اردو خبریں خاص موضوع

لہو رنگ صحیفہ : پرانے مخملی جزدان میں لپٹا صحیفہ — تبسم فاطمہ

Tabassum Fatima
========== 
لہو رنگ صحیفہ : پرانے مخملی جزدان میں لپٹا صحیفہ
— تبسم فاطمہ
قرآن شریف میں بھی خود قرآن کے لیے صحیفہ کا لفظ آیا ہے۔سورہ عبس میں- پر عظمت صحیفوں میں جو بلند وبالا اور پاک صاف ہے۔
صحیفہ کا ایک مطلب ہے ، الہامی کتابیں جو اللہ تعالٰی کی طرف سے کسی رسول پر اتاری گئی ہیں ..
یہ سن ٢٠٢٠ ہے . اور یہ کویی الہامی کتاب نہیں ہے .
اس شعری مجموعے کا نام ہے ، لہو رنگ صحیفہ . اب الہامی کتابیں آسمان سے نازل نہیں ہونگیں ، صحیفہ کا ایک مطلب کاغذ ، ورق ، کتاب بھی ہے . سرخ کاغذ ، سلگتا ہوا ورق ، خون سے لکھی ہوئی کتاب .. آسمان سے نازل ہونے والا عذاب ، جب زمینیں سرخ ہوئیں ، فصلوں میں آگ لگ گیی ، جب ہلاکتوں نے ہمارے گھر دیکھ لئے ، جب انسانیت زخمی اور کراہ رہی تھی ، جب موجوں سے آگ نکل رہی تھی ، اس عالم خاموشی اور بے بسی میں لہو رنگ صحیفہ کا نزول ہو رہا تھا —
اپنے زخموں کا لہو رنگ صحیفہ دیں گے .
شہر گریہ کے مکین اور کیا تحفہ دینگے
اب ذرا ٹھہرتی ہوں . میری پیاری کہکشاں آپا کی کتاب . کہکشاں آپا ، یہ نام میری روح سے وابستہ ہے . اور ان نظموں / غزلوں پر کہکشاں آپا کی بے چین روح کا سایہ ہے . وہ ظلمتوں سے ، تاریکی سے ، روح کے سر چشمہ سے ، روح کی بیتابیوں سے ،خوابوں کے تابوطی لمحوں سے ، فسردہ فضاؤں سے ، مردہ بصارت و سماعت سے ، سرخ سیندوری سورج کی کرنوں سے ، کفن خریدنے والوں اور اجڑتے قبرستانوں سے ، نیل فرات دجلہ جھیلم گنگا اور جمنا کی سرخ لہروں سے ، اقتداری نشہ سے ، صدیوں کے کھنڈرات سے ، وسوسوں دہشتوں سے لرزتے حکم ناموں سے ، بریدہ سر اور بدن دریدہ قصّوں اور داستانوں سے ، گنبد و محراب اور فنا کے رقص سے جب علامات ، تلازمات کا تعاقب کرتی ہیں تو وہی منظر نامہ ہوتا ہے جو سر ورق پر خون کے چھینٹوں کی شکل میں موجود ہے . پیلی دھوپ پر لہو کے کچھ داغ .. اور اسی لئے موسم و وہم گمان کے تحت وہ حقیقت سے آنکھیں ملانے کی کوشش کرتی ہیں ….
آیین ، دستور ، قانون ، انصاف ریت کے ٹیلوں کی مانند بھربھرا کر ڈھہ چکے ہیں .
بے حاصلی نے کیسی بے حسی بھر دی ہے کہ انگلیاں ہی نہیں ، نوک قلم بھی منجمد
اور قلم کار دم بخود . نسل انسان کی سلامتی اور تحفظ کا سبق نہ دو جنگ عظیم
دے پائیں اور نہ تقسیم ملک سے لے کر عصر موجود تک متواتر ہونے والے فسادات –
اب تو فنا کے نت نئے روپ بہروپ سے سامنا ہے .تشدد کی مکروہ روایت کی لگاتار
توسیح ہو رہی ہے .محافظوں کی حمایتی چپ نے سوالوں کے جنگل کھڑے کردیے ہیں …
—-موسم وہم و گمان


