اردو خبریں خاص موضوع

اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ : ایسا تو نہیں کہ وہ ہمارے جذبہ جہاد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں؟’

Rashid Shaz
==============
چند سال بعد جاڑے کی ایک سرد شام کا قصہ ہے۔ میں چند احباب کے ساتھ پشاور کے ایک ریستوران میں بیٹھا تھا، گفتگو جہادِ افغانستان پر چل رہی تھی تبھی ایک صاحب نے یہ کہہ کر مجھے چونکا دیا کہ روسی اثرات کے علاقوں میں امریکی خفیہ ایجنسی قرآن مجید کی ترسیل و اشاعت میں غیر معمولی دلچسپی لے رہی ہے۔ پہلے تو یہ بات میری کچھ سمجھ میں نہ آٸی، لیکن جب ان صاحب نے مزید تفصیل بتاٸی کہ ازبک زبان میں قرآن مجید کے تراجم بڑے پیمانے پر چھاپے جا رہے ہیں۔ امریکی ماہرین جنگ کا خیال ہے کہ اس طرح سوویت یونین کے اندرونی علاقوں میں وہ جہاد کی منتقلی میں کامیاب ہو جاٸیں گے۔
‘ایسا تو نہیں کہ وہ ہمارے جذبہ جہاد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں؟’
بولے: استعمال تو دراصل ہم انھیں کر رہے ہیں۔ اب تم دیکھنا! پیسہ ان کا، ساز و سامان ان کا، ٹیکنالوجی ان کی اور وہ اس بات پر مجبور ہیں کہ روسیوں کے مقابلے میں ہماری مدد کریں۔ انھیں اندازہ ہے کہ سرخ فوج کا راستہ ہم ہی روک سکتے ہیں۔ وہ قرآن مجید کا مقامی ازبک ترجمہ خوشی خوشی بانٹ رہے ہیں تاکہ جہاد کی یہ آگ سوویت یونین کے اندرون تک پہنچ جاٸے۔
یہ سب سن کر میری تشویش میں اور بھی اضافہ ہوا، میں نے پوچھا: کہیں ایسا تو نہیں کہ اسلامی تحریک جو مدت سے ایک آزاد ریاست کا خواب دیکھ رہی ہے اور جو اس مقصد کے لیے بڑی سے بڑی قربانیوں کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کرتی رہی ہے، وہ امریکی استعمار کے ہاتھوں نفسیاتی اور جذباتی طور پر ہاٸی جیک ہو رہی ہے اور ہمیں جوشِ جہاد میں اس بات کا اندازہ نہیں ہو رہا ہے، ورنہ امریکیوں کو بھلا قرآن مجید کی اشاعت میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔
بولے: ارے بھٸی خدا جس سے کام لے اور جسے چاہے اپنی کتاب کی تحمیل کا شرف بخشے۔
بجا فرمایا مگر یہاں معاملہ تحمیل کا نہیں ہے۔ یہ بات آپ کیوں بھولے جاتے ہیں کہ امریکیوں نے کتاب کو قبول نہیں کیا ہے، وہ تو اپنے سرمایہ دارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ہمارے جذبہ جہاد کا استعمال، بلکہ کہہ لیجیے کہ استحصال کر رہے ہیں۔ انھیں اندازہ ہے کہ مسلمان شوقِ شہادت میں جان دے سکتا ہے، انھیں قرآنی آیات شہادت پر مہمیز کرتی ہیں اس لیے ازبکستان کے اسٹریٹجک علاقوں میں جہاں عرصہ سے مسلمانوں پر خوابیدگی طاری ہے وہ قرآن مجید کے تراجم کے ذریعہ زندگی کی روح پھونکنا چاہتے ہیں۔ مگر ان سب کے پیچھے اصل مقصد کسی نظامِ انصاف کا قیام نہیں بلکہ امریکی استعمار کے تفوق اور اس کی فتح کا داعیہ ہے۔
بولے: یہ بات تو وقت بتاٸے گا کہ کس نے کس کو استعمال کیا، ہمارے پاس سردست اس کے علاوہ اور چارہ ہی کیا ہے کہ امریکیوں کی اس فیاضانہ مدد کو پوری خوش دلی اور جذبہٕ تشکر کے ساتھ قبول کریں۔
”راشد شاز، لایموت، ص152“

