اردو خبریں خبر دنیاں

پاکستان میں منظر عام پر آنے والی ایک غیر اخلاقی ویڈیو, سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی

پاکستان میں منظر عام پر آنے والی ایک غیر اخلاقی ویڈیو میں مبینہ طور پر سابق گورنر سندھ اور نون لیگ کے رہنما زبیر عمر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مبصرین نے اسے شرمناک قرار دیا ہے۔

نون لیگ کے رہنما زبیر عمر نے مذکورہ ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔ سابق گورنر سندھ نے پیر کو اپنے ایک بیان میں اس ویڈیو کو ‘گھٹیا ترین‘

قرار دیا اور کہا کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہے، اسے شرم آنی چاہیے۔

نون لیگ کے لیے پیغام

زبیر عمر کی تردید کے باوجود اتوار کو منظر عام پر آنے والی اس ویڈیو نے ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈ میں اپنی جگہ بنائی۔ ملک کے مختلف حلقوں میں اب بھی اس ویڈیو پر بحث چل رہی ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کیونکہ نون لیگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس جج ارشد ملک کی بہت ساری ویڈیوز ہیں، اس لیے اس ویڈیو کو جاری کر کے پارٹی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ایسی ویڈیو کو جاری کرنے سے باز رہے

لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار حبیب اکرم کا خیال ہے کہ یہ ویڈیو نہ صرف زبیر عمر کے لیے ایک پیغام ہے بلکہ یہ نواز شریف اور مریم نواز شریف کے لیے بھی ایک پیغام ہے کیونکہ زبیر ان دونوں کے ترجمان ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، “کچھ ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ نون لیگ کے پاس جج ارشد ملک کی بہت سی ویڈیوز ہیں اور ممکنہ طور پر وہ انہیں جاری بھی کر سکتی ہے۔ یہ ویڈیو نون لیگ کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ ایسی ویڈیوز کو منظر عام پر لانے سے اجتناب کرے۔

حزب اختلاف کو پیغام

مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ کسی کی اس طرح جعلی ویڈیو بنا کے منظر عام پر لانا انتہائی گھٹیا ترین حرکت ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، “میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کچھ لوگ اس حد تک گر سکتے ہیں۔ اس ویڈیو کے ذریعے حزب اختلاف کی جماعتوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ اگر وہ ہمارے عزائم کی راہ میں حائل ہوئے تو ان کی بھی اسی طرح جعلی ویڈیوز منظر عام پر لائی جاسکتی ہیں۔ اس طرح کے پیغامات سن 2018 کے الیکشن سے پہلے بھی دیے گئے تھے۔” انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ویڈیو کو منظرعام پر لانے والے ذمہ داران پر مقدمہ چلایا جائے اور ان کو سزا دی جائے۔ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے بھی اسے سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کی تحت آپ نجی زندگی کے معاملات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، “سائبر کرائم کے انسداد کے لیے بنائے جانے والے قانون کی شق 20 اور 21 کے تحت کوئی بھی متاثرہ شخص متعلقہ اداروں سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آئین کی آرٹیکل 14 بھی آپ کی نجی زندگی کے معاملات کے مکمل تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ جب کہ پاکستان پینل کوڈ کی کچھ شقوں کا اطلاق بھی اس معاملے پر ہو سکتا ہے۔”

خطرناک رجحان میں اضافہ

نگہت داد کا کہنا تھا کہ اس طرح کی قابل اعتراض ویڈیو کو اپ لوڈ کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ “2016 میں جب ہم نے اپنی ہیلپ لائن قائم کی تھی تو ہمیں 16 سے تیس تک ایسی شکایت آتی تھیں جن میں بلیک میلنگ، قابل اعتراض تصاویر یا آپ سے پوچھے بغیر آپ کے مواد کو اپ لوڈ کرنا شامل تھا۔ لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کورونا کے دوران ان معاملات میں بڑی تیزی آئی ہے اور اب ہمیں اوسطا 400 سے 500 کے قریب شکایات ماہانہ موصول ہو رہی ہیں۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے علم میں نہیں کہ آیا ایسا کوئی میکنزم ہے یا نہیں جس کے ذریعےسوشل میڈیا پر سب سے پہلے کوئی ویڈیو یا قابل اعتراض تصاویر اپ لوڈ کرنے والے شخص کا پتہ لگایا جا سکے۔ “لیکن میرے خیال میں حکومت کے پاس یقیناً ایسا کوئی میکنزم ہوگا جس کے تحت وہ یہ معلوم کر سکے کہ کوئی بھی قابل اعتراض ویڈیو یا تصویر یا کوئی اور مواد سب سے پہلے کس نے اپ لوڈ کیا۔”
کیا ویڈیو سب سے پہلے اپ لوڈ کرنے والے کا پتہ لگایا جا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں حکومت کے ایک تفتیشی ادارے کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، “ہمارے پاس فی الحال ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے کہ ہم فوری طور پر پتا لگا سکیں کہ یہ ویڈیو کس نے اپ لوڈ کی۔ لیکن ہم متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اس حوالے سے تفصیلات لے سکتے ہیں۔ اس سے پہلے جب بلاگرز کو پکڑا گیا تھا تو ان کی گرفتاری سے پہلے بھی یہ پتہ چلایا گیا تھا کہ سب سے پہلے کوئی ویڈیو یا کوئی بھی پوسٹ کس نے اپ لوڈ کی۔ یقینا اگر کوئی پوسٹ فیس بک پر اپ لوڈ ہوئی ہے، تو ہم فیس بک والوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح یو ٹیوب یا دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘

Facebook Comments Box