اردو خبریں خاص موضوع

مسلم معاشرے کی آدھی قوت معطل ہو گئی : ان سے جدید دنیا کا مستقبل وابستہ ہے

Rashid Shaz
==============
اسلام کو عہد وسطیٰ کے تہذیبی و نفسیاتی قالب میں مجسم دیکھنے کا نتیجہ یہ ہے کہ امت محمدیہ کے درون خانہ بحث و مباحثے (Muslim Discourse) بڑی حد تک جدید دنیا سے غیر متعلق ہو کر رہ گئے ہیں۔ وہ مسائل جن پر ہمارے یہاں صدیوں سے بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے نہ تو بین المللی آفاقیت کے حامل ہیں اور نہ ہی ان سے جدید دنیا کا مستقبل وابستہ ہے۔ امت محمدیہ کے علمی حلقے، فقہاء کی مجلسیں اور دینی رسالوں کے صفحات ابھی ان بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں کہ ایک مجلس میں دی گئیں تین طلاقیں معتبر ہیں یا نہیں؟ مسلم عورت کو کشفِ وجہ کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ فوٹو گرافی حلال ہے یا حرام؟ اور یہ کہ ٹیلی وژن کے پردوں پر ابھرنے والی تصویر عکس ہے یا صورت گری؟ ان داخلی مباحث پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کسی ایسی امت کے موضوعات نہیں ہو سکتے جسے اقوامِ عالم کی سیادت پر فائز کیا گیا ہو۔ بھلا جو لوگ اقوامِ عالم کو درپیش مسائل سے منہ موڑ کر صدیوں سے ان مسائل میں الجھے ہوں جن سے دوسری اقوام کو نہ کوئی دلچسپی ہو اور نہ ہی جن سے دنیا کا مستقبل وابستہ ہو ان کا مقام تاریخ کا trash-can تو ہو سکتا ہے سیادت کا اسٹیج نہیں۔ پرانا طرز فکر اور پرانا دماغ کسی نئی ابتداء کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ جب تک ہم دماغ کو متحرک کرنے پر آمادہ نہ ہوں ہمارے لئے اپنے مختلف الابعاد زوال کا صحیح ادراک کرنا بھی مشکل ہو گا۔ تدبر، تفکر اور تعقل کی قرآنی دعوت ایک ایسے ذہن کی تشکیل میں ہماری مدد کر سکتی ہے جو خود اعتمادی کے ساتھ اپنے بنیادی وظیفے میں لگ سکے۔ اگر ایسا ہو سکا تو ہم بآسانی اس نکتہ کو سمجھ سکیں گے کہ اکیسویں صدی میں پیش آنے والے مسائل کو ماضی کے فقہاء نے ہمیشہ کے لئے فیصل نہیں کر دیا ہے اور یہ کہ وحی ربانی کی لازوال تجلی جس طرح پچھلی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہی ہے آج بھی ہماری رہنمائی کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دے سکتی ہے۔
”راشد شاز، مسلم ذہن کی تشکیل جدید، ص69”

Rashid Shaz
===============
مسلم معاشرے میں عورت کے حاشیہ پر آ جانے یا اسے غیر قرآنی اور غیر اسلامی پردے کے نام پر سماجی زندگی سے بے دخل کر دینے سے نہ صرف یہ کہ مسلم معاشرے کی آدھی قوت معطل ہو گئی بلکہ جن اہل ایمان مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا باہم رفیق ہونا چاہیے وہ ایک دوسرے کے متحارب ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے برسر منبر سماجی مصالح کے پیش نظر یہ فیصلہ لینا چاہا کہ مہر کی رقم اتنی کر دی جائے جسے عام آدمی بآسانی ادا کر سکے تو ان کے اس فیصلہ کو ایک اعرابی عورت نے چیلنج کر دیا، وہ کوئی معروف صاحب علم عورت نہیں تھی تاریخ کی کتابوں میں صرف یہ لکھا ہے کہ وہ ایک چپٹی ناک والی عورت تھی، اس کا کہنا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں مہر کے حوالے سے قنطار من الفضۃ والذھب کا تذکرہ کیا ہے تو اے عمرؓ تمہیں اس بات کا حق کہاں سے حاصل ہو گیا کہ تم اس حق سے عورتوں کو محروم کر دو جسے اللہ نے ہمارے لیے روا رکھا ہے، کہا جاتا ہے کہ اس قرآنی دلیل کے آگے حضرت عمرؓ نے اپنے سوچے سمجھے فیصلے کو فی الفور واپس لے لیا اور اس بات کا برسر مجلس اعتراف بھی کیا کہ عمر سے غلطی ہوئی جبکہ ایک عورت بات کو پا گئی، قرن اول میں قرآن مجید مسلمانوں کے درمیان آخری فیصلہ کرنے والی کتاب تھی جس کے آگے عامی اور دانشور علماء اور عوام سب اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں، یہ بات تسلیم کی جاتی تھی کہ خلیفہ وقت کی قرآن فہمی پر ایک بدوی عورت سوالیہ نشان لگا سکتی ہے، مسلم معاشرہ میں بدوی عورت کا یہ علامتی کردار جب تک زندہ رہا عورت کے سماجی رول یا اس کے حقوق پر مصالح امت کے نام سے روک لگایا جانا ممکن نہ ہوا۔ قرن اول کے مسلم معاشرے میں حضرت عائشہ ؓ کی ذات ایک عالمہ اور مفکرہ کی حیثیت سے تو خیر جہاں خصوصی امتیاز کی حامل تھی وہیں مدینہ میں ایسی صاحب رائے مسلم خواتین بھی موجود تھیں جن سے حضرت عمرؓ نے خلیفہ ثالث کے انتخاب کے لیے پینل بناتے وقت مشورہ طلب کرنا ضروری جانا۔ پھر آج اگر کچھ لوگ دین کے حوالے سے عورتوں کو الکشن کے عمل سے دور رکھنے، ان کی نمائندگی یا حق رائے دہندگی کے سلسلہ میں شبہات کے شکار ہوں تو ان کے بارے میں اس کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ ہماری تاریخ اور اس قرآنی ثقافت سے ناآشنا ہیں جن کے سطحی حوالوں کے بغیر ان کی کوئی گفتگو مکمل نہیں ہوتی، علماء سے اپنی حق تلفی کی شکایت کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم خواتین قرآن کے تازہ بہ تازہ مطالعہ کی اس روایت کو زندہ کریں جس کے زیراثر ایک اعرابیہ حضرت عمر کی قرآن فہمی پر سوالیہ نشان لگا سکتی ہے، کہ جب تک مسلم معاشرے سے چپٹی ناک والی عورت غائب رہے گی نہ تو عورتوں کو ان کا گم شدہ سماجی رول واپس مل سکتا ہے اور نہ ہی مسلم معاشرے کو اس کی نصف مفلوج شدہ توانائی واپس مل سکتی ہے۔
”راشد شاز، مستقبل کی بازیافت“

Facebook Comments Box