Uncategorized

ذرا غور کیجئے!

Rashid Shaz

ذرا غور کیجئے! کیا یہ حقیقت نہیں کہ منگول حملہ آور جب عباسی خلیفہ کی علامتی روحانی ہیبت کے سبب بغداد میں داخلہ سے گریزاں تھے اس وقت اس سنّی خلافت کا چراغ گل کرنے کے لیے انھیں ایک شیعی عالم نصیر الدین طوسی کی ترغیب و ترہیب حاصل تھی اور اسی طرح قلعۂ الموت میں جب فاطمی خلافت کی باقیات کو منگول تباہ کرنا چاہتے تھے تو انھیں ایک سنی عالم علاء الدین عطا ملک جوینی کی معیت اور حمایت حاصل تھی۔ چوتھی صدی ہجری سے، جب ہم مختلف خانوں میں بٹ گئے، اور جب ہمارے ہاں بیک وقت متبادل خلافتیں قائم ہو گئیں ہماری قوتوں کا بڑا حصہ اپنے فرقہ کے استحکام اور دوسرے فرقوں کی بیخ کنی پر صرف ہوتا رہا۔ کیا ہم اس تاریخی حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ عہد فاطمی میں جامعہ ازہر کی دینی درسگاہ کے قیام کے بعد جسے فاطمی مسلک کی ترویج و اشاعت کے لیے قائم کیا گیا تھا، ہمارے ہاں شرعی علوم کے نام پر جتنی بھی درسگاہیں قائم کی گئیں وہ ابتداً فاطمیین کا زور توڑنے کے لیے سیاسی مصالح کے تحت قائم ہوئی تھیں۔ اسمٰعیلی یا فاطمی اسلام کے مقابلے میں نظامیہ بغداد کے مدرسے وجود میں آئے، خانقاہوں اور تکیوں کو ہوا دی گئی اور اس طرح چوتھی صدی ہجری سے عالم اسلام میں علمِ دین کے نام پر سیاسی اور مسلکی فرقہ بندی کے کارخانے قائم ہو گئے۔ فاطمی اور عباسی خلافتیں تو اپنے زوال کے سبب تاریخ کے صفحات میں غائب ہو گئیں البتہ اس عہد میں ظہور پذیر ہونے والی فرقہ بندی اور مسلکی و فقہی شناخت سے آج تک ہمارا پیچھا نہ چھوٹ سکا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ گزرے وقتوں کے ساتھ دین کی یہ منحرف تعبیرات فرقہ بندی اور گروہی تعصب کو مسلسل فروغ دیتی رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اب اس امت میں ڈھونڈھے سے بھی ایسے لوگ نہیں ملتے جو یہ کہنے کی جرأت کرتے ہوں کہ وہ صرف اور صرف مسلمان ہیں۔ شیعہ، سنی، اسماعیلی، اباضی، علوی، دروزی اور ان جیسی دیگر غیر اسلامی شناختوں سے ان کا دامن یکسر پاک ہے اور یہ کہ وہ کسی ابو حنیفہ یا کسی شافعی پر ایمان نہیں لائے ہیں۔

راشد شاز کی کتاب ”متحدہ اسلام کا منشور“ کے صفحات 14 اور 15 سے اقتباس

Facebook Comments Box