ہی بیج ڈالتے ہیں . لوگوں کو اناج چاہیے .پیٹ بھرنا ضروری ہے میڈم .
مولی دیوی مھاور کی آواز اب سب کو سنایی دے رہی تھی ..
وکاس کریلے جتنا ہو تو ٹھیک ہے . میں تو اتنا ہی جانوں ، اناج کی جگہ تو آپکو چھوڑنی ہی ہوگی .
جنگل سے دور تو آپکو رہنا ہی ہوگا . ورنہ آپ جانو جی . پراکرتی چھوڑتی نہیں . کڑوے کریلے
اتنے ہی اگاؤ جتنی ضرورت ہے . .کڑوے کریلے کھیت میں ..کڑوے کریلے دیش میں ..
وکاس ..کڑوے کریلے ..دیش ، کسان اور آ دی واسی ..یہ مولی دیوی مہآور کون ہے ؟ کیا آپ جانتے ہیں .. یہ کوئی برسا منڈا نہیں ہے . مگر خاتون برسا منڈا ہے . اور مولی
سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں . یہ کہانی راجستھان کی ہے . اندھیرا پگ بھی راجستھان کی کہانی تھی . تاریکی کی ایک رسم ،جہاں کھو جانے والی عورتیں تھیں . روپ کنور سے لے کر ہزاروں برس قدیم اور اب تک عورتیں اسی چہار دیواری میں قید ہیں . ثروت آپا جوشیلی ہیں ، حقوق نسواں کے لئے ان کی آواز سب سے تیز ہے . انکے کردار راجستھان کے ہوتے ہیں مگر کہانی کے مرکز میں پورا ہندوستان ہوتا ہے .

 

