اردو خبریں خاص موضوع

مباشرت میں وقفہ جنسی صحت مندی کی علامت : صرف ضرورت مند حضرات ہی پڑھیں

مباشرت میں وقفہ جنسی صحت مندی کی علامت ۔

صرف ضرورت مند حضرات ہی پڑھیں

مباشرت کب اور کتنی مرتبہ کرنی چاہیے اس کے متعلق کوئی اصول نہیں بتایا جا سکتا مگر ہر کام کی زیادتی بری ہوتی ہے کبھی کوئی کام حد سے زیادہ نہیں کیا جاتا چاہیے ۔مناسب حد میں مباشرت کرنے پر طاقت صرف نہیں ہوتی اور جسمانی اور ذہنی طور پر تھکاوٹ بھی نہیں ہوتی مگر مباشرت کی زیادتی ہونے پر جسمانی اور ذہنی قوت میں کمی آ جاتی ہے ۔اور جلد ہی تکان ہو جاتی ہے اگر پوشیدہ اعضا سے ضرورت سے زیادہ کام لیا جائے گا تو خود تھک جائیں گے اور جس طرح بہت تھکے ہوئے گھوڑے کو چاہیں جتنا پیٹیں وہ اٹھے گا ہی نہیں یہی کیفیت مباشرت کی زیادتی ہے اس صورت میں مرد کا عضو تنا سل بھی سخت ہو کر کڑا نہیں ہو پاتا اور وہ انسان خود کو نا مرد سمجھنے لگتا ہے مگر یہ نا مردی تھوڑی مدت کے لئے ہی ہوتی ہے جب مرد کچھ وقفے کے بعد مباشرت کرنے لگتا ہے تو نا مردی ختم ہو جاتی ہے ۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ مباشرت کے وقفے کی حد کیا ہے صحت مند میاں بیوی کو اپنی معمول کی زندگی میں کتنی مرتبہ مباشرت کرنا مناسب ہے۔حقیقی معنی میں مباشرت کی تعداد میاں بیوی کی عمر. ان کی شادی کی مدت ان کی فطرت جسمانی قوت صحت اور قد کا ٹھی ذہنی رویہ سماجی معیار ذات پیشہ اور ما ہواری کے چکر کے ایام میں [ماہواری کے چکر سے پندرہ روز میں عورت زیادہ مرتبہ مباشرت کی خواہاں ہوتی ہے ]کا انحصار ہوتا ہے موسم مثلاً موسم بہار برسات میں ا مڈ تے بادل اور کڑ کتی بجلی موسم کی مست الست ٹھنڈک گرمیوں کی دوپہر کا آندھی طوفان اور گرمیوں میں پوری چاندنی رات کی چاندنی ایسے ماحول میں جنسی خواہش پوری کر دینے کے لئے کافی ہے ۔ان میں مباشرت کرنے کی خواہش ہوتی ہے شادی کے بعد کے ابتدائی دنوں میں مباشرت کی ہفتہ وار تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے اس کے بعد آہستہ آہستہ کم ہوتی جاتی ہے ۔45-50 کی عمر کا مرد ہفتے میں ایک اور 60-65 سال کی عمر میں مہینے میں ایک دفعہ مباشرت کرتا ہے اور عورت کو فراغت حیض کی وجہ سے مباشرت کی قطعاً خواہش نہیں ہوتی ۔میرے تجربے کے مطابق نئے شادی شدہ جوڑوں کو ایک کے بعد دوسری مباشرت کم سے کم ایک دن رات یعنی 24 گھنٹے بعد کرنی چاہیے خواہ نیا شادی شدہ جوڑا ہی کیوں نہ ہو اس سے زیادہ مرتبہ مباشرت غیر فطری تصور کی جاتی ہے ۔مگر نئے شادی شدہ جوڑے کو شادی کے بعد چند روز تک ایک ہی رات میں ایک سے زیادہ مرتبہ مباشرت کو غیر فطری نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایک مرتبہ مباشرت کرکے دوبارہ مباشرت کرنے کے لئے تیار ہونے میں مرد کو کچھ زیادہ وقت لگتا ہے اور انزال کے لئے پہلے کی نسبت زیادہ دیر تک مباشرت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا اگر بیوی پہلی مرتبہ مباشرت سے پوری طرح مطمئن نہیں ہو سکی ہے تو دوسری مرتبہ مرد کے دیر سے انزال ہونے سے بیوی کے مطمئن ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے سرعت انزال میں مبتلا کچھ مرد اس قسم کے ہوتے ہیں ۔کہ پہلی مباشرت میں اپنے عضو تنا سل کو صحیح طور پر اندام نہانی میں داخل نہیں کر پاتے اور عضو تنا سل کے اندام نہا نی میں داخل کرتے ہی انہیں انزال ہو جاتا ہے ایسی صورت میں اگر ایسا شحض دوبارہ مباشرت کرئے گا تو کا میاب ہو جائے گا کیونکہ اب روکاوٹ کی مدت بڑھ جائے گی یعنی وہ دیر سے جھڑے گا ۔جس سے اسکی بیوی کی جنسی آسودگی ہو جائے گی اور ہسٹیر یا وغیرہ کے دماغی امراض سے عاری رہے گی ایسی صورت میں ایک رات میں ایک سے زیادہ مرتبہ مباشرت کو غیر فطری نہیں کہا جا سکتا ۔

