Uncategorized

انہیں معلوم تھا !

Nighat Nasim
=================== ·
انہیں معلوم تھا !
امی جی کو معلوم تھا ۔۔۔۔ وہ جا رہی ہیں ۔۔ 29 نومبر 2014 ہفتہ کی شام میں سڈنی سے سنگاپورٹرانزٹ کے لئے پہنچنے ہی والی تھیں ۔۔
میں آنکھیں بند کئے یا سلام کا ورد دل ہی دل میں کر رہی تھی ۔۔۔ کہ امی جی آ گئیں ۔۔۔ میرے سامنے کھڑی تھیں اور ان کے پیچھے ان کی بہنوں جیسے دیورانی ہم سب کی پیاری چچی خالدہ امی جی کی اوٹ میں کھڑی مسکرا رہی تھیں ۔۔ چچی خالدہ کا انتقال دس سال پہلے رمضان کی تین تاریخ کو ہوا جب وہ روزہ رکھ کر فجر کی نماز کے لئے وضو کر رہی تھیں ۔۔۔ امی جی اس کے بعد پاکستان نہ گیئں کہ وہاں ان کی بہن خالدہ نہیں ہیں ۔
حالانکہ امی جی کی ایک ہی بڑی بہن تھیں خالہ فضل نور جو ایک عرصہ پہلے ہی وفات پا چکی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔چچی خالدہ جب بیاہ کر آئی تھیں تو بہت ہی شوخ وشنگ تھیں بننے سنورنے کی شوقین تھیں ۔۔۔ امی جی کو اللہ بخشے بڑی تائی جی اور چھوٹی تائی جی نے کہا کہ ” رقیہ یہ ہمارے ساتھ کیسے چل پائے گی ۔۔ ” میری امی جی مسکرا دیں اور کہا ” آپا جی اگر ہم نے اسے دل سے اپنا لیا تو وہ ہمارے جیسی ہو جائے گی ۔
چچی خالدہ کا اس دن سے لے کر درویشی تک کا سفر میرے سامنے ہے اور یہ بھی کہ ان کا یہ سفرامی جی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔۔۔!
ہاں ۔۔۔ میں کہہ رہی تھی انہیں معلوم تھا کہ وہ جا رہی ہیں ..اس لئے کہ وہ مجھے بتا کر گیئں کہ ” میں تیرا اور انتظار نہیں کر سکتی ۔۔۔دیکھو تو مجھے آج کون لینے آیا ہے ۔۔ ” چچی خالدہ کی خوشی دیدنی تھی ۔۔ان کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں کی چمک ماند نہ پڑی تھی ۔۔۔ امی جی کیسی خوبصورت لگ رہی تھیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔ ہشابشاش مسکراتی ہوئی آواز ۔۔۔۔ جیسے ہسپتال سے صحت پا کر گھر جانے کی خوشی ہو۔۔۔۔۔۔پھروہ دونوں چلی گیئں ۔۔۔
میں نے ان کے پیچھے جانا چاہا تو میری آنکھ کھل گئی ۔۔۔ اففف میں جہاز میں تھی ۔۔۔۔۔ سفر کے ذاویے بدل چکے تھے ۔۔۔ میرا دل شدید اداسی میں گھر گیا ۔۔۔میں جانتی تھی میری ماں نہیں رہی ۔۔پر امید تھی کہ آس بندھاتی رہی.
اور جب میں گھر پہنچی ۔۔۔۔۔۔ مجھے پتہ چلا کہ وہی گھڑی تھی ۔۔وہ پل بچھڑنے کا تھا جب امی جی نے مجھے خدا حافظ کہا تھا ۔۔۔ یوں لگا جیسے پیروں تلے زمین نہ رہی ہو اورنا سر پر آسمان ۔۔۔ دھوپ بارش میں ہم سب بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے کھڑے رہ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں دھاگہ ٹوٹ جانے سے موتی بکھر نہ جایئں ۔
صدقے اللہ پاک کے جو مرنے کے بعد انہیں کے ساتھ رکھتا ہے جس سے آپ کو محبت ہو ۔۔۔ مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ امی جی کو بھی چچی خالدہ سے اتنی ہی محبت تھی جتنی انہیں اپنی آپا رقیہ سے تھی ۔۔۔جبھی تو انہیں لینے آیئں تھیں اور کتنی خوش تھیں۔
اللہ اپنے بندوں کی زرہ برابر نیکی ضائع نہیں کرتا وہ بھلا امی جی کا حسن سلوک اور نیکیاں کیسے ضائع کر سکتا ہے ۔
جیسے خدا ایک ہے ۔۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ہیں ۔۔ قران پاک ایک ہے ۔۔جیسے نبی آخر کی آل پاک کی فضیلت پر یقین ہے اسی طرح مجھے پکا یقین ہے کہ امی جی جنت کے محلوں اور باغوں میں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ چچی خالدہ کو دس برس کی کہانی بھی تو سنانی تھی ۔۔۔۔اب تو ان کے پاس چچی خالدہ کی بڑی بہن آنٹی زرینہ بھی جا ملی ہیں ۔۔۔۔ دھیما دھیما بولنے والی آنٹی جی مسکرا رہیں ہونگی جیسے جب تینوں مل کر ہم سب بچوں سے بے خبر ہو جاتی تھیں ۔
اللہ پاک میری امی جی کو، چچی خالدہ کو ، آنٹی زرینہ کو ۔۔اور ہم سب کے خاندان کی وہ تمام ہستیاں جوآج ہم میں نہیں ہیں انہیں اپنی بہت بہت رحمتوں میں رکھے ۔
الہی آمین!
ڈاکٹر نگہت نسیم
(تصویر میں نیلے کپڑوں میں آنٹی زرینہ ، بیچ میں امی جی اور ان کے ساتھ چچی خالدہ ہیں ۔۔۔ یہ تینوں میری مایئں ہیں اور میں وہ خوش نصیب ہوں جس کے حصے میں ان تینوں کی سب سے زیادہ قلبی رفاقت اور محبت آئی )

https://teesrijungenglish.com/wp-admin/post.php?post=23758&action=edit

Facebook Comments Box