وہ جگہ ، وہ مقام ، جہاں اکثر مرد ادیب کا قلم بھی خاموش ہو جاتا ہے ، ثروت آپا کا قلم وہاں سے انقلاب و احتجاج کا سفر شروع کرتا ہے . سب سے پہلے میں کہانی کی فنکارانہ بنت ، اسلوب ، مکالمے پر آتی ہوں ، ایسے چست درست مکالمے ، میں نے کم ناولوں میں دیکھیے ہیں . خاص کر مولی کا کردار ایک یاد گار کردار ..جو سب کچھ دیکھ رہی ہے . گیارہ برس کی نادان معصوم بچی ماں بن جاتی ہے . ایک بوڑھا بزرگ اس نادان بچی کی زندگی کو جہنم بنا دیتا ہے . اور ایک پورا آدی واسی سماج ، جس کے لئے جنگل ہی سب کچھ ہے .جنگل دیوتا ، جنگل بھگوان ، جنگل زندگی ، مگر سرکار کیا کر رہی ہے .آدیواسیوں کی زمین کے ساتھ سرکار کا رویہ کیسا ہے . سرکار سستی قیمتوں پر آدیواسیوں سے انکی زمین ہڑپ لیتی ہے اور انڈسٹریلسٹ اور سرمایا داروں کو بیچ دیتی ہے .جنگل کٹ رہے ہیں ..تھذیب کھو رہی ہے اور آدیواسی سماج جن کے لئے زمین ہی سب کچھ ہے ، وہ اپنی زمینوں کے لئے تڑپ رہے ہیں اور انکا سماجی ، ثقافتی ، سیاسی جسمانی ہر طرح کا استحصال بھی سامنے آتا ہے .
ناول میں بلا کی روانی ہے . ناول کی کہانی کو آگے بڑھانے کے لئے جن ابواب کا سہارا لیا گیا ہے ، اس میں کہانی کے راز پوشیدہ ہیں .یعنی ہر باب کا عنوان کھل جا سم سم کی طرح آپکو علامتوں کی دنیا میں لے جاتا ہے . اور اس دنیا میں چھ برس کا ہندوستان ہے ، چھ برس کی روحانی غلامی ہے ، چھ برسوں کی گھٹن ہے ، چھ برسوں کی سیاست کا ہر وہ رخ ہے جسکے کردار تو راجستھان کے ہیں ، مگر واقعات و کردار و مکالمے میں پورا ہندوستان بولتا اور سسکتا ہوا نظر آئےگا .
پہلا باب – کویی تو بات ہے جو ہم کڑوے کریلے کھیت میں بوتے ہیں ، دوسرا باب -کچھوا کی جھپٹا مار پکڑ ، شیر کی جھپٹا مار پکڑ سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے ..
کڑوا کریلا کھیت میں کون بوتا ہے ؟ یہ حکومت ہے ، ہمارا سسٹم ہے ، جو صدیوں سے کسان آدیواسیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے .یہ سست چال سے چلنے والے کچھوے کون ہیں ؟ مولی دیوی کیا ہے ؟ جھپٹا مار کچھوا یا شیرنی ؟
فطرت ، انسان ، سائنس کی تثلیث ، ان میں مستقبل کو شامل کیجئے اور مولی کی زندگی کے ہر زاویے کا جائزہ لیجئے . نریندر شرما جیسے کردار ، جو اس کے ڈ این ہونے کا
اعلان کرتے ہیں مگر کتنا کامیاب ہو پاتے ہیں ؟ مولی شراب کی پانچ بوتلوں کے عوض بیاہی گیی . پریم شنکر تو چھوڑ کر چلا گیا ، مولی اپنی اور معاشرتی جنگ خود لڑتی رہی . بھیلو راجہ ، راجستھان کی تپتی ریت اور بے شمار کردار .. ہر کہانی گھوم پھر کر مولی پر آ کر ٹھہرتی ہے .
تیسرا باب – اس کمریا کے سندر سی رتن جڑاؤ کنکٹی گھڑ وا کر دونگا .. چوتھا باب – ڈگر جتنی کٹھن ہو ٹھکانے پر پہچنا اتنا ہی سکھد ہوگا .
ہر باب دلچسپ مگر جد و جہد کی کہانی ان ابواب کے سہارے آگے بڑھتی ہے .
پھر وہ کھیل شروع ہوتا ہے جو آخری صفحے تک قاری کا تجسس قائم رکھتا ہے .واقعات در واقعات . مولی کی زندگی کے ہزاروں صفحے ، جب اس کے اندر کی دشت آتما پر پتھر برسانے والے تھے . جب اسے جیل بھیجا گیا . جب اس نے آندولن کو بڑا بنانے کا اعلان کیا . راجہ ، موتیں ، قتل ، چننو کی غداری، فصلوں کا برباد ہونا اور مولی ، جو ڈا ین تھی ، بد روح تھی ، بد کار تھی ، وہی مولی انقلاب کی علامت بھی تھی ..کیونکہ مولی جانتی تھی کہ سرکار کیا کرتی ہے .آدیواسیوں پر سرکار کی کیسی نظر ہے .مولی کی دانش مندی اور سیاست کی ہر کڑی اس ناول کو ایک شاندار سیاسی ناول بنا کر پیش کرتی ہے .اردو میں سیاسی شعور پر مبنی ناول تو مل جاتے ہیں مگر سیاست کی گہری پکڑ رکھنے والے ناول کا فقدان ہے . خواتین ادیبوں میں یہ امید ثروت آپا سے ہی کی جا سکتی تھی . ایک مثال اندھیرا پگ ، دوسری مثال یہ ناول . اور یہ ناول آزادی کے بعد کے غلام ہندوستان کی ایسی کہانی ہے ، جسے لکھنے کا حق ثروت آپا نے بخوبی ادا کیا ہے . یہ آزادی کے بعد کا غلام ہندوستان ہی تو ہے جہاں اقلیتیں آج بھی ظلم کا شکار ہیں ..آدیواسی سماج آج بھی مرتا ہوا ، جد و جہد کرتا ہوا .مگر اب اس سماج و معاشرہ میں مولی جیسی عورتیں بھی ہیں، ٹکر لینے والی . اقلیت اور آدیواسیوں کے ساتھ کاشتکار اور کسان .. بھی ، کیونکہ اس ناول کی اصل بنیاد زمین ہے ، زمین جہاں مولی کھڑی نہیں ہو سکتی . مولی اپنی زمین کو برباد ہوتے ہوئے دیکھ سکتی ہے . مگر بول نہیں سکتی ..اور جب مولی بولی تو زلزلہ آ گیا .
— ہم نے ایسا کیا کر دیا جو ایک کے بعد ایک پریکشا دینی پڑ رہی ہے .
گئے وہ دن جب ہمارے کانوں میں لاوا ڈالا جاتا تھا . ہمیں ملیچھ سمجھا
جاتا تھا . میں نے جیل میں جتنے دن کاٹے ، بہت کچھ سیکھا اور جانا ہے .
برسوں بعد ایک ایسا ناول آیا ہے جو اپنی مضبوط بنیاد اور فکشن کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ملک کی سالمیت کے لئے چیلنج جگاتا ہے . عوام میں بیداری کا احساس پیدا کرتا ہے . مودی کے کسان مخالف کالے قانون سے کسان ختم ہو جائیں گے اور سرمایہ داروں کے ‘غلام بن جائیں گے . یہ ناول ایسے وقت شایع ہوا ہے جب کسان مخالف زرعی قانون کو لے کر ملک میں ہنگامے ہو رہے ہیں ..
کڑوے کریلے ، ہندوستان کی نیی فسطائی تھذیب کے لئے اس سے بہترین استعارہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا . ہم کریلے کھائیں گے لیکن کڑوے کریلے ان کے لئے چھوڑ دینگے جو اقلیت ، کاشتکار ، آدیواسیوں کا خون بہا رہے ہیں .
اس بڑے کینواس کے ناول کے لئے میں ثروت آپا کو مبارکباد پیش کرتی ہوں . قیمت محض چار سو روپے ، صفحات ٣٥٦ ، ایجوکیشنل بک ہاؤس نے شایع کیا ہے
—— تبسم فاطمه

Facebook Comments