اردو خبریں خاص موضوع

سرکاری اور پرائیویٹ اسکول ٹیچرز ۔۔۔

Zaara Mazhar

chashma pakistan
=============
تین چار روز سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہے اس تصویر نے ہمیں ایک فکر انگیز تحریک دی ۔۔ سو اس تحریرکو لکھنے کا کریڈٹ بھی اسی تصویر کے نام ۔۔۔ تصویر میں سرکاری اساتذہ کی بھاری تنخواہ اور ہلکے حلیے کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ اگرچہ سرکاری اساتذہ کا اس تصویری حلیے سے کوئی تعلق نہیں لیکن موازنہ ضروری ہے ۔ ہم نے ذاتی طور پر اپنے سرکاری اساتذہ کو عمدہ ڈریسنگ کے ساتھ ہمیشہ باوقار پایا ۔۔۔ بلکہ جب ہم بچے تھے تو ہمارے ہائی سکول سٹاف کے ڈریسز انہیں برانڈ ایمبسیڈر شو کرتے تھے ۔۔۔ مسز مختار ۔۔۔ مسز سندھو ۔۔ مس حبیبہ و مس آسیہ( یہ دونوں علامہ احسان الٰہی ظہیر کی بہنیں اور مولانا ابتسام الٰہی کی پھپھیاں تھیں )۔ مکمل پردہ دار لباس پہنتی تھیں اور شہر کے پوش ایریا جات میں رہتی تھیں ۔۔۔ شہر کے ٹاپ کلاس ٹیلرز انکے ملبوسات سلائی کرتے تھے ۔ مس روح افزاء تھیں جو کسی نوابی خاندان کی آخری نشانی تھیں ۔ جنکے ویلوٹ کے سپیشل جوتے پتہ نہیں کون سا موچی بناتا تھا ۔ شہر بھر کی کسی دکان پہ دستیاب نہیں تھے ۔۔۔ انکے ہر لباس پر سونے کے بھاری بٹن اور سفید چارموم کے دوپٹے انکی فارغ البالی کی نشانی تھے ۔ مزاج اتنا دھیما کہ ہماری بڑی سے بڑی شرارت پر انکی ایک زیرلب مسکراہٹ پوری کلاس کو بت بنا دیتی ۔ چلتیں تو لگتا کہ ہائی اسکول کے طویل اینٹوں کے برآمدے پر بھی اپنا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتیں ۔ احتیاط اتنی کہ چیونٹی بھی دب جائے تو قدم اٹھتے ہی ہموار چلنے لگے ۔ لیکچر شروع کرتیں تو لان میں چہچہاتے پرندوں کی آوازیں تک سنائی دیتیں ۔ پیریڈ کے ختم ہونے کی گھنٹی ہمیں بتاتی کہ پیریڈ اتنی جلدی ختم ہوگیا ہماری آج کی اردو ان ہی سے فیضان کی مرہونِ منت ہے ۔ سرکاری سکول اور سرکاری اساتذہ عوام پر ایک نعمت ہیں ۔ یہ وہ تجربہ کار استاد ہیں جو بغیر کسی خوف اور دباؤ کے ہر طالب علم کو تھوڑی یا زیادہ یکساں توجہ اور کُٹ لگاتے ہیں ۔۔ انکو پڑھانے کا کئی سالہ تجربہ ہو چکا ہوتا ہے بچے کی شکل اور حلیہ دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں کہ بچہ کتنے پانی میں اور کس بیک گراؤنڈ سے ہے ۔۔ یہ جتنے شیدے میدے اور ساجھے گامے ہیں چار اکھڑ انہوں نے ہی سکھائے ہیں ۔ حکومت کا بار بھی یہی لوگ اٹھا سکتے ہیں ۔ سرکاری ادارے عوام میں برداشت اور تحمل کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں ۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اپنے حلیے سے قطع نظر سرکاری ٹیچرز صرف اپنی ذات پر خرچ کرنے کی بجائے اپنی فیملی کو بھی سپورٹ کر رہی ہیں جو کہ بہرحال اپنی فیملی کے ساتھ باؤنڈنگ اور خلوص کی وجہ بھی ہے ۔