🍶HAKIM SAIFULLA QASMI

🍶: جماع میں وقفہ

۞جنسی صحت کو قائم رکھنے کا نسخہ۞ایک جماع سے دوسرے جماع میں وقفہ کتنا ہونا چاہیے جس سے قوت مردانہ میں کمی واقع نہ ہواور جب بھی جماع کیا جائے اس سے حقیقی لطف حاصل ہو حقیقی لطف حاصل ہونے سے مردکی جنسی قوت کمزور نہیں ہوتی اور عورت بھی مطمئن اور خوش رہتی ہے طبی لحاظ 3سے 7 یوم بعد جماع کرنا چاہیے 3 دن سپرمز بنتے ھیں اور 4 دن بعد تحلیل ھوکر جسم کا حصہ بن جاتے ھیں کیونکہ دن میں دو بار یا روزانہ جماع کرنے سےچند ہی روزمیں شدید کمزوری سستی اور بلڈ پریشر کا لاحق ھوسکتا ھے اور اکثر
جوڑوں کاپانی ختم ہو جاتا ہےجوانی میں گوڈے آواز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نقصان کی کسی بھی صورت تلافی نہیں ہوسکتی خلاف ورزی کرتے رہنے سے آخرکو افسوس کرنا پڑتا ہے ذیادہ منی کا اخراج بار بار نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ چیزانسانی جسم میں وافر مقدار میں نہیں بنتی طبی لحاظ 4سے 7 یوم بعد جماع کرنےسے جسم میں کسی قسم کی کمی یاں کمزوری نہیں ہوتی اورقدرتی حقیقی لطف حاصل ہوتا ہے تمام ذندگی تک مختلف امراض سے بچا جاسکتا ہے
ہمارے ہاں اکثر لوگ منی کی ماہیت یعنی nature کے حوالے سے بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ یہ گاڑھی ہے یا پتلی ، تھوڑی ہے یا زیادہ اس کا رنگ کیسا ہے وغیرہ وغیرہ – ہر آدمی کی nature کے لحاظ سے اس کی منی میں بھی فرق ہوتا ہے-اس کا مردانہ قوّت کے ساتھ ہر گز کوئی تعلق نہیں ہوتا- سواے اولاد پیدا کرنے کے منی کا اور کوئی کام نہیں ہوتا منی کے ذریے صرف نطفہ یعنی سپرمز باھر آتے ہیں جو مباشرت کے دوران عورت کے رحم میں جا داخل ہو کر حمل ٹھہراتے ہیں- اس کے علاوہ منی نطفہ کے لیے زندگی ہوتی ہے جس طرح oxygen انسانوں کے لیے ضروری ہوتی ہے- منی کو جوہر حیات کہا جاتا ہے یا منی کے ایک قطرے کو خون کی سو بوندوں کے برابر بھی کہا جاتا ہے جو کے سراسر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے- میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں اگر منی کا ایک قطرہ خون کی سو بوندوں کے برابر ہو تو ایک دن میں تین سے چار بار masturbation کرنے والا بندہ تو زندہ ہی نہ رہے- اس لیے یہ خیال بکل غلط ہے کہ منی کا ایک قطرہ خون کے سو قطروں کے برابر ہے-
جو کچھ ہم کھاتے ہیں ہم کھاتے ہیں وہ ہمارے معدے میں جا کر ہضم ہوتا ہے خوراک کا کچھ حصّہ فالتو ہو کر نکل جاتا ہے جب کے باقی کا حصّہ پہلے ایک جوس کی شکل اختیار کرتا ہے ، پھر اس سے خون بنتا ہے- خون پورے جسم میں سرکولیٹ کرتا ہے- پھر اس سے گوشت بنتا ہے پھر چربی بنتی ہے اس کے بعد ہڈی اور ہڈی کے بعد ہڈی کا گودا جو اس کے اندر ہوتا ہے وہ بنتا ہے اور سب سے آخر میں منی بنتی ہے- منی ایک لیس دار چیز ہوتی ہے جس میں ایک خاص قسم کی بو پائی جاتی ہے- اگر یہ کپڑے پر لگ جائے تو کپڑا اکر جاتا ہے – ایک بات کی مباشرت سے تقریبا بارہ گرام منی خارج ہوتی ہے- اور اس میں دو سو لاکھ sperms ہوتے ہیں یہ sperms اگر خورد بین بین سے دیکھے جاین تو سانپ کی شکل کے ہوتے ہیں اور حرکت کر رہے ہوتے ہیں ایک صحتمند آدمی کے سپرمز تیزی سے حرکت کرتے ہیں جب کے بیمار آدمی کے سپرمز آہستہ آہستہ حرکت کر رہے ہوتے ہیں اور یہ سب ہارمونز کی کمی بیشی یا خوراک کی کمی زیادتی کی وجہ سے ہو جاتا ہے اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے- اگر ایسا کبھی ہو بھی جائے توwell qualified سے ہی مشورہ کریں۔

