اردو خبریں خاص موضوع

*آہ! حضرت محبوب عالم رحمتہ اللہ علیہ ۔۔۔*

قطب عالم حضرت محبوب عالم دنیا سے پردہ فرما گئے ۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔ یہ خبر سنتے ہی میرے حافظے میں آپ کی رفاقت میں گزرے پانچ / چھ برسوں کی سنہری یادوں پر مشتمل ایک فلم سی میرے تخئیل کی اسکرین پر متحرک ہو گئی ۔ آپ کا چہرہ پر نور اور اس میں پنہاں محصومانہ مسکراہٹوں کے ساتھ سفید شلوار قمیض اور سر پہ جناح کیپ ، یہ سب کچھ میرے خیال میں ابھر کر ایسے سامنے آیا گویا کہ وقت تھما ہی نہیں بلکہ حال سے ماضی کی طرف بہنے لگا ہو ۔ حضرت سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب میری پوسٹنگ زون “A” (سابقہ ایسٹ زون) کراچی میں ہوئی تھی ۔ سرکل میں جوائننگ کے بعد شرف باریابی کے ارادے سے میں سیکنڈ فلور پر واقع آپ کے دفتر حاضر ہوا ۔ وسیع وعریض کمشنر آفس میں داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے آسمانوں سے اتر کر انسان کے روپ میں کوئی فرشتہ سرکاری ڈاک کا مطالعہ کر رہا ہو ۔ آپ نے نظر بھر کے دیکھا اور بیٹھنے کا کہا ۔ اس دوران آپ خطوط کے مطالعہ میں مشغول رہے ۔ تاہم قدرے ٹھہر ٹھہر کر فرمانے لگے کہ سرکل کو اچھی طرح سے سمجھ لیں اور ٹیکس گزاروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں ۔ نیز ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے محنت کریں ۔
چند ہفتوں بعد آپ نے آڈٹ کے نقطہ نظر سے میرے سرکل تشریف لانے کی خواہش کا اظہار کیا تا کہ حلقے میں موجود ٹیکس گزاروں کے پوٹینشل کا ٹھیک طرح سے تخمینہ لگایا جا سکے ۔ چنانچہ میں نے چند روز میں سرکل کی گزشتہ سال اور رواں سال کی کیش بکس اور بڑے کیسز کی فہرست تیار کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دی ۔ ایک گھنٹے کے قریب جاری میٹنگ کے دوران میری بریفنگ کے حوالے سے آپ نے مختلف نوعیت کے فنی اور قانونی پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ریونیو جنریشن اور ریکوری کے چند موثر طریقہ کار پر عمل درآمد کی ہدایات جاری کیں ۔
آپ سرکاری دعوتوں اور محکمہ کے فنکشنز میں کم کم شرکت کرتے ۔ رات کے پروگراموں میں آپ کی موجودگی کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے ۔ کیونکہ عصر سے عشاء تک مسجد میں قیام کرنا آپ کی زندگی بھر کے معمولات کا اہم حصّہ رہا تھا ۔ رمضان میں اعتکاف کے دس روز آپ مسجد میں گزارتے اور عام طور پر نومبر میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لئے ہفتہ دس روز کے لئے رائے ونڈ تشریف لے جاتے ۔
آپ اعلیٰ اخلاق کا نمونہ اور بلند کردار شخصیت کے مالک تھے ۔ آپ کو کسی نے بلند آواز میں گفتگو کرتے نہیں سنا ۔ چھوٹے ، بڑے ، امیر اور غریب ، نیک و بد ، ہر ایک سے شفقت سے پیش آتے ۔ آپ غیر ضروری بحث و تکرار سے اجتناب کرتے تھے ۔ آپ ہمیشہ صاف ستھرا سفید لباس زیبِ تن کرتے تھے ۔ کسی نے آپ کو انگریزی لباس پہنے ہوئے نہیں دیکھا ۔ آپ کی خوراک سادہ تھی ۔ لنچ کے بعد ایک سیب کی کہاوت پر آپ عمل پیرا رہے ۔ لوگوں سے میل جول کے حوالے سے آپ کا اپنا ایک مخصوص رویہ تھا ۔ ایک روز میری موجودگی میں ایک وکیل صاحب نے نئے سال کی ڈائری بطور تحفہ آپ کی خدمت میں پیش کی ۔اپ نے مسکراتے ہوئے تحفہ قبول کیا ۔ میں نے تقریباً دو ہفتوں تک اس ڈائری کو حضرت کے میز پر رکھے دیکھا اور پھر ایک روز اچانک ڈائری اپنی جگہ سے غائب تھی ۔ میں نے وکیل صاحب کو خبر دی کہ ڈائری حضرت کی ٹیبل سے غائب ہے ؟ یہ سن کر وکیل صاحب ہنس پڑے اور بتایا کہ حضرت صاحب نے یہ کہہ کر ڈائری لوٹا دی کہ “میں نے آپ کا تحفہ قبول کیا تھا اب آپ میرا تحفہ قبول کریں” ۔ آپ کو دیکھ کر قرون اولیٰ کے بزرگوں کی یاد تازہ ہو جاتی ۔ آپ انسانی وجود میں پوشیدہ نفسانی خواہشات اور جذبوں پر بڑی حد تک قابو رکھتے تھے ۔ میں نے آپ کو ہمیشہ افسران کی موجودگی میں ٹیکس گزاروں سے ملاقات کرتے دیکھا ۔ حالانکہ محکمہ میں ون ٹو ون ملاقات کی روایت دیرینہ ہونے کے ساتھ تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔ آپ ایسی شخصیت کو اکبر آلہ آبادی نے خوبصورت انداز میں یوں پیش کیا ہے :
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
اس خانہ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث
سایہ ہوں فقط نقشں بہ دیوار نہیں ہوں ۔
آپ جولائی 1942 میں بھارت کے صوبہ بہار میں پیدا ہوئے ۔ تقسیم ہند کے بعد آپ کے آباؤ اجداد مشرقی پاکستان ہجرت کر گئے ۔ ابتدائی تعلیم آپ نے مشرقی بنگال میں مکمل کی ڈھاکہ یونیورسٹی سے معاشیات میں فرسٹ کلاس ٹاپ پوزیشن میں گولڈ میڈل کے ساتھ ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی ۔ محکمہ انکم ٹیکس میں ملازمت کا طویل دورانیہ عزت و احترام کے ساتھ گزارے کے بعد آپ 2002 جولائی میں ممبر انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل کے جلیل القدر عہدے سے ریٹائر ہوئے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ عرصہ تک آپ وفاقی محتسب آفس کراچی میں کنٹریکٹ پر بطور ممبر کام کرتے رہے ۔

Facebook Comments Box