اردو خبریں خاص موضوع

عاشورا کے روزے کے بارے میں جلیل القدر اکابر صحابہؓ کا فتویٰ

 ‎متفرق مسائل‎.
===============
عاشورا کے روزے کے بارے میں جلیل القدر اکابر صحابہؓ کا فتویٰ:
عاشور دس محرم کا روزہ ترک کر دیا گیا جب رمضان کے روزے واجب ہوئے!
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا علمی مقام بھی بہت بلند ہے، ان کا شمار ان صحابہ کرامؓ میں ہے جو اہل فتویٰ اور اہل قضاء سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے قرآن و سنت کا بہت علم حاصل کیا اور اللہ نے ان کو تلامذہ بھی غیر معمولی قسم کے عطا فرمائے جنہوں نے ان کے علم اور ان کی روایت کردہ احادیث اور قرآن کی تفسیر کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دیا
فقہ حنفی کی اکثر و بیشتر روایات و تعلیمات حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے نقل کردہ ہیں۔
* صحیح بخاری میں ایک روایت ذکر ہوئی ہے جس سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے کے بعد عاشور کا روزہ ترک کر دیا تھا
عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ: کَانَ یَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَیْشٌ فِی الْجَاهِلِیَّةِ، وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله علیه وسلم یَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِینَةَ صَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِیَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَکَ یَوْمَ عَاشُورَاءَ۔.
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ: زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے اور رسول خداﷺ بھی اس دن روزہ رکھتے تھے اور جب رسول خداﷺ مدینہ آئے تو بھی اسی دن روزہ رکھتے تھے اور وہ دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے، یہاں تک کہ ماہ رمضان کا روزہ واجب ہو گیا کہ اسکے بعد رسول خدا ﷺ نے عاشورا کے دن روزہ رکھنا ترک کر دیا
صحیح البخاری، ج 2، ص 250، ح 2002، کتاب الصوم، ب 69. باب صِیَامِ یَوْمِ عَاشُورَاءَ
* عاشورا کے روزہ کے بارے میں صحیح بخاری کی ایک اور روایت
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما قَالَ: صَامَ النَّبِیُّ صلى الله علیه وسلم عَاشُورَاءَ، وَأَمَرَ بِصِیَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تُرِکَ. وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ لاَ یَصُومُهُ، إِلاَّ أَنْ یُوَافِقَ صَوْمَهُ.
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلّم عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے، یہاں تک کہ ماہ رمضان واجب ہو گیا اور اسکے بعد اس دن کا روزہ رکھنا ترک ہو گیا اور حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ اس دن کو روزہ نہیں رکھتے تھے، مگر یہ کہ عاشورا کا دن اس دن ہو کہ جس دن عام طور پر وہ روزہ رکھتے تھے تو اس دن کو وہ روزہ رکھ لیتے تھے (مثلاََ روز جمعہ)،
صحیح البخاری، ج 2، ص 226، ح 1892،کتاب الصوم، باب وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ
* اہلسنت کے بہت مشہور عالم المناوی ، الإمام الحافظ زین الدین عبد الرؤوف نے روز عاشورا کے بارے میں اہلسنت کے اکابر بزرگ علما کا اور اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے
ما یروى فی فضل صوم یوم عاشوراء والصلاه فیه والانفاق والخضاب والادهان والاکتحال، بدعه ابتدعها قتله الحسین (رضی اللَّه عنه) وعلامه لبغض اهل البیت، وجب ترکه.
جو کچھ عاشورا کے دن کے روزے کی فضیلت، نماز، انفاق، خضاب کرنے، بالوں میں تیل لگانے اور آنکھوں میں سرمہ لگانے وغیرہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، وہ سب بدعت ہے کہ جسکو حضرت امام حسینؓ کے قاتلوں نے ذکر کیا ہے اور یہی باتیں انکی اہل بیت اطہار کے ساتھ دشمنی کی بھی علامت ہے کہ ان سب بدعتوں کو ترک کرنا واجب ہے۔
فیض القدیر ج 6 ص 306
ناشر دار المعرفة
* عاشورا کے روزے کے بارے میں آل رسولﷺ کا نظریہ
محمد ابن مسلم اور زراره ابن أعین نے حضرت امام باقر سے عاشورا کے روزے کے بارے میں سوال کیا تو امام باقر نے فرمایا:
کان صومه قبل شهر رمضان، فلما نزل شهر رمضان ترک.
اس دن کا روزہ رکھنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنے سے پہلے واجب تھا، لیکن جب ماہ رمضان کا روزہ رکھنا واجب ہو گیا تو عاشورا کے دن روزہ رکھنے کو ترک کر دیا گیا۔
من لا یحضره الفقیه، ج 2، ص 51، ح 224.
ایک دوسری روایت میں یہی سوال امام باقر سے کیا گیا تو امام نے فرمایا:
صوم متروک بنزول شهر رمضان، والمتروک بدعة.
اس دن کا روزہ ماہ رمضان کے روزے کے واجب ہونے کے بعد ترک کر دیا گیا اور ترک شدہ دن میں روزہ رکھنا بدعت ہوتی ہے،
حضرت امام جعفر الصادق (جو امام ابو حنیفہ کے استاد بھی تھے) سے عاشورا کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا:
ذاک یوم قتل فیه الحسین علیه السلام، فإن کنت شامتا فصم. ثم قال: إن آل أمیة علیهم لعنة الله ومن أعانهم على قتل الحسین من أهل الشام، نذروا نذرا إن قتل الحسین علیه السلام وسلم من خرج إلى الحسین علیه السلام وصارت الخلافة فی آل أبی سفیان، أن یتخذوا ذلک الیوم عیدا لهم، وأن یصوموا فیه شکرا، ویفرحون أولادهم، فصارت فی آل أبی سفیان سنّة إلى الیوم فی الناس، واقتدى بهم الناس جمیعا، فلذلک یصومونه ویدخلون على عیالاتهم وأهالیهم الفرح ذلک الیوم. ثم قال: إن الصوم لا یکون للمصیبة، ولا یکون إلا شکرا للسلامة، وإن الحسین علیه السلام أصیب، فإن کنت ممن أصبت به فلا تصم، وإن کنت شامتا ممن سرک سلامة بنی أمیة فصم شکرا لله تعالى.
یہ دن حضرت امام حسین کی شہادت کا دن ہے، اگر تم اس دن امام حسین پر ہونے والے مصائب سے راضی و خوش ہو تو اس دن روزہ رکھو۔
بنی امیہ لعنت اللہ اور اہل شام، کہ جہنوں نے امام حسین کو شہید کیا تھا، نے نذر مانی ہوئی تھی کہ اگر حُسین قتل ہو جائے اور ہمارا شامی لشکر سلامتی کے ساتھ واپس آ جائے اور مقام خلافت آل ابو سفیان کو مل جائے تو عاشورا کے دن کو خوشی کے ساتھ اپنے لیے عید کا دن قرار دیں گے اور شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امالی شیخ طوسی، ص 667، رقم‏1397 / 4.
اسی طرح حضرت امام علی رضا سے اسی بارے میں حدیث نقل ہوئی ہے کہ:
یہ دن وہ دن ہے کہ بنی امیہ اس دن روزہ رکھتے تھے، حالانکہ اس دن اسلام اور مسلمین غمگین ہوئے تھے، پس آج کے دن روزہ نہ رکھو، جو بھی اس دن روزہ رکھے گا تو آل امیہ کی طرح اسکے نصیب میں بھی جہنم کی آگ لکھی جائے گی۔
تهذیب الاحکام ، ج4، ص301، شماره حدیث 912

Facebook Comments Box