جریان منی
مردوں کو پیشاب یا پا خانہ سے پہلے یا بعد میں ذکر penis میں سے سفید رنگ کا مادہ خارج ہوتا ہے اسے ان نیم حکیموں کی زبان میں جریان کہتے ہیں- اسے نیم حکیم بہت ہی بری بیماری کا نام دیتے ہیں جب کے ایسا کچھ نہیں ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے- حکیموں کے مطابق یہ ایک خطر ناک بیماری ہوتی ہے اور اس کا علاج کرواے بغیر شادی نہیں کی جا سکتی اور یہ مرد کو جنسی لحاظ سے کمزور تر کر دیتا ہے وغیرہ وغیرہ جب کے ان سب باتوں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے- اس کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ جب مرد پیشاب یا پا خانے کے لیے زور لگاتا ہے تو اس کے Urethral gland میں سے زور لگانے کی وجہ سے ایک سفید رنگ کا مادہ نکلتا ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں ہے میڈیکل سائنس کے لحاظ سے اس مادے کا نام نہاد جریان سے کوئی واسطہ نہیں ہے نہ ہی یہ کوئی کمزوری کی علامت ہے اور نہ ہی اسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے-

قطرے
اس کے بارے میں سب سے زیادہ حالت فہمیاں پی جاتی ہیں اور یہ نیم حکیموں کا پیسے بٹورنے کا سب سے برا اور کامیاب طریقہ کار ہے- پہلے یہ جان لیں کہ قطرے هوتے کیا ہیں ان کی حقیقت کیا ہے اور یہ آتے کیوں ہیں آپ کی ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی-

مرد کے ذکر penis میں سے ایک رطوبت خارج ہوتی ہے جو تھوڑی تھوڑی کر کے یعنی قطرہ قطرہ خارج ہوتی ہے اس لیے اسے قطرے آنا کہتے ہیں- یہ قطرے آتے کب ہیں کیا آپ نے کبھی اس کے بارے میں سوچا ہے ؟

جب کوئی مرد یا نوجوان خصوصا غیر شادی شدہ کسی سیکس کے بارے میں سوچتا ہے یا کوئی ننگی تصویر دیکھتا ہے یا کسی خوبصورت عورت یا پھر انٹر نیٹ پر ننگی سائٹس دیکھتا ہے تب اس کے ذکر میں سے سفید مادہ قطرہ قطرہ خارج ہوتا ہے اور نوجوان کو اس کے بارے میں علم نہیں ہوتا ہے اس لیے وہ ان حکیموں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو اسے ایک خطرناک بیماری بتاتے ہیں- لیکن آپ ذرا سوچیں کے یہ قطرے تب ہی کیوں نکلتے ہیں جب آپ سیکس کے بارے میں سوچتے ہیں یا کوئی ننگی تصویر دیکتھے ہیں تو اس کا جواب یوں ہے کہ قدرت نے انسان کے لیے ہر طرح سے اس کی ضروریات کی خیال رکھا ہے جب آپ کے سیکس کے بارے میں سوچتے ہیں تو ظاہر سی بات ہے اس سے اگلا عمل مباشرت کا ہی ہوتا ہے جس کی وجہ سے آپ کے ذکر سے چند قطرے خارج هوتے ہیں جو آپ کے ذکر کے اگلے حصّے کو لیس دار یا چکنا کر دیتے ہیں اور یہ اس لیے ہوتا ہے تا کے آپ کو دخول میں آسانی ہو- اور جنس مخالف یعنی آپ کی بیوی کو تکلیف نہ ہو بلکہ وہ لطف اندوز ہو سکے- جدید تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ رطوبت کسی بھی طرح سے نقصان دہ نہیں ہے-
اگر ایسا کبھی ہو بھی جائے توwell qualified سے ہی مشورہ کریں

: طالب دعا talib e duaa.
MAULANA. HAKIM. SAIFULLA. TALIB QASMI. MEERUTHI.
TALIB DAWAKHANA EEDGAH ROAD GULAOTHI BULAND SHAHAR UP INDIA
PIN 203408
M9897440400
W9058315004

Facebook Comments