اردو خبریں خاص موضوع

میں نے محسوس کیا جیسے وہ میرے سرہانے آ بیٹھی ہو…

میں نے محسوس کیا جیسے وہ میرے سرہانے آ بیٹھی ہو اس نے دھیرے سے میرے کان میں کچھ کہا اور اچانک غائب ہوگئی۔
یہ قصہ تقریباً بیس سال پہلے کا ہے جب میں اپنی والدہ کے آبائی گھر گھارو سندھ گیا تھا یہ ایک فیملی پکنک ٹور تھا جس میں ہمارے ساتھ ننہیالی خاندان کے دوسرے افراد بھی تھے جن میں خاص میرا ماموں زاد کزن شارق بھی شامل تھا
اس وقت میری عمر ١٦ اور میرے کزن شارق کی عمر ١۵ سال تھی۔ ان دنوں سفری سہولیات نا ہونے کے برابر تھیں۔ہم گھارو کے لیئے کراچی سے صبح سویرے ہی نکل گئے تھے۔کراچی سے گھارو تک کا یہ سفر ایک بڑی عوامی بس میں طے کیا۔ جو گرمی کی وجہ سے کافی طویل اور بورنگ لگ رہا تھا، ہم تقریباً ڈھلتی دوپہر تک ہی وہاں پہنچے۔
میرے قریبی احباب جانتے ہیں کہ مجھے ابتدائے عمر سے ہی ابنِ بطوطہ بننے کاشوق تھا سو میں نے وہاں کی تاریخی جگہوں کو دیکھنے کے لیئے راستے بھر اپنے کزن کے ساتھ بھرپور سیر کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ ہم جن کے گھر مھمان تھے وہ والدہ کے رشتہ کے ماموں تھے ان کا اپنا کھیت تھا، جو دریا سے کافی قریب تھا۔ہم نے انکے ملازم توصیف بھائی سے سیر کی فرمائش کی تو انہوں نے ہمیں شام تک کافی جگہوں کا سرسری تعارف کے ساتھ صرف معائنہ کرایا اور اسی دوران رات بھی ہوگئی تو کھیتوں میں جانے کا پروگرام اگلی صبح کا ٹہرا۔ میں اور میرا کزن شارق علی صبح اٹھے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق خود ہی خاموشی سے کھیت کی جانب نکل کھڑے ہوئے ابھی ہم کچھ ہی دور چلے تھے کہ ہمیں دریا کے کنارے دو خواتین مشکیزہ میں پانی بھرتی نظر آئیں ۔جو کافی پرانے دور کے لباس میں ملبوس تھیں۔ایک خاتون کی عمر ٣٠یا ٣۵سال جبکہ دوسری ١۴یا ١۵سال کی ہوگئی۔ میں اور میرا کزن ان کی پسماندہ طرزِ زندگی پر تبادلہ خیال کرتے ان کے کافی نزدیک پہنچ گئے۔
غالباً یہ دونوں آپس میں ماں بیٹی تھیں – ان دونوں نے ہمیں اتنے قریب دیکھنے کے باوجود یوں بے اعتنائی برتی جیسے انھیں ہماری موجودگی کو محسوس ہی نہیں کیا ہو

Facebook Comments