اردو خبریں بھارت

ایک غزل : ہربنس سنگھ عکس…نکلے ہیں سبھی دوست مرے وعدہ فراموش

Harbans Singh Aks
=======
ایک غزل پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں شاید پسند آئے
یکجائی کو اپنی کبھی رسوا نہ کروں گا
ٹوٹوں گا مگر ٹوٹ کے بکھرا نہ کروں گا
نکلے ہیں سبھی دوست مرے وعدہ فراموش
اب سے میں کسی پر بھی بھروسہ نہ کروں گا
کیوں موقع فراہم کروں ہنسنے کا کسی کو
خود ہی سے الجھنے کا تماشہ نہ کروں گا
سب لوگ غرضمند نظر آئیں جہاں پر
میں اپنی غرض کا وہاں چرچہ نہ کروں گا
جو پھولوں کی پتیوں پہ کبھی بیٹھے گی تتلی
نازک ہیں بہت پنکھ اسے پکڑا نہ کروں گا
ساگر نے کبھی پیاس کسی کی نہ بجھائی
میں تم سے کبھی کوئی تقاضہ نہ کروں گا
مجھ کو نہیں بیکار میں ٹکرانا کسی سے
میں عکس کبھی سوچ میں ڈوبا نہ کروں گا
ہربنس سنگھ عکس

यकजाई को अपनी कभी रुसवा ना करुंगा
टूटूंगा मगर टूट के बिखरा ना करूंगा
निकले हैं सभी दोस्त मेरे वादा फ़रामोश
अब से मैं किसी पर भी भरोसा ना करूंगा
क्यों मौका फ़राहम करूं हंसने का किसी को
खुद ही से उलझने का तमाशा ना करूंगा
सब लोग नज़र आएं ग़रज़मंद जहाँ पर
मैं अपनी ग़रज़ का वहां चरचा ना करूंगा
जो फूलों की पत्तियों पे कभी बैठे गी तितली
नाज़ुक हैं बहुत पंख उसे पकड़ा ना करूंगा
सागर ने कभी प्यास किसी की ना बुझाई
मैं तुम से कभी कोई तक़ाज़ा ना करूंगा
मुझको नहीं बेकार में टकराना किसी से
मैं अक्स कभी सोच में डूबा ना करूंगा

हरबंस सिंह अक्स

Facebook Comments