کہکشاں آپا آگے لکھتی ہیں ..
نظموں اور غزلوں پر مشتمل لہو رنگ صحیفہ میرے اندیشوں اور اضطراب کے لمحوں
کا زائیدہ ہے . کہ شہر گریہ کے مکینوں کے پاس کہنے کے لئے اور ہے بھی کیا ..
یہ حقیقت ہے کہ شہر گریہ کے مکینوں کے پاس کچھ بھی نہیں . ایک زمانہ تھا جب یہودی شہر گریہ کی دیواروں سے لپٹ کر رویا کرتے تھے . ہمارے پاس یہ دیوار بھی نہیں . یہ ہم کہاں آ گئے ؟ سیاست ہمیں کس موڑ پر لے آی ہے .مسلمان ، اقلیتیں ، فسادات ، گینگ ریپ ، قتل و غارت گری — اب تو حساب لگانا بھی ممکن نہیں کہ کتنے گھر اجڑے . ملک لہو رنگ نقشہ میں تبدیل اور صحیفہ بھی لہو رنگ . میں کچھ برس قبل کا ایک منظر یاد کرتی ہوں ..ممبئی کا بھیڑ بھرا ایک چوراہا۔ چوراہے کے ایک طرف سفید کرتا، پائجامہ پہنے، ٹوپی لگائے ایک شخص آتا ہے۔ وہ آنکھوں پر ایک پٹی باندھتا ہے۔ اپنی پاﺅں کے قریب ایک بورڈ رکھتا ہے۔ اس بورڈ پر لکھا ہے۔ میں مسلم ہوں اورمیں آپ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ کیا آپ بھی مجھ پر بھروسہ کرتے ہیں۔؟ ضرورت ایک بار گلے لگنے کی ہے۔ آنکھوں پر پٹی باندھ کر وہ اپنی بانہیں کھول دیتا ہے۔ آتے جاتے ہوئے لوگ بورڈ کو دیکھتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتا ہے۔ اچانک کندھے سے بستہ لگائے ایک نوجوان ٹھہرتا ہے۔ وہ آگے بڑھتا ہے، اور گلے لگ جاتا ہے۔ اوراس کے بعد کئی دوسرے آتے ہیں جو بھروسہ کرتے ہیں اوراس شخص کے گلے لگ جاتے ہیں۔ ان میں عورتیں بھی شامل ہیں.. بھروسہ ؟ بھروسے کی بوسیدہ عمارت نمائش گاہ میں آ گیی اور کہکشاں آپا نے اس بوسیدہ عمارت سے ایسے الفاظ کشید کیے ، جو کاغذ پر پھیلے تو شاہکار بن گئے ….
پرانے مخملی جزدان میں لپٹا صحیفہ
طاقِ نسیاں سے اتاریں
یا مصلوں پر
کٸی نفلوں کی نیت کرکے بیٹھیں
یا کوٸی تعویز اونچی شاخ میں ٹانگیں
یا کوٸی آیت بھرا پرچم
چھتوں پرایستادہ کرکے خوش ہو لیں
کنارے بستیوں کے
اذاں کی گونج سے باندھیں
یا کوٸی تقریری مجلس
جو لہو کو گرم کرتی ہو
یہ سب کے سب
نٹھلوں کے شتر مرغی تماشے ہیں
ہمارے ہوش کے ناخون تو ٹوٹے ہوۓ ہیں
اور بلاٸیں
بستیوں میں بلبلاتی پھر رہی ہیں
–شتر مرغی تماشے
کبھی پڑھنا
در و دیوار پہ لکّھی ہوٸی تحریر سے آگے
کسی چہرے پہ اوراقِ پریشاں کی طرح افسردہ آنکھوں کو
کسی رخسار پہ ٹھہرا ہوا آنسو سمندر بھر
کبھی پڑھنا
جو زورِ موج سطحِ آب پر تحریر کرتا ہے
ہوا کاخامہ لکھتا ہے
جو نوحہ جلتی دھرتی پر
لبوں سے مسکراہٹ قہقہے جب الوداع کہہ دیں
تو لمحہ ہجر کا برفیلے پتھر میں
بدلتا کس طرح سے ہے
کبھی بارش کی گرتی بوند کو پڑھنا
کہ امرت دھار کیسے موت بنتی ہے
—- کبھی پڑھنا
عجب سی نیند ہے
گہری بہت گہری
سب اعضا شل پڑے ہیں
کہ آنکھیں ہی نہیں سوچوں کے سارے در بھی خفتہ ہیں
دریچہ خواب کا جیسے مقفل ہے
یہ کیسی نیند ہے
کہ اپنے ہونے کےکسی احساس کی حدت نہیں ملتی
شرارہ سا کہیں کچھ جھلملاتا ہے
چراغِ جاں نہیں بنتا
جوگہری دھند کو چیرے
کڑے جادو کو توڑے
کہ اپنے نوشگفتہ پھولوں کی خاطر
ہمیں تو جاگنا بھی ہے۔۔۔۔۔۔!
— چراغِ جاں