پرائیویٹ اسکولز کی ٹیچرز دس ہزار پے لے کر اپنے اوپر ہی خرچ کر ڈالتی ہیں ۔ وقت اچھا گذر جاتا ہے ۔ بعض اوقات رشتے کے انتظار کا دورانیہ کٹ جاتا ہے ۔ اورجو سنجیدہ ہیں ایک تنخواہ بڑھانے کے مطالبے پر باہر کر دی جاتی ہیں یہ مافیا بہت سی خرافات کی طرح گرم لہو کو کیش کرواتے ہیں بس ۔ تنخواہ بڑھانے کی بجائے نکال باہر کرتے ہیں اور سٹاف میں پہلے سے زیادہ جوان , پہلے سے زیادہ طرح دار اور بعض اوقات پہلے سے زیادہ نا تجربہ کار ٹیچر ہائیر کر لیتے ہیں ۔ یہ پرائیویٹ اسکول ایک برگر کلچر معاشرے کی رگوں میں جاری رکھنے کا سبب بھی ہیں ۔ ہمارے پاکستانی معاشرے میں برگر کے ساتھ گڑ بڑ بھی رواں کر رہے ہیں ۔ جو اپنی نااہلیت و ناقابلیت کی بنا پر کوئی بھی معاشرتی بار اٹھانے کے قابل نہیں بن پاتے ۔۔۔ تفصیلات سے سب آگاہ ہی ہیں ۔ میرا تو مشورہ ہے اگر عوام اپنا بچہ کسی پرائیویٹ سکول میں داخل کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اسے کسی ورکشاپ میں چھوڑ آئیے تاکہ اسکے ہاتھ سیدھے ہوں اور بیس سال کی عمر میں وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے ۔ ورنہ سرکاری سکول بہترین انتخاب ہیں ۔
یہی حال سرکاری ہسپتال اور ڈاکٹرز کا ہے ۔ ہر طبقے کے مریض دیکھتے دیکھتے اتنے تجربہ کار ہو جاتے ہیں کہ چھوٹے مرض اور وائرل بیماریوں کا شافی علاج دس بیس کی پرچی پر لکھ دیتے ہیں ۔ سرکاری ڈاکٹرز عوام کی مشکلات کو سمجھتے ہیں ۔ پورے کے پورے نباض ہوتے ہیں ۔ شکل دیکھ کر مرض کی نوعیت جان جاتے ہیں ۔
جبکہ پرائیویٹ ڈاکٹر اور ہسپتال و کلینک مریض کی کھال تک کھینچ لیتے ہیں ۔ معمولی سے مرض کی بنا بڑے بڑے ٹیسٹوں کے تشخیص نہیں فرما سکتے ۔ اور وہاں بھی ایک الگ مافیا بیٹھی ہوئی ہے ۔ مریض کا حلیہ چیخ چیخ کر حالتِ زار کی چغلی کھا رہا ہوتا ہے لیکن بنا رقم کی ادائیگی کے مردہ دکھاتے تک نہیں ۔۔۔
ہمارے استاد پیغمبری کے پیشے پر ہیں اور ڈاکٹرز مسیحا ہیں ۔ ہم ہمیشہ انکے احسان مند رہیں گے ۔
دونوں موضوعات پر اکثر و بیشتر لکھا جاتا ہے ۔ ہمیشہ تفصیل مانگتے ہیں لیکن ہر جانکار ان تفصیلات سے آگاہ ہے اس لیے صرف ایک طائرانہ جائزہ پیش کیا ہے ۔
✍ ز ۔ م
5 نومبر 2020ء

Facebook Comments