Rashid Shaz
==============
محمد رسول اللہ کے ایام و آثار اور مہبطِ وحی کی حیثیت سے آپ(ص) کے ارد گرد کا زمان و مکاں یقیناً انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ البتہ حضرت موسیٰ یا حضرت مسیح یا دیگر زمانی، مکانی اور قومی پیغمبروں کے برعکس آپ(ص) کی رسالت کا دائرہ کار ”العالمین” اور آخری رسول کے حوالے سے مدت کار تاقیامت ہے۔ ایک ایسا پیغمبر جو ”کافۃ للناس” ہو اور جس کا منصب بشیر و نذیر اسے تاریخ کے آخری لمحے تک برسرِ پیکار بتاتا ہو، ایک ایسا رسول اگر زمان و مکاں کی حد بندیوں میں محض ایک تاریخی کردار کے طور پر ابھرے یا اس کے ارد گرد کے تہذیبی مظاہر کی اس کے اسوہ یا سنّت پر چھاپ بتائی جائے تو اس کے ماورائے تاریخی مشن پر سوالیہ نشان لگ جانا عین فطری ہے۔ پھر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایام و آثار کو تاریخ یا تقدیسی تاریخ کا درجہ دے کر اسے ہم اپنے لئے خواہ لائق اتباع سمجھیں یا اسے ایک precedent کی حیثیت سے پڑھنے کی کوشش کریں، ان دونوں صورتوں میں تاریخ کی سطح پر ایامِ رسول میں ہماری واپسی ممکن نہیں۔ ایام رسول کو وحی کا مماثل سمجھا جائے یا اسے محض تاریخ قرار دیا جائے، جذبے اور تخیل ہر دو سطح پر ہم زیادہ سے زیادہ جو کچھ کر سکتے ہیں وہ صرف یہ کہ تاریخ کی چھلنیوں سے چھن کر آنے والی معلومات پر اپنے ایقان کی مہر ثبت کر دیں۔ البتہ جو لوگ محمد رسول اللہ کو ایک زمانی اور مکانی پیغمبر سے کہیں زیادہ حال اور مستقبل کے پیغمبر کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں، ان کے لئے لازم ہوگا کہ وہ ان ایام و آثار کو تاریخ کے انسانی perception اور ماخذ کے بجائے وحی قرآنی سے رجوع کریں جہاں آپ(ص) کے ایام و آثار جا بہ جا sparks of authentic history کی حیثیت سے بکھرے پڑے ہیں۔ ایک ایسی تاریخ جس پر fossilized information سے کہیں زیادہ مستقبل کے اعلامیہ کا گمان ہوتا ہے۔
متبعینِ مسیح کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایام اور آثار میں وحی ربانی کو تلاش کریں۔ البتہ ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم وحی ربانی میں ایام و آثارِ محمدی کا ارتکاز دیکھ سکیں۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اول الذکر تاریخ کے ذریعے وحی کی دریافت کی ایک انسانی کوشش ہے جبکہ ثانی الذکر وحی کے توسط سے ایام و آثار کی تجلیوں کا ایک لازوال اور مصدقہ وثیقہ۔ اہل ایمان کے لئے ایام و آثار کی معلومات اور اس کے تخلیقی وژن کا طریقہ کار اس لئے اہم ہے کہ زندگی کے جملہ معاملات میں وحی ربانی کی نگرانی میں اسوہء رسول ہمارا واحد رہنما ہے۔ البتہ اس اسوہ کی تلاش میں وحی کے مصدقہ ماخذ کی بجائے تاریخ کے انسانی تصدیقی اصول کی اتباع نامناسب ہوگی۔ ایسا اس لئے بھی کہ تاریخ کو تاریخ کے ذریعہ re-create کئے جانے کا عمل نہ صرف یہ کہ اصولِ تاریخ کی پرخطر وادیوں سے عبارت ہے بلکہ ایامِ رسول کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر ہم پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی اصولِ تاریخ یا تاریخی بیان میں یہ قوت نہیں کہ وہ ایام رسول کو اس کی تمام تر ابعاد کے ساتھ ہمارے دل و دماغ پر منکشف کر سکے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ تاریخ بہرحال تاریخ ہے جسے مصدقہ وحی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ ثانیاً کسی تاریخ نویسی میں یہ وسعت نہیں ہو سکتی کہ وہ 23 سالہ پیغمبرانہ شب و روز کو جس کا ایک ایک لمحہ زمانوں کے ابعاد پر مشتمل ہو، اسے تمام تر تفصیلات، جزئیات اور ماحولیاتی کیفیت کے ساتھ رقم کر سکے۔ سیر و تاریخ کی ضخیم و حجیم کتابیں زیادہ سے زیادہ بعض اہم یا نسبتاً اہم واقعات کا گوشوارہ بناتی ہیں۔ لیکن 23 سال کی جلوہ سامانیوں میں کون سا لمحہ اہم تھا اور کون سا غیر اہم، اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ تاریخ کے ذریعہ تاریخ کو re-create کرنے کا عمل زیادہ سے زیادہ ہمیں جو کچھ فراہم کر سکتا ہے وہ ایامِ رسول کا ایک مجمل، مبہم، ناقص ریکارڈ اور بس۔ پھر ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ ہم ایام اور آثار اور اسوہء رسول کو تاریخ کے بجائے قرآن کے ذریعہ متصور کرنے کی کوشش کریں۔ جو یقیناً ایک ایسی کتاب ہے جہاں نہ صرف یہ کہ محمد رسول اللہ کے شب و روز اپنی تمام تر ابعاد کے ساتھ جلوہ گر ہیں بلکہ انبیائے سابقہ کے منور لمحوں کا بیان اور وحی سابقہ کی تجلیاں بھی بڑی حد تک یہاں مرتکز ہو گئی ہیں۔ اسوہء رسول کے ایک لازوال اور مصدقہ ماخذ کی موجودگی کے باوجود انسانی تاریخ پر غیرمعمولی انحصار سے خطرہ اس بات کا ہے کہ ایک ماورائے تاریخ پیغمبر کی شخصیت کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ کے انسانی قالب میں اوجھل ہو جائے۔ قرآن مجید کی غیرمحرف موجودگی اور رسول اکرم کے مشن کی عالمی اور بےزمانی حیثیت ہم سے اس بات کی طالب ہے کہ ہم اممِ سابقہ کی طرح اپنے رسول کے ایام و آثار کو تاریخ کے بجائے ماورائے تاریخی انداز سے پڑھنے کی کوشش کریں اور ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم مدینۃ الرسول کی زمانی اور ماحولیاتی تجسیم کو تاریخ سے کہیں زیادہ Archetypal History کی حیثیت سے دیکھ سکیں ورنہ اممِ سابقہ کی طرح ہمارے یہاں بھی اسوہ کی تلاش کا عمل محض ایک تاریخی مطالعہ بن کر رہ جائے گا۔ ایک ایسی تاریخ جو اپنی تصدیق کے لئے اپنے ہی جیسے کمزور ماخذ یعنی تاریخ کی محتاج ہوتی ہے۔
”راشد شاز، ادراک زوال امت، جلد اوّل، ص197′

Facebook Comments Box