اردو خبریں بھارت

*خانوادۂ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ۔۔اپنے اجدادِ کرام کے نقشِ قدم پر*

Arafat Khan
===========
*خانوادۂ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ۔۔اپنے اجدادِ کرام کے نقشِ قدم پر*
حضرت مولانا محمّد اختر رضا مصباحی -رحمہ اللہ تعالی- کے وصال کی خبر جیسے ہی خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ کے چشم و چراغ، پیر طریقت، رفیق ملت حضرت سید نجیب حیدر میاں -أطال اللہ تعالیٰ عمره- کو پہنچی، حضرت نے فوراً ہی اس ناچیز کو فون کیا اور ارشاد فرمایا:
“میں نے کچھ رقم مولانا اختر رضا مصباحی کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی ہے ان کے اہل خانہ کو آگاہ کردیں اگر کہیں ضرورت سمجھیں تو استعمال کرلیں۔”
اس کے بعد حضرت نے فرمایا کہ ان کے گھر کے کسی ذمہ دار فرد سے میری بات کرائیں۔ تاکہ میں ان کے بچوں کے لیے مستقل انتظام کرسکوں۔
حضرت کی یہ علما نوازی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ناچیز نے حضرت کا شکریہ ادا کیا تو حضرت نے ارشاد فرمایا:
“مفتی صاحب! خانقاہوں کا کام یہی تو ہے، اور ہم تو اپنا کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔”
اللہ تعالیٰ حضرت کا سایہ ہم پر دراز فرماے۔
اللہ کا شکر ہے کہ جہاں لوگ مادیت کے جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں وہیں خانقاہ برکاتیہ کے بزرگان دین اب بھی اپنے آبا و اجداد کی روش پر چلتے ہوئے رسم سخاوت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ یقیناً آپ کی علما نوازی ہی ہے کہ ایک عالم دین کی علالت کی خبر حضرت مفتی حنیف صاحب زید مجدہ کے ذریعے حضرت رفیق ملت -اطال اللہ تعالیٰ عمرہ- کی بارگاہ تک پہنچی تو حضرت نے فوراً امداد رسانی کا فیصلہ فرمایا اور فرمایا:
“مجھے ان کی حالت کی اپڈیٹ دیتے رہیں نیز مزید ضرورت پڑنے پر مطلع فرمائیں۔”
حضرت کا وہ جملہ بار بار میرے کانوں میں گونج رہا ہے جو حضرت مفتی حنیف صاحب کانپوری نے سنایا کہ حضرت نے ارشاد فرمایا:
“پیر، امیر اور غریب مرید کے درمیان کا پُل ہوتا ہے۔”
یہ جملہ اپنے اندر پیری مریدی کے سیکڑوں اصول سنجوئے ہوئے ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت رفیقِ ملت کا سایہ ہم پر دراز فرمائے۔
روشن مستقبل، دہلی کے جملہ افراد حضرت کے سراپا ممنون ہیں کہ حضرت نے ان کی درخواست پر (جو کہ گرامی قدر مفتی حنیف صاحب قبلہ کان پوری کی توسل سے حضرت تک پہنچی تھی.) حضرت نے توجہ فرمائی اور اپنی دعاؤں کے ساتھ عنایات سے بھی شادکام فرمایا۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ عزوجل خانقاہ برکاتیہ کا ستارۂ اقبال ہمیشہ بلند رکھے۔
محمد شاہد علی مصباحی
و جملہ اراکین روشن مستقبل، دہلی

Facebook Comments