ایک قفس ہے اور الفاظ باہر آنے کو بے قرار .. کبھی امید کا ایک ستارہ چمکتا ہے کبھی ڈوب جاتا ہے .. کبھی رشتوں سے اعتبار اٹھتا ہے ، کبھی خوابوں کے دریچوں پر قفل نظر آتا ہے . بیچینی اور اضطراب سے پیدا شدہ یہ نظمیں در اصل سمندر کی لہریں ہیں جو پڑھنے والوں کو اپنے ساتھ لئے جاتی ہیں .. پھر ایک ان دیکھا موت کا کنواں ہوتا ہے . کہکشاں آپا اس موت کے کنویں سے زندہ مگر سہمی ہوئی آوازوں کو سنتی ہیں اور ویران بستیوں سے ، پرانے کھنڈرات سے ، زخمی موسم سے ان کی آواز ہمہ آہنگ ہو جاتی ہے .. بے قرار روحیں ، سسسکتی مچلتی روحیں .. یہ ہم کہاں آ گئے ؟ یہ کیسا شور ہے ؟ سوالوں کی ایک لمبی قطار .. اور یہ سوال مسلسل ہمیں اس ملک میں زخمی کر رہے ہیں .. غلامی سے آزادی تک ہزاروں ایسے سوال ہیں جن کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔ لیکن یہ جواب وقت کو دینا ہے۔ اس لیے کہ تقسیم نے ایک طرف جہاں ٹکڑے ٹکڑے لہولہان ہمسایہ ملک کی تصویر سامنے رکھی، وہیں ہندوستان میں دلتوں اور مسلمانوں سے انکا روشن مستقبل چھین کر، ایک پوری قوم کو گمنامی اورتاریکی کے اندھیرے غار میں ڈھکیل دیا۔ اس پر آشوب وقت میں ملک کا ایک مخصوص طبقہ اور سیاسی پارٹی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کی متعصبانہ کوششوں میں مصروف ہے۔ ملک کو فرقہ واریت کا شکار بنا کر یہ طاقتیں مسلمانوں کی تہذیب اور تشخص کو ختم کرنے پر آمادہ ہیں۔ عبادت گاہیں محفوظ نہیں۔ روزگار اور سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند ہیں۔ شہریت کے نام پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ قاتلوں کو آزاد کیا جارہا ہے۔ رقص شرر اور آگے موت کی آندھی …
سوادِ جاں میں خوابیدہ
ہزاروں آرزوٶں ، خواہشوں کے ان گنت پیکر
ہیں جن کے عکس نادیدہ
کوٸی دن سے یہ سب کچھ میگما صورت
کہیں اندر پگھلتا ہے
بھنور سا گھومتا
چکّر لگاتا مضطرب باہر نکلنے کو
غضب کی چھٹپٹاہٹ ہے
کہ شدت روپ بھر لیتی ہے حدت کا
زمینِ دل کو ہے شعلہ نفس کرتا
بہت گہراٸی میں رقصِ شرر جاری
کوٸی رستہ بنانے کے جنوں میں گم
کہ لاوا بن کے پھوٹے
آگ کے دریا سا بہہ نکلے
قفس دیوار صورت سب چٹانیں
موم کی مانند پگھلا دے
کہ اک کوشش تو ہو
اس حبس سے آزاد ہونے کی
سو یہ دھرتی بھی اب
کروٹ بدلنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔!
— رقص شرر
یہ تمام نظمیں موجودہ وقت کا اشارہ بھی ہیں ، دستاویز بھی . صحیفہ لہو رنگ میں کہکشاں آپا کی غزلیں بھی شامل ہیں . میں غزلوں پر پھر کبھی بات کروں گی لیکن یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ ہر غزل عام روایات سے مختلف اور جدید و قدیم لہجے کی آمیزش سے ان کی کی انفرادیت اپنی جگہ مسلم ہے . کہکشاں آپا کی نظمیں حقیقت میں بے قرار کر جاتی ہیں .. جب آپ پڑھتے ہیں ، ایک آندھی آپکی طرف لپکتی ہے اور الفاظ کی گرمی سیدھے دل و دماغ پر اثر ڈالتی ہے . ہند و پاک کی نظمیہ کائنات پر گفتگو اس وقت تک مکمل نہیں کہلائے گی ، جب تک کہکشاں آپا کی نظموں کا ذکر نہ ہوں . ان نظموں میں ایک شہر آباد ہے ، اس شہر کو ہم نے تاریخ کی کتابوں میں نہیں دیکھا . بہتا ہوا آبشار ہے لیکن پانی کی جگہ لہو شامل . چٹانیں ہیں جن سے گزرنا آسان نہیں . لیکن ان سب کے باوجود یہ موت سے زیادہ زندگی کی کتاب ہے . کیوں کہ لہو رنگ صحیفہ کے باوجود بیشتر نظمیں ایسی بھی ہیں ، جہاں خوابوں کی فصیلیں زندہ ہیں . امید کی قندیلیں بھی زندہ ہیں ..
میں کہکشاں آپا کے ساتھ کسوٹی پبلکیشنس کو بھی مبارکباد دیتی ہوں کہ یہ کتاب اردو نظمیہ کتابوں میں ایک گراں قدر اضافہ ہے . صفحات ..١٧٦ ..قیمت .. صرف ٢٥٠ روپے .

 

Facebook Comments