اردو خبریں خاص موضوع

ریپ کیوں ہوتا ہے؟

اندازہ تو تھا کہ کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے
لیکن اتنا زیادہ ہو جائے گا اس کا اندازہ تب ہوا جب ایڈیٹر صاحب نے اس پر ‘ناقابل اشاعت’ کا ٹھپہ لگایا۔
ویسے آپس کی بات ہے اگر یہ کالم ناقابل اشاعت ہے تو پھر میرا ماننا ہے دراصل یہ معاشرہ ہی اتنا بدبودار اور غلیظ ہو چکا ہے کہ ہم اس مقدس معاشرے کی خصوصیات کسی کے سامنے بیان کرنے کی جرأت ہی نہیں رکھتے۔
___________________________
خلجی نامہ/
ریپ میں قصور عورت کا ہوتا ہے
ریپ کیوں ہوتا ہے؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟ پاکستانی عورتوں کا اس میں کیا کردار ہے جو جنسی ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں؟ اس طرح کے چند سوالات آج کے کالم میں زیر بحث آئیں گی۔
سب سے پہلے تو یہ نوٹ کر لیں کہ پاکستان میں ہر عورت جنسی تشدد کا نشانہ نہیں بنتی۔ یہ مٹھی بھر عورتوں کا گروہ ہے جنہیں مردوں کی طرف سے اس طرح کے شغل کا سامنا رہتا ہے۔ کیوں؟ اس کے پیچھے کچھ وجوہات ہیں جن کا تعلق سراسر انہی عورتوں سے ہے۔
سب سے پہلے تو یہ کہ یہ عورتیں آزاد خیال ہوتی ہیں۔ ان کا نام بھی کوئی رومانوی قسم کا ہوتا ہے جیسا کہ شبنم وغیرہ۔ اب اگر یہاں ان کا نام کوئی اصغری یا اکبری ٹائپ ہوتا تو کسی مرد کے جذبات، اگر ان کو دیکھ کر جاگ بھی گئے ہوتے تو کم از کم ان کا نام جان کر لازمی سو جانے تھے۔ اب آپ ہی بتائیں اس میں قصور کس کا ہوا؟ پوتر و پاک مرد کا جو اس کی طرف نظر بھر بھر کر دیکھ رہا تھا یا اس بے حیاء عورت کا؟

Facebook Comments