اردو خبریں بھارت

“مسجد نور کے امام صاحب کی بے نور باتیں”

Jasim Uddin
===========
“مسجد نور کے امام صاحب کی بے نور باتیں “
مسجد النور (ہری مسجد)نفیس روڈ بٹلہ ہاؤس، نئی دہلی کے امام صاحب کی بے نور باتیں تھکانے والی ہوتی ہیں وہ “ظاہر ہے کہ”، “بہر حال” اور “جو ہے سے کہ” اتنا بولتے ہیں کہ مقررہ وقت پر جماعت کھڑی نہیں ہوپاتی اور آفس ودیگر مصروف ترین مصلیوں کا بیش قیمت وقت برباد کردیتے ہیں، وہ کہنا کیا چاہتے ہیں یہ بھی کیلیئر نہیں ہوتا، جملوں کا دروبست بھی نہایت بھونڈا ہوتا ہے حتی کہ تذکیر وتانیث اور واحد جمع کی بے مہابا اغلاط سے طبیعت مکدر ہونے لگتی ہے قرآن کی تلاوت میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کے آغاز میں الحمد للہ پڑھتے وقت ال……….. حمد للہ کہتے ہیں پتہ نہیں ال کے بعد اتنا طویل وقفہ انھوں نے کس امام

قرأت سے اخذکیا ہے مجھے نہیں معلوم لیکن یہ درست نہیں ہے چونکہ حرمین شریفین کے ائمہ یا ہندوستان کی مشہور مساجد کے ائمہ اور نمائندہ اداروں کے قراء سے کبھی یہ وقفہ نہیں سنا گیا … میں امام صاحب کی شان میں گستاخی قطعی نہیں کررہا ہوں بلکہ حقیقی صورتحال کا اظہار کررہا ہوں آپ کبھی جمعہ یہاں ادا کیجیے اور ان کی تقریر سنیے اور سورۃ الفاتحہ کی قرأت پھر میری باتوں کی ضرور تائید کریں گے..
امام صاحب کو اپنے مقتدیوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے اللہ کے رسول سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیشہ اس کی تلقین کی ہے. ” إذا صلى أحدكم للناس فليخفف، فإن منهم الضعيف، والسقيم، والكبير، وإذا صلى أحدكم لنفسه فليطول ماشاء” (متفق عليه)
ترجمه. جب کوئی شخص امامت کرے تو اسے قرأت ہلکی کرنی چاہیے، اس لیے کہ نمازیوں میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی شامل ہوتے ہیں اور جب تنہا نماز ادا کرے تو طبیعت جتنی لمبی قرات چاہے وہ کرے.
یہ تو نماز کی اندرونی حالت کا ذکر ہے…. عربی میں خطبہ سے پہلے تھکانے والی تقریر کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے اور کوئی نئی بات نہیں سننے کو ملتی وہی ڈر خوف کی باتیں اور احساس محرومی میں دھکیلنے والے وعظوں نے تو اس قوم کو اور بزدل بنادیا ہے. ان ائمہ حضرات کو فرصت کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ مطالعہ کے ذریعے اپنے علم وفہم میں وسعت پیدا کرنی چاہیے چونکہ ان کی دہری ذمہ داری ہے قوموں کی امامت کی راہیں یہیں سے نکلتی ہیں اور یہاں اگر اناپ شاپ کرتے رہیں گے تو………….
چوں کفر از کعبہ برخیزد
کجا ماند مسلمانی

Facebook Comments