اردو خبریں بھارت

ایک نظم رات کے لئے —- تبسم فاطمہ

tabassum Fatima
=======
ایک نظم رات کے لئے
—- تبسم فاطمہ
رات کی سیاہی نے
زرق وبرق لباس کے ساتھ ساتھ ماتھے پر ایک بڑا سا جھومر پہن رکھا تھا
میں نے انھیں بھی دیکھا ، جو بے رحمی سے اس کے جھومر اتار رہے تھے
میں نے رات کو پھولوں سے بھری ٹوکری کے ساتھ دیکھا
اور انھیں بھی
جو گندے پاؤں سے پھولوں کو روند رہے تھے
میں نے رات کو گجرے کے ساتھ دیکھا
اور سرخ رنگ کی چوڑیاں پہنے ہوئے
بستر پر ٹوٹی ہوئی چوڑیاں تھیں
مانگ ٹیکا سے خون کی دھاریں نکل رہی تھیں
اور گجرے کے پھولوں کا رنگ سرخ تھا
میں نے رات کو سسکیاں بھرتے ہوئے دیکھا
میں ایک نظم لکھنا چاہتی ہوں
رات کے نازک بدن کی مخالفت میں
یا ہر اس بدن کی مخالفت میں
جسکے گجرے کے پھول مسل دئیے جاتے ہیں
ٹوٹی چوڑیوں اور جھومر کے نام
میں لکھنا چاہتی ہوں ایک نظم
اور توڑ کر پھینک دینا چاہتی ہوں رنگ برنگی چوڑیوں کو
نازک بدن میں ایک رات پوشیدہ رہتی ہے
اور رات کی سیاہی میں نازک بدن ..
میں بدن پر سجنے والے زیور کو
نیی تاریخ کے ملبے میں دفن کر دینا چاہتی ہوں

Facebook Comments