اردو خبریں خاص موضوع

ہَتھ چَکّی ۔۔۔۔۔ ایک دم توڑ گئی روایت

 

Zaara Mazhar_chashma, pakistan
=========
ہَتھ چَکّی ۔۔۔۔۔ ایک دم توڑ گئی روایت
کل واہ اور ٹیکسلا کے گرد و نواح میں گھومتے پھرتے اور ہلکی پھلکی شاپنگ کرتے ایک کمال کی چیز نظر آئی ۔۔ دل بے اختیار مچل گیا لیکن صاحب نے لینے نہیں دی ۔۔۔

جی ہاں ڈھیروں آرائشی اشیاء کے ساتھ یہ ہاتھ چکی ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ شلیف پہ رکھی ہوئی تھی ۔۔۔ اب تو طرح طرح کی الیکٹریکل مشینوں نے اسکی اہمیت ختم کردی ہے ورنہ یہ گھر کی لازمی ضرورت ہوتی تھی اور بعض اوقات تو پوری گلی یا محلے بھر میں کسی ایک ہی گھر میں ہوتی تھی ۔ اور اس بھاگوان کا ویہڑا پورا دن آباد رہتا تھا ۔ کسی زمانے میں جہیز میں بھی دی جاتی تھی تاکہ بیٹی کو یاد رہے کہ اس کا کام گھر کا چولہا چوکا سنبھالنا اور بچوں کی تربیت کرنا ہے ۔ کسی وقت میں خواتین روز صبح سرگی کے تارے کے ساتھ اٹھ کر آج دن بھر کی ضرورت جتنا آٹا بھی تازہ ہی پیسا کرتی تھیں ۔ اسی ہتھ چکی پہ جَو ۔ مکئی , باجرے , اور چاول کے آٹے کے علاوہ لال مرچیں اور نمک وغیرہ بھی پیسے جاتے تھے ۔۔۔ سردی کا آغاز ہوتے ہی اس چکی کی مشقت بڑھ جاتی ۔۔۔ پنجیریوں کی دالیں بھی اسی چکی پر پستی تھیں ۔ اور قیدیوں سے مشقت کے لئیے بھی یہی چکی پسوائی جاتی تھی ۔۔ چکی کے دو برابر پاٹ ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے اور دھرے ہوتے ہیں ۔ اوپری پاٹ میں اضافی طور پر ایک ہتھی گھمانے کے لئے اور ایک بند مٹھی جتنا سوراخ ہوتا ہے جہاں سے اناج اور پیسنے والی اجناس مٹھی میں بھر کر گرائی جاتی ہیں ۔ سخت مشقت کا کام ہے ۔۔
ہمیں یوں بھی خریدنا تھی کہ چھوٹی بہن نے السی کے لڈوؤں کی فرمائش کر رکھی ہے ۔ نواحی مارکیٹ ( میری ذاتی اصطلاح ) میں دو تین آٹا چکی والوں سے پوچھا کی السی پیس دیجیے انہوں نے معذرت کر لی ۔۔۔
خیر لڈو تو ہم بنا لیں گے کہ ہماری لاڈلی کی فرمائش ہے ۔ اسی فرمائش پہ گذرے وقتوں کی بہت سی روایات بھی یاد آگئیں سوچا وقت کے قرطاس پہ بکھیر دیں تاکہ تہذیب و روایت زندہ رہ سکے ۔۔۔
✍ ز ۔ م
3 نومبر 2020ء

Facebook Comments